اضافی چینی برآمد کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، وزارت تجارت
- گزشتہ سال کے تجربے میں پہلے چینی برآمد کی گئی اور بعد ازاں درآمد کرنا پڑی تھی، جس کے باعث تنازع پیدا ہوا اور حکومتی حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھے تھے
وزارتِ تجارت اضافی چینی کی برآمد کی حمایت کرنے سے گریزاں ہے، کیونکہ گزشتہ سال کے تجربے میں پہلے چینی برآمد کی گئی اور بعد ازاں درآمد کرنا پڑی تھی، جس کے باعث تنازع پیدا ہوا اور وزارتِ تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سمیت حکومتی حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھے تھے۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کی جانب سے اضافی چینی کے معاملے پر 12 اگست 2026 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں مختصر بحث ہوئی۔ کمیٹی کی رکن طاہرہ اورنگزیب نے سیکریٹری تجارت جواد پال سے واضح جواب طلب کیا کہ حکومت پی ایس ایم اے کے اضافی چینی برآمد کرنے کے مطالبے پر کیا فیصلہ کر رہی ہے۔
سیکریٹری تجارت نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت چینی کی برآمد کی اجازت دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی تجویز پیش کی گئی تو کمیٹی کو آگاہ کردیا جائے گا۔
گزشتہ سال حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری سے درآمدی چینی پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کم کی تھیں تاکہ اس کی قیمت مقامی مارکیٹ کے برابر رکھی جاسکے۔ تاہم چینی کی برآمد کے بعد مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا، جس سے حکومت شدید دباؤ کا شکار ہوئی اور فیصلے کے طریقہ کار پر تنازع پیدا ہوا۔
قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے چینی کی برآمد کی اجازت دی تو کمیٹی ماضی کی طرح دوبارہ کارروائی کرے گی۔
گزشتہ سال کمیٹی کے چیئرمین نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جاسکیں کہ پہلے چینی کی برآمد اور بعد میں درآمد کی اجازت دینے میں کسی قسم کی مبینہ ہیرا پھیری تو نہیں ہوئی، جس کے نتیجے میں ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔
پی ایس ایم اے نے حالیہ دنوں مختلف وفاقی وزارتوں کو ارسال کیے گئے خط میں 28 جولائی 2026 کے اپنے خط کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں دستیاب چینی کے ذخائر کے اعداد و شمار فراہم کیے اور اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت طلب کی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 31 جولائی 2026 تک ملک میں چینی کے ذخائر 3.171 ملین ٹن (ایم ایم ٹی) تھے۔ ماہانہ اوسط کھپت 564,196 ٹن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسوسی ایشن نے اندازہ لگایا کہ 15 نومبر 2026 تک باقی ساڑھے تین ماہ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے 1.974 ملین ٹن چینی درکار ہوگی۔
پی ایس ایم اے کے مطابق اس طرح اگلے کرشنگ سیزن کے آغاز پر 1.197 ملین ٹن چینی فاضل رہ جائے گی۔ ایسوسی ایشن نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ 2026-27 کے کرشنگ سیزن میں گنے کی ایک اور ریکارڈ فصل متوقع ہے، جس سے 2025-26 کے مقابلے میں چینی کی پیداوار مزید بڑھ سکتی ہے۔ پی ایس ایم اے نے 2026-27 میں چینی کی پیداوار 8 ملین ٹن سے زائد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔
اضافی ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ایم اے نے حکومت سے فوری طور پر 633,000 ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ ایسوسی ایشن نے تجویز دی ہے کہ مزید 564,000 ٹن چینی ایک ماہ کے اسٹریٹجک ذخیرے کے طور پر برقرار رکھی جائے اور 2026-27 کے کرشنگ سیزن کے آغاز کے ایک ماہ کے اندر اسے بھی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔
وزارتِ تجارت کے ایک سینئر افسر نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ فی الحال وزارت کے پاس چینی کی برآمد کی اجازت دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی دیکھ رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments