ملکی استحکام کا نظر انداز پہلو
- معاشی استحکام کا موقع محدود ہے، اصلاحات میں تاخیر سے کھپت پر مبنی نمو کی طرف واپسی کا سیاسی دباؤ بڑھے گا
پاکستان نے مشکل مرحلہ تو طے کر لیا ہے لیکن ضروری مرحلہ ابھی باقی ہے۔
مالی سال 2026 میں مجموعی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.61 فیصد تک کم ہوگیا، جو مالی سال 2004 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ بنیادی مالیاتی توازن 2.86 فیصد سرپلس رہا، جو غالباً اب تک کی بلند ترین سطح اور مسلسل تیسرے سال کا سرپلس ہے۔ اسی دوران عوامی قرضہ مالی سال 2023 کے جی ڈی پی کے 75.2 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں 68.4 فیصد رہ گیا۔
یہ اعداد و شمار ماضی کے ایک دور کی یاد دلاتے ہیں۔ مالی سال 2001 سے 2007 کے دوران قرضہ جی ڈی پی کے 73.4 فیصد سے کم ہو کر 46.6 فیصد رہ گیا تھا، جبکہ مالی سال 1999 سے مسلسل چھ سال تک بنیادی مالیاتی سرپلس بھی ریکارڈ کیا گیا۔
لیکن اس مالیاتی استحکام کے دور میں مالی سال 2003 سے 2007 کے درمیان اوسط جی ڈی پی نمو 6.3 فیصد رہی، جس کی بنیادی وجہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں توسیع تھی۔ اس بار صورتحال مختلف ہے۔ مالی سال 2023 سے 2026 کے دوران اقتصادی نمو اوسطاً صرف 2.4 فیصد رہی، جو بمشکل آبادی میں اضافے کی شرح سے زیادہ ہے۔
موجودہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی نوعیت اس کی وجہ واضح کرتی ہے۔ مالی سال 2026 میں محصولات میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں برائے نام جی ڈی پی 11.4 فیصد بڑھی۔ یوں پیٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافے اور پہلے ہی بلند ٹیکس شرحوں کے باوجود قومی پیداوار کے مقابلے میں محصولات کی شرح کم ہوئی۔
اخراجات میں 5 فیصد کمی ہوئی، جس کی تقریباً مکمل وجہ قرضوں کی ادائیگی پر اخراجات میں 22 فیصد کمی تھی، کیونکہ شرحِ سود میں کمی آئی۔ اگر قرضوں کی ادائیگی کو نکال دیا جائے تو جاری اخراجات دراصل 9 فیصد بڑھے، جن میں دفاعی اخراجات 18 فیصد اور سول حکومت کے انتظامی اخراجات 16 فیصد بڑھ گئے۔
وفاقی ترقیاتی اخراجات میں 13 فیصد کمی ہوئی۔ سبسڈی میں 22 فیصد کمی کی گئی، جس کی بڑی وجہ بجلی کے شعبے کی غیرموثر کارکردگی کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنا تھا۔ وفاقی پنشن کا سالانہ حجم پہلی بار ایک کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔
یہ مالیاتی استحکام کم شرحِ سود کے باعث قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں کمی، سبسڈی گھٹانے اور ترقیاتی اخراجات مؤخر کرنے سے حاصل ہوا ہے، نہ کہ حکومت کے حجم میں کمی یا ٹیکس دائرہ کار وسیع کرنے سے۔ محدود ٹیکس بیس پر بلند شرحیں مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کو سہارا دے رہی ہیں اور یہی امتزاج سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
تاہم امید کی گنجائش موجود ہے، لیکن اس کا انحصار صرف مالیاتی اعداد و شمار پر نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ان پر مؤثر عمل درآمد پر ہے۔ بیرونی سرکاری قرضہ مالی سال 2022 میں جی ڈی پی کے 25.1 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں 19.1 فیصد رہ گیا۔ اس دوران دوطرفہ اور کیپیٹل مارکیٹ کے قرضوں، جن میں بڑی مقدار چینی قرضوں کی تھی، کی جگہ نسبتاً سستی کثیرالجہتی مالی معاونت نے لے لی۔
قرضوں کی ادائیگی اور خالص آمدن کا تناسب مالی سال 2023 میں 122 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں 66 فیصد رہ گیا۔ ملکی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بھی 2016 سے 2019 کی سطح پر واپس آگئی ہے، جبکہ اسے 2000 کی دہائی کے اوائل میں دیکھی گئی سطح تک بہتر بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ بیرونی محاذ پر سب سے بڑا خطرہ قلیل مدتی قرضوں کے بڑھتے ہوئے حصے کا ہے، جس کے باعث قرضوں کی بروقت ادائیگی یا تجدید کا خطرہ بدستور بلند ہے۔
پاکستان کی کریڈٹ حیثیت ان وجوہات کی بنا پر بہتر ہورہی ہے جن کا ملک کے بنیادی معاشی نمو کے ماڈل سے زیادہ تعلق نہیں۔ اس سے عالمی کیپیٹل مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے کا موقع ملتا ہے مگر یہ موقع ہمیشہ برقرار نہیں رہے گا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ کرنا چاہیے۔ وزارتِ خزانہ کو قرضوں کی تجدید کے خطرے کو کم کرنے اور کریڈٹ ریٹنگ کو سہارا دینے کے لیے 10 سے 15 سال کی مدت کے کیپیٹل مارکیٹ قرضے حاصل کرنے چاہئیں۔
نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش پیدا کرنے کی خاطر بعض مقامی قرضوں کی جگہ بیرونی قرضے لیے جاسکتے ہیں۔ ساتھ ہی بہتر بیرونی مالیاتی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے نجی اداروں کو براہِ راست عالمی مالیاتی ذرائع تک رسائی میں مدد دینی چاہیے۔
ان میں سے کوئی بھی اقدام توانائی کے شعبے میں ڈی ریگولیشن اور نجکاری کا متبادل نہیں، جس نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں معاشی نمو کو سہارا دیا تھا، جبکہ موجودہ دور میں یہی عنصر غائب ہے۔ اس کے بغیر بلند ٹیکس شرحیں سرمایہ کاری اور سرمائے کی تشکیل کی حوصلہ شکنی کرتی رہیں گی، چاہے مالیاتی کھاتے بظاہر کتنے ہی مستحکم کیوں نہ نظر آئیں۔
میدان تیار ہے لیکن یہ موقع ہمیشہ برقرار نہیں رہے گا۔ معاشی استحکام کے مسلسل اقدامات سے تھکن کے آثار پہلے ہی نمایاں ہیں، جبکہ اصلاحات میں جتنی تاخیر ہوگی، سیاسی طور پر کھپت پر مبنی معاشی نمو کی طرف واپس جانے کا دباؤ اتنا ہی بڑھنے کا امکان ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


Comments