ہچیسن پورٹس پاکستان کی بڑے پیمانے پر اپ گریڈیشن کے لیے 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری
- ٹرمینل کو رواں سال 20 برقی ٹرکوں، 10 ٹریلرز، ایک ریچ اسٹیکر اور ایک ایمپٹی ہینڈلر کی پہلی کھیپ موصول ہو چکی ہے
ہچیسن پورٹس پاکستان، جو ملک کا واحد جدید ترین گہرے پانیوں میں قائم کنٹینر ٹرمینل ہے، نے 2026 اور 2027 کے دوران 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کے پروگرام کے تحت اپنی آپریشنز کو بڑے پیمانے پر اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جاری بیان کے مطابق اس سرمایہ کاری میں دو برقی ریموٹ کنٹرول کوے کرینز (کیو سیز)، 17 برقی ریموٹ کنٹرول ربڑ ٹائر گینٹری کرینز (آر ٹی جی سیز)، 70 برقی ٹرک اور 50 ٹریلرز شامل ہیں۔
ٹرمینل کو رواں سال 20 برقی ٹرکوں، 10 ٹریلرز، ایک ریچ اسٹیکر اور ایک ایمپٹی ہینڈلر پر مشتمل پہلی کھیپ پہلے ہی موصول ہو چکی ہے۔
کمپنی نے کہا کہ تجارتی ترقی کے علاوہ اس بیڑے کی برقی منتقلی ہچیسن پورٹس گروپ کے عالمی پائیداری کے اہداف کی معاونت کرتی ہے اور سپلائی چین کو کاربن کے اخراج سے پاک کرنے کے ذریعے پاکستان کی پائیدار ترقی کو آگے بڑھاتی ہے۔
ہچیسن پورٹس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سی ایس کِم نے کہا کہ ہماری مسلسل سرمایہ کاری پاکستان کی اقتصادی ترقی اور بحری شعبے میں قیادت کے عزم کی عکاس ہے۔ وزارت بحری امور، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے ہم وزیراعظم کے اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں کہ پاکستان کو ایک اہم ٹرانس شپمنٹ مرکز بنایا جائے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم مال برداری کی تیز تر ترسیل، کارگو کلیئرنس کو بہتر بنانے اور ملک کے لیے طویل مدتی اقتصادی قدر پیدا کرنے میں معاونت کر رہے ہیں۔
ہچیسن پورٹس پاکستان کے وسیع تر اپ گریڈیشن پروگرام کے تحت ٹرمینل نے سینٹرلائزڈ ایگزامینیشن ایریا کے قیام کے لیے اضافی زمین حاصل کرنے کی غرض سے حکومت پاکستان کو ایک تجویز بھی پیش کی ہے۔
یہ اقدام وزارت بحری امور، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور حکومت پاکستان کے اس بحری شعبے سے متعلق ایجنڈے کی براہ راست معاونت کرتا ہے جس کا مقصد ایک اعلیٰ گنجائش رکھنے والا لاجسٹکس مرکز قائم کرنا ہے، جو تجارتی کارکردگی کو بہتر بنائے اور خطے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے۔


Comments