مالیاتی خودمختاری کے بغیر آزادی
- پاکستان نے 14 اگست 1947ء کو ریاستی خودمختاری حاصل کرلی تھی، مگر اب وقت آگیا ہے کہ اسے عوام کی مالیاتی خودمختاری میں تبدیل کیا جائے۔ حقیقی معاشی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت کی تینوں سطحوں پر ذمہ داریاں، مالی وسائل اور جواب دہی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں اور شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے ادا کردہ ٹیکس کہاں خرچ ہورہے ہیں۔
آج (14 اگست 2026) پاکستان ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے اپنے قیام کے 79 برس مکمل کر رہا ہے۔ 1947ء میں سیاسی خودمختاری ویسٹ منسٹر سے منتقل ہوگئی تھی۔ تاہم مالیاتی خودمختاری، جس سے مراد شہریوں اور ان کی منتخب حکومتوں کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ وسائل پیدا کریں، ترجیحات کا تعین کریں اور عوام سے وصول کیے جانے والے محصولات اور سرکاری اخراجات کے لیے جواب دہ رہیں، آج بھی ایک نامکمل منصوبہ ہے—اور بہت سوں کے لیے یہ ایک ایسا خواب بن چکا ہے جو شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔ محض پرچم، کرنسی، مسلح افواج، مرکزی بینک اور عالمی اداروں کی رکنیت کو خودمختاری یا آزادی کا پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا—یہ محض آزادی کا ایک مغالطہ ہے۔
جو ملک روزمرہ حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل قرض لینے پر انحصار کرے، وقفے وقفے سے اپنے معاشی فیصلوں کے لیے بیرونی قرض دہندگان سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہو، جہاں صوبے اسلام آباد سے ملنے والی رقوم پر خاصا انحصار کرتے ہوں اور مقامی حکومتیں صوبائی دارالحکومتوں کی محتاج ہوں، وہاں مسئلہ محض مالیاتی دباؤ کا نہیں بلکہ ایک گہری ادارہ جاتی کمزوری کا ہوتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی خودمختاری تو موجود ہے، مگر معاشی قوت ضرورت سے زیادہ مرکز میں مرتکز ہے اور مالیاتی ذمہ داری بری طرح منقسم ہے۔ پاکستان نے یہ ڈھانچہ کسی خالی تختی سے شروع نہیں کیا تھا۔ اسے ایک انتہائی مرکزیت پسند مالیاتی نظام ورثے میں ملا، جس کی جڑیں نوآبادیاتی طرز حکمرانی میں پیوست تھیں۔
گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء نے صوبائی خودمختاری اور محصولات میں تقسیم کی گنجائش تو پیدا کی، لیکن مالیاتی اختیارات کا پلڑا بدستور مرکز کی جانب جھکا رہا۔
پاکستان کے مالیاتی وفاقیت کے نظام پر عالمی بینک کی ایک حالیہ تحقیق بھی موجودہ انتظامات کی بنیاد اسی مرکزی نوعیت کے نوآبادیاتی ورثے میں تلاش کرتی ہے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ نوآبادیاتی دور میں محصولات کی تقسیم اپنی مخصوص سیاسی معیشت رکھتی تھی۔ کسٹمز، بڑے ایکسائز محصولات اور انکم ٹیکس کے اہم ذرائع مرکز سے وابستہ رکھے گئے، جبکہ زمین، زراعت، جائیداد اور مقامی لین دین جیسے مشکل اور سیاسی طور پر حساس ٹیکس بڑی حد تک ذیلی قومی حکومتوں کے ذمے چھوڑ دیے گئے۔
معروف ماہرِ معاشیات احتشام احمد اور ان کے شریک مصنفین نے اس تاریخ کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 1935ء کے انتظامات میں ٹیکسوں کے ذرائع اس انداز سے تقسیم کیے گئے تھے جو نوآبادیاتی مفادات کے مطابق تھا۔ بعد ازاں یہی تقسیم جنوبی ایشیا میں جدید اور مربوط ٹیکس نظام کی تشکیل میں بھی رکاوٹ بنی۔
