گوگل نے وکلا اور قانونی اداروں کے لیے جیمنی اے آئی پلیٹ فارم کو وسعت دے دی
- گوگل نے قانونی اداروں کے لیے جیمنی اے آئی کو وسعت دے دی، جس سے کام کو مؤثر بنانے، اخراجات کم کرنے اور وکلا کو زیادہ اہم قانونی خدمات پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملے گی
الفابیٹ کے ذیلی ادارے گوگل نے منگل کو اپنے جیمنی انٹرپرائز مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم میں وکلا اور قانونی اداروں کے لیے نئے ٹولز شامل کرتے ہوئے اسے وسعت دے دی، جس سے قانونی شعبے میں اے آئی کی طلب پوری کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان جاری مسابقت مزید تیز ہوگئی ہے۔
کمپنی نے کہا کہ ’جیمنی انٹرپرائز فار لیگل‘ قانونی اداروں کو معمول کے ساتھ ساتھ پیچیدہ کاموں کے انتظام کے لیے اے آئی استعمال کرنے میں مدد دے گا، جس سے وکلا زیادہ اہم اور قدر افزا قانونی خدمات پر توجہ مرکوز کرسکیں گے، جبکہ ان کا ڈیٹا محفوظ اور خفیہ بھی رہے گا۔
جیمنی انٹرپرائز کے لیے متعارف کرائے گئے نئے پلگ اِن میں قانونی سافٹ ویئر اور ڈیٹا پلیٹ فارمز سے انضمام کی سہولت شامل ہے، جبکہ اے آئی ایجنٹس کی ایک پوری رینج بھی فراہم کی گئی ہے۔ گوگل کے مطابق یہ ایجنٹس انسانی نگرانی کے بغیر یا معمولی نگرانی میں خصوصی نوعیت کے قانونی اور انتظامی امور انجام دے سکتے ہیں۔
الفابیٹ نے کارپوریٹ صارفین کو اپنی اے آئی خدمات کی جانب راغب کرنے کی کوشش کے تحت گزشتہ اکتوبر میں کاروباری صارفین کے لیے جیمنی انٹرپرائز متعارف کرایا تھا۔ گوگل کلاؤڈ الفابیٹ کے تیزی سے ترقی کرنے والے کاروباری شعبوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
قانونی شعبے کے علاوہ گوگل نے منگل کو مالیاتی خدمات کے شعبے کے لیے بھی مخصوص ٹولز متعارف کرانے کا اعلان کیا، جبکہ بعد میں دیگر شعبوں کے لیے بھی اسی نوعیت کی خدمات پیش کی جائیں گی۔ حریف اے آئی کمپنیوں، جن میں اینتھروپک بھی شامل ہے، نے بھی حالیہ مہینوں میں اپنی انٹرپرائز خدمات کو وسعت دی ہے، جن میں قانونی شعبے کے لیے خدمات بھی شامل ہیں۔
ڈیلوئٹ کی 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق قانونی شعبہ اے آئی کو تیزی سے اپنا رہا ہے اور قانونی ادارے اس ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ شعبے میں تبدیلی کا ایک ایسا عمل ہے جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
قانونی شعبے میں مارکیٹ شیئر کے حصول کی دوڑ میں تھامسن رائٹرز بھی شامل ہے، جو رائٹرز اور ویسٹ لا کے قانونی تحقیقی ڈیٹا بیس کی مالک کمپنی ہے۔ اس نے پیر کو تھامسن 1.0 کے نام سے اپنا تیار کردہ لارج لینگویج ماڈل متعارف کرایا، جسے اس کے قانونی تحقیقی مواد پر تربیت دی گئی ہے اور پیشہ ورانہ استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل اوپن سورس ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اس میں کئی دہائیوں پر محیط اس کے اپنے مستند قانونی مواد سے استفادہ کیا گیا ہے۔
گوگل نے کہا کہ اس کا پلیٹ فارم تھامسن رائٹرز، قانونی اے آئی سافٹ ویئر تیار کرنے والی کمپنی ہاروی، ڈیٹا اینالیٹکس اور ٹیکنالوجی کمپنی لیکسس نیکسس سمیت دیگر قانونی ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز سے براہِ راست اور محفوظ انداز میں منسلک ہوگا۔
قانونی ادارے جنریٹو اے آئی ٹولز کو تیزی سے اپنا رہے ہیں، جو قانونی تحقیق میں معاونت، عدالتی درخواستوں کے مسودے تیار کرنے اور دیگر قانونی امور انجام دینے میں مدد دے سکتے ہیں۔ بہت سے ادارے کاروباری معاملات، مثلاً موکلین اور مقدمات کے انتظام کے لیے بھی اے آئی استعمال کررہے ہیں تاکہ اخراجات کم کرنے کے ساتھ کارکردگی بہتر بنائی جاسکے۔
گوگل کلاؤڈ کی پروڈکٹ ڈائریکٹر امریتا مہروک نے کہا کہ گوگل کی نئی سروس کو قانونی اداروں کی ضروریات کے مطابق لچک دار انداز میں تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے وہ پلیٹ فارم میں شامل مختلف اے آئی ماڈلز میں سے اپنی ضرورت کے مطابق انتخاب کرسکتے ہیں۔
کچھ بڑے قانونی اداروں نے اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داریاں بھی قائم کی ہیں، جبکہ بعض ادارے اپنے اے آئی پلیٹ فارمز خود تیار کررہے ہیں۔ گوگل نے بتایا کہ وائل گوٹشل، کلیری گوٹلیب، فریش فیلڈز اور ولیمز اینڈ کونولی ان قانونی اداروں میں شامل ہیں جو جیمنی انٹرپرائز فار لیگل کے حوالے سے اس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔
وائل گوٹشل کے شریک منیجنگ پارٹنر جوناتھن سولر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موکلین کی جانب سے اب یہ توقع بڑھتی جارہی ہے کہ ان کے وکلا اے آئی استعمال کریں اور اس سے حاصل ہونے والی کارکردگی سے فائدہ اٹھائیں۔
کلیری گوٹلیب کے منیجنگ پارٹنر جیفری کارپف نے کہا کہ گوگل کے ساتھ ادارے کا تعاون اسے اے آئی استعمال کرنے والے قانونی اداروں کے لیے مفید ٹولز کی تیاری میں شریک ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔


Comments