نجکاری سے پہلے ساکھ کی بحالی ضروری
- فیسکو، گیپکو اور آئیسکو میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی دلچسپی حوصلہ افزا ہے
بجلی کی تقسیم کار تین کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجوزہ نجکاری اس مرحلے پر پہنچ گئی ہے جہاں حکومت کو ایک ایسے سوال کا سامنا ہے جو صرف حصص فروخت کرنے کے طریقہ کار سے کہیں آگے ہے: حکومت دراصل سرمایہ کاروں کو کیا پیش کر رہی ہے، اور انہیں بجلی کی کس نوعیت کی مارکیٹ ورثے میں ملے گی؟
فیسکو، گیپکو اور آئیسکو میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی دلچسپی حوصلہ افزا ہے۔
تقریباً ایک درجن سرمایہ کاروں، جن میں 4 غیر ملکی ادارے بھی شامل ہیں، کی جانب سے دلچسپی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر کاروباری ماحول کو مناسب حد تک قابل پیش گوئی بنایا جاسکے تو پاکستان کے بجلی کی تقسیم کے کاروبار میں تجارتی دلچسپی موجود ہے۔ تاہم سرمایہ کاروں کی جانب سے حکومت کے سامنے رکھی جانے والی شرائط ایک قدرے ناخوشگوار حقیقت بھی ظاہر کرتی ہیں۔ سرمایہ کار دراصل اپنی بولیوں میں پاکستان کے ساکھ کے خطرے کی قیمت بھی شامل کر رہے ہیں۔
مستقبل میں معاہدوں کو دوبارہ کھولنے سے تحفظ، مضبوط ضابطہ جاتی ضمانتیں، طویل مدت تک ٹیرف کنٹرول، بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور من مانی پالیسی تبدیلیوں سے تحفظ کے مطالبات مکمل طور پر غیر متوقع نہیں ہیں۔
پاکستان میں تجارتی معاہدوں پر نظرثانی، دستخط شدہ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کی تاریخ نے سرمایہ کاروں کو بجا طور پر محتاط کردیا ہے۔ تنازعات کے حل کے کمزور نظام اور مجموعی عدالتی ماحول نے بھی اس تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
لہٰذا حکومت کو ان مطالبات میں فرق کرنا ہوگا جو تجارتی اعتبار سے مناسب ہیں اور ان مطالبات میں جو محض نجی شعبے کے خطرات کو صارفین اور قومی خزانے کی طرف منتقل کردیں گے۔
مثال کے طور پر قابل پیش گوئی ضابطہ کاری کا مطالبہ قطعاً غیرمعقول نہیں۔ اگر کسی سرمایہ کار سے کسی بجلی کی تقسیم کار کمپنی میں بڑی سرمایہ کاری کی توقع کی جارہی ہے تو اسے یہ اعتماد حاصل ہونا چاہیے کہ ریگولیٹر شفاف طریقہ کار پر عمل کرے گا، ٹیرف کا تعین بروقت ہوگا اور منظور شدہ سرمایہ کاری منصوبے سیاسی مداخلت کی نذر نہیں ہوں گے۔
اسی طرح من مانی طور پر معاہدوں کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تحفظات کو بھی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ ایسا معاہدہ جسے سیاسی ہواؤں کا رخ بدلتے ہی دوبارہ کھولا جاسکے، درحقیقت زیادہ قابل اعتبار معاہدہ نہیں ہوتا۔
چنانچہ حکومت کی جانب سے کثیرالجہتی اداروں سے سیاسی خطرے کی ضمانتیں حاصل کرنے پر غور مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسی ضمانتیں صرف سرمایہ کاروں کا تحفظ نہیں کریں گی بلکہ خود ریاست پر بھی زیادہ نظم و ضبط قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
اگر پاکستان بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنا چاہتا ہے تو اسے اسی نوعیت کے بیرونی ساکھ کے طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
بہرحال، کچھ واضح سرخ لکیریں بھی موجود ہیں۔ ان میں غیر ملکی کرنسی سے منسلک منافع بھی شامل ہے۔ سرمایہ کار فطری طور پر ڈالر میں منافع کو ترجیح دیتے ہیں، خصوصاً جب انہیں کرنسی کے خطرے کا خدشہ زیادہ ہو۔ لیکن نجکاری کی گئی ڈسکوز کو ڈالر میں منافع کی ضمانت دینا مؤثر طور پر شرح مبادلہ کا خطرہ ایک ایسے ملک کو منتقل کرنا ہوگا جس کا بیرونی کھاتہ اب بھی ساختی طور پر کمزور ہے۔
بجلی صارفین کو سرمایہ کاروں کو ہر قسم کے معاشی خطرے سے تحفظ فراہم کرنے کی قیمت نہیں چکانی چاہیے۔
یہی احتیاط موجودہ آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدنے سے استثنیٰ کے مطالبات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
یہ تشویش اپنی جگہ جائز ہے۔ مثالی طور پر کسی ڈسکو کو بجلی مؤثر انداز میں خریدنے کی صلاحیت حاصل ہونی چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان زیادہ مسابقتی بجلی کی مارکیٹ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ لیکن حکومت منتخب نجی ڈسکو کو موجودہ معاہداتی ذمہ داریوں سے محض اس بنیاد پر دستبردار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی کہ ریاست بدستور پیداواری صلاحیت کی ادائیگیوں کی ذمہ دار رہے گی۔ آخرکار اس کی قیمت کسی نہ کسی کو ادا کرنا ہوگی۔
یہیں حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ ماضی کے معاملات خاص طور پر اہم ہوجاتے ہیں۔