آزادی کے بعد اس ڈھانچے کو ایک بالکل مختلف اصول پر ازسرنو تشکیل دینے کا موقع ملنا چاہیے تھا: مالیات کی تقسیم آئینی ذمہ داریوں کے مطابق اور ٹیکسوں کا نفاذ جمہوری جواب دہی کے اصول کے تحت ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے بعد کی آئینی اصلاحات نے اختیارات کی تقسیم میں تو تبدیلیاں کیں، مگر بنیادی منطق کو مکمل طور پر تبدیل نہ کیا۔
اس کا عکس مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیاں 15.264 کھرب روپے اور نان ٹیکس آمدنی 5.336 کھرب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کی مجموعی آمدنی 20.600 کھرب روپے بنتی ہے۔
بجٹ میں صوبوں کے لیے مختص 8.848 کھرب روپے کا حصہ نکالنے کے بعد وفاق کے پاس خالص آمدنی 11.751 کھرب روپے رہ جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں وفاقی اخراجات کا تخمینہ 18.771 کھرب روپے لگایا گیا ہے، جس میں 17.495 کھرب روپے کے جاری اخراجات اور صرف سود کی ادائیگیوں کے لیے 8.054 کھرب روپے شامل ہیں۔
یوں وفاقی بجٹ خسارہ 7.020 کھرب روپے بنتا ہے، جسے بڑی حد تک ملکی قرض گیری کے ذریعے پورا کیا جائے گا، جبکہ بیرونی فنانسنگ اور نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اس میں شامل ہوگی۔ یہ اعدادوشمار ہمیں اس بات پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کرنے چاہییں کہ مالیاتی خودمختاری آخر ہے کیا۔
ہماری بحث عموماً اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ آیا ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو بہت زیادہ وسائل مل رہے ہیں یا وفاق کے پاس بہت کم وسائل بچ رہے ہیں۔ یہ سوال اٹھانے کا درست نقطۂ آغاز نہیں ہے۔
آئینی سیاسی معیشت کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کون سا کام کس حکومت کو انجام دینا چاہیے، اس کے اخراجات کون اٹھائے اور اس اختیار کے لیے وہ کس کے سامنے جواب دہ ہو؟ جب تک یہ تینوں پہلو باہم ہم آہنگ نہیں ہوں گے، مالیاتی وفاقیت محض وسائل کی تقسیم پر سودے بازی بن کر رہ جائے گی۔
آئین میں 2010ء کی 18ویں ترمیم نے صوبوں کو اہم اختیارات منتقل کرکے اس عدم توازن کو درست کرنے کی ایک اہم کوشش کی، تاہم اس کے ساتھ مالیاتی ڈھانچے میں مطلوبہ تبدیلی مکمل نہ ہوسکی۔
وفاقی حکومت ان شعبوں پر بدستور اخراجات کرتی رہی جو آئینی طور پر صوبوں کو منتقل کیے جاچکے تھے، جبکہ صوبوں کو زیادہ وسائل تو حاصل ہوگئے لیکن وہ اپنی آمدنی کے ذرائع کو ان کی حقیقی استعداد کے مطابق وسعت نہ دے سکے۔
عالمی بینک کی حالیہ جائزہ رپورٹ بھی اسی عدم مطابقت کی نشاندہی کرتی ہے: اختیارات کی منتقلی کے بعد وفاقی اخراجات میں مطلوبہ حد تک کمی نہ آسکی، صوبوں کی اپنی ٹیکس وصولیاں کمزور رہیں اور مقامی حکومتوں کو کبھی بامعنی مالیاتی اختیارات منتقل نہیں کیے گئے۔
یہ مؤقف 18ویں ترمیم واپس لینے یا صوبائی خودمختاری کمزور کرنے کے حق میں نہیں۔ پاکستان کی تاریخ، خصوصاً 1971ء کا سانحہ، طاقت کے زور پر مرکزیت کے خلاف مقدمہ ہمیشہ کے لیے طے کردینے کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا۔ اصل ضرورت مالیاتی وفاقیت کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ اسے مکمل کرنے کی ہے۔
