بڑھتی پرنٹنگ لاگت : اسٹیٹ بینک کا 10 روپے کا نوٹ ختم کرنے پر غور
- نئے کرنسی نوٹوں کو گردش میں لانے میں ایک سال درکار ہوگا، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) بڑھتے ہوئے طباعتی اخراجات کے باعث 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ مرکزی بینک کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا۔
ایس بی پی کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے کمیٹی کے اجلاس میں یہ انکشاف کیا۔ کمیٹی نے کرنسی کی سیکیورٹی، پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (پی آر آئی)، غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور کمپنیوں کی مبینہ دھوکا دہی سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا۔
ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ مرکزی بینک نے 10 روپے کا نوٹ ختم کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم اس مالیت کے نوٹ کو ختم کرنے کا عمل نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کے بعد شروع ہوگا۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے نوٹوں کو گردش میں لانے میں تقریباً ایک سال درکار ہوگا، جبکہ 5 ہزار روپے کے ایک نوٹ کی طباعت کی لاگت تقریباً 14 روپے ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے 5 ہزار روپے کے تین کرنسی نوٹوں کا معاملہ بھی اٹھایا، جو تقریباً دو سال قبل تصدیق کے لیے اسٹیٹ بینک کو جمع کرائے گئے تھے، تاہم مرکزی بینک کے جواب کا انتظار ہے۔
ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ موجودہ 5 ہزار روپے کا نوٹ 2005 میں متعارف کرایا گیا تھا اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث جعلی نوٹ بنانا آسان ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے نوٹ کے ڈیزائن کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا تھا، جس میں چار بولی دہندگان نے حصہ لیا۔ کنسلٹنٹ فرم کو ٹھیکہ دیا گیا ہے جو مطلوبہ تبدیلیاں شامل کر رہی ہے، جس کے بعد ڈیزائن کی وفاقی حکومت سے منظوری لی جائے گی۔
کمیٹی کے چیئرمین نے اسٹیٹ بینک کو بولی کے عمل کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور جعلی کرنسی کی گردش پر تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان نے کرنسی ڈیزائن کی منظوری کے عمل کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ معمولی ترامیم کے لیے بار بار فائلیں واپس بھیجنے اور غیر ضروری تاخیر سے بچا جاسکے۔
رواں سال کے اوائل میں کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ بہتر سیکیورٹی خصوصیات کے حامل نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ اسٹیٹ بینک نے حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوا دیے ہیں۔
مارچ 2025 میں سیکیورٹی پیپرز لمیٹڈ (ایس پی ایل) نے بتایا تھا کہ اس نے 3.4 ارب روپے مالیت کے پیپر مشین اپ گریڈ منصوبے کا ٹھیکہ جرمن کمپنی گیزیکے اینڈ ڈیوریئنٹ (G+D) کو دیا ہے۔ منصوبے کی تکمیل 18 ماہ میں متوقع تھی۔
ستمبر 2024 میں اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے منعقدہ مقابلے کے فاتحین کا اعلان کیا تھا۔ مرکزی بینک نے جنوری 2024 میں تمام موجودہ مالیت کے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور اجرا کا عمل شروع کیا تھا، جبکہ مارچ 2024 میں نئے نوٹوں کے لیے جدید اور موضوعاتی ڈیزائن حاصل کرنے کی غرض سے آرٹ مقابلے کا اعلان کیا گیا تھا۔
پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو
پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (پی آر آئی) کے حوالے سے بریفنگ کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت نے ابتدا میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی سہولت کے لیے بینکوں کو سبسڈی فراہم کی تھی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس مد میں 120 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی تھی، تاہم گزشتہ سال اسے محدود کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی مشکلات کے باعث حکومت رواں بجٹ میں یہ سبسڈی جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ چنانچہ بینکوں نے ترسیلات زر کی سہولت برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اخراجات اپنے وسائل سے برداشت کرنے کا فیصلہ کیا۔کمیٹی نے اس اقدام کو سراہا اور فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں منتخب بینکوں کو مدعو کرکے ترسیلات زر کے شعبے میں ان کی کارکردگی اور کردار کے بارے میں بریفنگ لی جائے گی۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری اور ڈپازٹس کا تحفظ
کمیٹی نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری اور ڈپازٹس کے تحفظ سے متعلق ایف ای سرکلر 1999 کا بھی جائزہ لیا۔
ایس بی پی کے ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت متعلقہ بینکوں کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی رقوم کے تحفظ کے لیے ہدایات جاری کی گئی تھیں اور اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق اس نوعیت کا کوئی معاملہ بینک کے پاس زیر التوا نہیں۔تاہم کمیٹی نے بعض غیر ملکی سرمایہ کاروں کے معاملات تاحال زیر التوا ہونے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا اور ایسے تمام معاملات اگر کوئی ہوں، کی تفصیلات، موجودہ حیثیت اور زیر التوا رہنے کی وجوہات پر مشتمل رپورٹ طلب کرلی۔
سینیٹر طلال محمود نے پاکستان میں کام کرنے والی بعض کمپنیوں پر تشویش کا اظہار کیا جو خسارے کی رپورٹنگ کے باوجود مبینہ طور پر دھوکا دہی میں ملوث ہوسکتی ہیں اور اپنی مالی صورتحال کے حوالے سے سرمایہ کاروں اور شیئر ہولڈرز کو گمراہ کرسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض کمپنیاں بالآخر دیوالیہ ہوسکتی ہیں یا ملک چھوڑ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں شیئر ہولڈرز اور عام عوام کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر زور دیا کہ ایسی کمپنیوں کی جانچ پڑتال کی جائے اور عوام کی سرمایہ کاری اور محنت کی کمائی کے تحفظ کے لیے دھوکا دہی کے خلاف بروقت کارروائی کی جائے۔


Comments