آئل ریفائنریز 6 ارب ڈالر کے اپ گریڈیشن معاہدوں پر آئندہ ماہ دستخط کیلئے تیار
- وفاقی وزیر پیٹرولیم سے پاکستان کی 5 آئل ریفائنریز کی انتظامیہ کی ملاقاتیں
پاکستان کی پانچ آئل ریفائنریوں نے اپ گریڈیشن معاہدوں پر پیش رفت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جس سے 6 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہونے اور یورو 5 معیار کے مطابق مقامی سطح پر ایندھن کی پیداوار ممکن ہونے کی توقع ہے۔ اس اقدام سے درآمدی پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم کے مطابق تمام ریفائنریز ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت معاہدوں پر دستخط کے لیے تیار ہیں۔ پانچوں ریفائنریز کے معاہدوں پر آئندہ ماہ کے آغاز میں دستخط متوقع ہیں۔ ریفائنری اپ گریڈیشن سے 6 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری متوقع ہے۔
یہ پیشرفت وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی پاکستان کی پانچ آئل ریفائنریوں، پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو)، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل)، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (این آر ایل)، سینرجیکو اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل) کی انتظامیہ کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد سامنے آئی۔
جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقاتوں میں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد کی پیشرفت، ریفائنریوں کی مالی اور آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لینے کے علاوہ پاکستان کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
پانچوں ریفائنریوں کی انتظامیہ نے ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا، توقع ہے کہ یہ معاہدے آئندہ ماہ کے اوائل میں طے پاجائیں گے۔ ان معاہدوں سے پاکستان کے ریفائننگ شعبے میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن ملک کے ریفائننگ شعبے کی طویل مدتی پائیداری کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ اپ گریڈیشن سے ریفائنریوں کو پاکستان میں یورو 5 معیار کے مطابق ایندھن تیار کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ ان مصنوعات کی مقامی سطح پر پیداوار سے درآمدی پٹرول و ڈیزل پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی جبکہ درآمدی مصنوعات کے مقابلے میں ان کی قیمتیں بھی کم ہونے کا امکان ہے۔
علی پرویز ملک نے زور دیا کہ اپ گریڈیشن پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے معاہدوں پر بروقت دستخط ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسی پر عملدرآمد سے متعلق کسی بھی مسائل کے حل میں ریفائنریوں کو مسلسل سہولت فراہم کرتی رہے گی۔
پارکو کی انتظامیہ کے ساتھ ایک الگ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پٹرولیم کو کمپنی کی مالی اور آپریشنل کارکردگی کے علاوہ پاکستان کی توانائی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس کے وسیع تر منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران اپنے آپریشنز مؤثر انداز میں چلانے پر پارکو کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بحران سے کامیابی سے نمٹتے ہوئے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کے نظام کو متاثر نہیں ہونے دیا۔انہوں نے زور دیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنا اور مضبوط و مؤثر سپلائی چینز تشکیل دینا پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کے لیے بدستور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
پارکو نے وزیر پیٹرولیم کو حب میں مجوزہ آئل سٹی کے حوالے سے جاری پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ آئل سٹی منصوبے کا مقصد توانائی سکیورٹی کو مضبوط بنانا، تجارتی روابط بہتر کرنا اور معاشی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔
پی آر ایل میں ہونے والی ایک الگ ملاقات کے دوران منیجنگ ڈائریکٹر، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور انتظامیہ نے وفاقی وزیر کو کمپنی کی موجودہ مالی اور آپریشنل کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی۔ انتظامیہ نے وفاقی وزیر کو آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران ریفائنری کے آپریشنز کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
سینرجیکو، این آر ایل اور اے آر ایل کی انتظامیہ کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں میں وفاقی وزیر پٹرولیم نے متعلقہ منیجنگ ڈائریکٹرز سے نئی ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد میں درپیش کسی بھی رکاوٹ کے بارے میں ان کی رائے طلب کی۔
متعلقہ منیجنگ ڈائریکٹرز نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ ان کی کمپنیوں نے مطلوبہ تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور اب وہ معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں جو پالیسی پر عملدرآمد کی جانب پہلا قدم ثابت ہوں گے۔
اے آر ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر نے عالمی سطح پر بدلتی صورتحال اور ایندھن کے ارتقا پذیر معیارات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے موجودہ ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے وفاقی وزیر پٹرولیم کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم شعبے میں اہم اصلاحات کو آگے بڑھانے میں وزارت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی ریفائننگ صلاحیت کو جدید بنانا نہ صرف پٹرولیم مصنوعات کے معیار اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہے بلکہ مقامی سپلائی کو مستحکم کرنے، درآمدی پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم کرنے اور ملک کے وسیع تر توانائی سلامتی کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بھی ضروری ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نئی ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے اور ریفائننگ شعبے کی جدید کاری کے لیے درکار سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ریفائننگ صنعت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم پر قائم ہے۔


Comments