اسی تحقیق کے مطابق مالی سال 2024ء میں صوبوں کی اپنی ٹیکس آمدنی مجموعی قومی پیداوار کے صرف تقریباً 0.7 فیصد کے برابر رہی۔ شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی جی ڈی پی کے تقریباً 0.13 فیصد تک محدود رہی، حالانکہ جائیداد ذیلی قومی حکومتوں کے لیے ٹیکس وصولی کا موزوں ترین ذریعہ ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ 2005ء کے تقریباً 10 فیصد سے کم ہوکر 2024ء میں صرف 4.7 فیصد رہ گیا۔
یہ اعداد پاکستان کے منفرد مالیاتی اہرام کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اسلام آباد بڑے حصے میں محصولات وصول کرتا ہے، آئین کے تحت مقررہ حصہ صوبوں کو منتقل کرتا ہے، صوبے بڑے پیمانے پر اخراجات تو کرتے ہیں مگر خود نسبتاً کم محصولات جمع کرتے ہیں، جبکہ بلدیاتی ادارے اور ضلعی حکومتیں—جہاں شہریوں کو پانی، صفائی، سڑکوں، اسکولوں، صحت، کچرا اٹھانے، شہری منصوبہ بندی اور دیگر روزمرہ سہولیات کی حقیقی ضرورت ہوتی ہے—مالی طور پر بدستور محتاج رہتی ہیں۔ ایسا نظام ہر سطح پر جواب دہی کو کمزور کرتا ہے۔
زیادہ این ایف سی حصہ طلب کرنے والی صوبائی حکومت اس سوال سے بچ سکتی ہے کہ وہ زرعی آمدنی، شہری جائیداد، پرتعیش اشیا اور آئین کے تحت دستیاب ٹیکس کے دیگر ذرائع سے مناسب محصولات کیوں نہیں وصول کر رہی۔
اسی طرح صوبائی مالیاتی کمیشن سے رقوم کی منتقلی کی منتظر مقامی حکومت اپنے ووٹروں سے یہ وعدہ بھی مؤثر انداز میں نہیں کرسکتی کہ مقامی طور پر جمع کیے گئے محصولات میں اضافے کے نتیجے میں عوام کو بہتر خدمات فراہم ہوں گی۔ نتیجتاً شہریوں کو اپنے ادا کردہ ٹیکس اور حاصل ہونے والی خدمات کے درمیان براہِ راست تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ یہ حقیقی مالیاتی جمہوریت کے عین برعکس ہے۔
آئین کا آرٹیکل 140 اے صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتیں قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالیاتی ذمہ داری و اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ آئینی زبان بالکل واضح ہے۔ مگر عملی طور پر منتخب مقامی ادارے مالی طور پر بدستور محتاج ہیں، صوبائی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ باقاعدگی سے جاری نہیں ہوتے اور مقامی حکومتوں کی اپنی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس مسئلے کا حل ایک اور مرکزی محصولات وصولی کا نظام قائم کرنا نہیں جو صوبوں اور بلدیاتی اداروں سے ٹیکس لگانے کا اختیار چھین لے۔ اسی طرح پاکستان کو ٹیکس کے متعدد محکمے قائم کرکے کاروباری اداروں کو مختلف اختیارات رکھنے والی حکومتوں کے درمیان الجھانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ ٹیکس وصولی کے انتظام کو یکساں بنایا جاسکتا ہے، ٹیکنالوجی کو مربوط کیا جاسکتا ہے اور وصولی کے عمل میں ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے، جبکہ آئینی طور پر ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات اور شرحیں مقرر کرنے کی خودمختاری متعلقہ حکومتوں کے پاس برقرار رہنی چاہیے۔