ریاست پہلے ہی یہ ثابت کرچکی ہے کہ جب بجلی کے معاہدوں کا مالی بوجھ سیاسی طور پر برقرار رکھنا مشکل ہوجائے تو انہیں دوبارہ مذاکرات کا موضوع بنایا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے اس وقت حکومت نے اس اقدام کو درست قرار دیا ہو، لیکن سرمایہ کار کے نقطۂ نظر سے اس کا سبق بالکل واضح ہے: آج کا قانونی طور پر پابند معاہدہ ضروری نہیں کہ کل بھی اتنا ہی مقدس اور ناقابلِ تغیر رہے۔
پاکستان بیک وقت یہ شکایت نہیں کرسکتا کہ سرمایہ کار خودمختار اور معاہداتی تحفظات کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے ہی ماضی کے ریکارڈ سے پیدا ہونے والے ساکھ کے خدشات کو نظرانداز بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا مجوزہ نجکاری کے ساتھ وراثت میں ملنے والی ذمہ داریوں کے بارے میں مکمل وضاحت ہونی چاہیے۔
سرمایہ کار یہ جاننا چاہیں گے کہ وہ دراصل کون سی ذمہ داریاں خرید رہے ہیں، کون سی ذمہ داریاں حکومت کے پاس رہیں گی، پنشن کی ذمہ داریوں سے کیسے نمٹا جائے گا، بقایا قابل وصول رقوم کیسے نمٹائی جائیں گی اور جمع شدہ گردشی قرضے کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے جو بعد میں ایک اور تنازع کے دور کی بنیاد بن جائے۔
یہ معاملہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ سرکاری اداروں کی ذمہ داریاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق سرکاری شعبے کے اداروں کی مجموعی ذمہ داریوں کا حجم 3.11 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے دوران 8.7 فیصد بڑھا۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نجکاری کو محض ایک ایسے لین دین کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا جس کے ذریعے ایک غیر مؤثر ادارے کو سرکاری شعبے سے نجی شعبے میں منتقل کردیا جائے۔
نئے مالک کو تجارتی بنیادوں پر کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے بیلنس شیٹ کو مناسب حد تک صاف کرنا ضروری ہے۔
ٹیرف کا نظام شاید سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا معاملہ ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے مجوزہ 5 سال کے مقابلے میں 7 سے 10 سال کی ٹیرف کنٹرول مدت کو ترجیح دینا، اگر اسے واضح کارکردگی کی ذمہ داریوں سے مشروط کیا جائے، تو سنجیدگی سے غور کا مستحق ہے۔
بجلی کی تقسیم کے بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ کسی نجی سرمایہ کار سے نیٹ ورک کو جدید بنانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی توقع کرنا مشکل ہے اگر اس کی منظور شدہ منافع کی شرح سے متعلق قواعد اس وقت تبدیل ہوسکتے ہوں جب یہ سرمایہ کاری ابھی اپنی مدت پوری نہ کرسکی ہو۔
تاہم طویل ٹیرف مدت کو کھلی چھٹی نہیں بننا چاہیے۔ مناسب طریقہ کار یہ ہوگا کہ منظور شدہ منافع کو سروس کے معیار، نقصانات، وصولیوں، بجلی کی فراہمی کے قابل اعتماد نظام اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عملدرآمد میں قابل پیمائش بہتری سے منسلک کیا جائے۔ اگر کوئی نجی آپریٹر بہتر کارکردگی دکھاتا ہے تو اسے اس کا انعام ملنا چاہیے۔ اگر وہ طے شدہ معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہتا ہے تو صارفین کو غیر معینہ مدت تک اس کی تلافی کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
موجودہ یکساں ٹیرف کے ڈھانچے سے وقت کے ساتھ دور ہونے کے لیے بھی مضبوط جواز موجود ہے۔ ایسا نظام جس میں مؤثر اور غیر مؤثر ڈسکوز کے ساتھ عملاً یکساں سلوک کیا جائے، بہتری کے لیے ترغیبات کو کمزور کرتا ہے۔
تاہم، اس منتقلی کو احتیاط سے ترتیب دینا ہوگا کیونکہ بجلی تک رسائی، آمدنی اور نیٹ ورک نقصانات میں علاقائی فرق ایک حقیقی حقیقت ہے۔ نجکاری کے نتیجے میں صرف اس وجہ سے صارفین کے ٹیرف میں اچانک اضافہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی نسبتاً زیادہ مؤثر تقسیم کار علاقے میں رہتے ہیں۔
اس کا حل تجارتی کارکردگی کو سماجی پالیسی سے الگ کرنے میں ہے۔ اگر ریاست مخصوص صارفین یا علاقوں کو سبسڈی دینا چاہتی ہے تو اسے تقسیم کار کمپنیوں کی بیلنس شیٹس میں چھپانے کے بجائے بجٹ کے ذریعے شفاف انداز میں فراہم کرنا چاہیے۔
نجی سرمایہ کاروں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ مبہم مالیاتی پالیسی کے آلہ کار کے طور پر کام کریں گے۔
مقصد محض 3 ڈسکوز کو فروخت کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے یہ ثابت کیا جائے کہ پاکستان تجارتی معاہدے کرنے اور ان کی پاسداری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments