ٹرمپ کی بھاری فیس کی تجویز، بھارتی آئی ٹی ادارے کی امریکا سے ایچ ون بی ویزا کے فوائد مدنظر رکھنے کی اپیل
- ایک لاکھ ڈالر سے زائد ایچ ون بی ویزا فیس کی تجویز پر ناسکام کو تشویش، ادارے نے امریکی ہنرمند افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے میں پروگرام کی اہمیت اجاگر کردی
بھارت کی ٹیکنالوجی صنعت کی نمائندہ تنظیم ناسکام نے منگل کو امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کے ذریعے ہنرمند افرادی قوت کی کمی پوری کرنے میں اس کے کردار کو مدنظر رکھے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے نئے ویزوں پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔
ناسکام نے مزید کہا کہ بھارتی آئی ٹی کمپنیوں میں ایچ ون بی ویزا رکھنے والے ملازمین کی تعداد گزشتہ پانچ برس کے دوران نمایاں طور پر کم ہوئی ہے، کیونکہ ان کمپنیوں نے امریکا میں مقامی افرادی قوت کی بھرتی بڑھا دی ہے۔
صنعتی تنظیم نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پیر کو انتہائی ہنرمند غیرملکی کارکنوں کے لیے نئے ایچ ون بی ویزوں پر 1 لاکھ 3 ہزار 265 ڈالر کی غیرمعمولی فیس عائد کرنے کے لیے مجوزہ ضابطہ جاری کیے جانے کے بعد وہ تمام اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ ’’فعال طور پر رابطے میں‘‘ ہے۔
اس پروگرام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ متعدد کمپنیاں اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے امریکی کارکنوں کی جگہ کم اجرت پر غیرملکی افرادی قوت کو ملازمت دیتی ہیں۔
ناسکام نے اپنے بیان میں کہا، ’’ایچ ون بی ویزا پروگرام نے طویل عرصے سے امریکا میں ہنرمند افرادی قوت کی قلیل مدتی کمی پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘
بھارت کے 315 ارب ڈالر کے آئی ٹی شعبے کو گزشتہ برس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایچ ون بی ویزا پر پہلی مرتبہ فیس عائد کیے جانے کے بعد امریکی منصوبوں کے لیے ہنرمند افرادی قوت کو باری باری بھیجنے کی کئی دہائیوں پرانی حکمتِ عملی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرنا پڑی۔
تاہم جون میں بوسٹن کی ایک امریکی ضلعی عدالت نے یہ اقدام کالعدم قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ یہ ایک غیر قانونی ٹیکس کے مترادف ہے، جس کی منظوری کانگریس نے نہیں دی تھی۔
ناسکام نے کہا کہ بھارتی آئی ٹی صنعت نے امریکی ایس ٹی ای ایم شعبے میں ہنرمند افرادی قوت کی فراہمی مضبوط بنانے کے لیے جامعات کے ساتھ شراکت داری اور امریکی کارکنوں کی مہارتیں بہتر بنانے کے پروگراموں کے ذریعے 1.1 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ہے۔
تنظیم نے کہا، ’’لہٰذا ویزا فیس میں مجوزہ اضافے کو اس پروگرام کے بنیادی مقصد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جس کا مقصد امریکا میں جہاں ہنرمند افرادی قوت کی کمی ہو وہاں عارضی بنیادوں پر مطلوبہ مہارتوں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔


Comments