چین سے انتظامی سطح پر ایک مفید سبق لیا جاسکتا ہے کہ ٹیکس وصولی کو مربوط کیے بغیر بھی ہر معاشی فیصلہ مرکز کے اختیار میں لانا ضروری نہیں۔ بھارت نے بالواسطہ ٹیکسوں میں ورثے میں ملنے والی تقسیم اور پیچیدگی کا سامنا کرتے ہوئے آئینی اصلاحات کے ذریعے اشیا و خدمات ٹیکس کا ایک مربوط نظام تشکیل دیا۔ پاکستان کو بھی اپنا ایسا ماڈل وضع کرنے کی ضرورت ہے جو اس کے صوبوں کی آئینی خودمختاری کا احترام کرے، نہ کہ کسی ایک ملک کی مثال کو من وعن اپنانے کی کوشش کرے۔
نئے تشکیل پانے والے 11ویں این ایف سی [’11th NFC Award: challenges, hopes & solutions—I‘، بزنس ریکارڈر، 19 دسمبر 2025] نے ایک موقع فراہم کیا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 160 تقاضا کرتا ہے کہ پانچ سال سے زیادہ کے وقفے کے بغیر قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دیا جائے، مگر پاکستان 2010ء میں طے کیے گئے ایوارڈ کے تحت 15 برس سے زائد عرصے سے چل رہا ہے۔ 11ویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس دسمبر 2025ء میں ہوا۔ اب بحث کا محور ایک بار پھر حصوں اور شرحوں پر کشمکش نہیں ہونا چاہیے۔ نئے مالیاتی معاہدے کی بنیاد ذمہ داریوں اور اختیارات کی واضح تقسیم سے ہونی چاہیے [’Corporate taxes & NFC formula‘، بزنس ریکارڈر، 20 مارچ 2026]۔
وفاق کو ان ذمہ داریوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جو حقیقی معنوں میں وفاقی نوعیت کی ہیں اور ایک متفقہ عبوری مدت کے دوران ان شعبوں کے اخراجات سے دستبردار ہوجانا چاہیے جو آئینی طور پر صوبوں کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔
صوبوں کو بھی وفاق سے ملنے والی رقوم کو خودمختاری کا بنیادی پیمانہ سمجھنے کے بجائے اپنی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ مالیاتی مساوات کا نظام غریب صوبوں اور شہریوں کو تحفظ دے، لیکن کمزور محصولات کی کوشش یا غیر مؤثر اخراجات کی حوصلہ افزائی نہ کرے۔
تیسری سطح اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ جائیداد پر مناسب انداز میں عائد ٹیکس، موزوں مقامی محصولات اور دیگر بلدیاتی آمدنی کے ذرائع سے مقامی خدمات کے ایک بڑے حصے کے اخراجات پورے ہونے چاہییں۔ شہری اس وقت جواب دہی کا زیادہ مضبوط مطالبہ کرتے ہیں جب رقم وصول کرنے والا ادارہ ہی ان کے گھر کے باہر سڑک، گھر میں آنے والے پانی اور محلے سے اٹھائے جانے والے کچرے کا بھی ذمہ دار ہو۔
یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کینیڈا اور سوئٹزرلینڈ جیسے فعال وفاقی نظاموں سے سبق حاصل کرسکتا ہے۔ ان کے ادارہ جاتی انتظامات کو بعینہٖ پاکستان میں نافذ نہیں کیا جاسکتا، تاہم بنیادی اصول قابلِ قدر ہے: اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اس وقت تک بے معنی ہے جب تک ذیلی قومی حکومتوں کے پاس اخراجات کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ بامعنی محصولات عائد کرنے کا اختیار بھی نہ ہو۔
بالآخر ہمارا مقصد تینوں سطحوں پر مالی خودکفالت ہونا چاہیے، نہ کہ مالیاتی تنہائی۔ ایسے وفاق میں جہاں مختلف خطے معاشی طور پر یکساں نہ ہوں، وسائل میں توازن پیدا کرنے کے لیے مالیاتی منتقلی ہمیشہ ضروری رہے گی۔ قومی سطح پر ٹیکس وصولی بھی ناگزیر ہوگی۔
مشترکہ منڈیوں کے لیے ٹیکس اور دیگر مالیاتی نظام میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ قومی دفاع، قرضوں کی ادائیگی، بین الصوبائی بنیادی ڈھانچے اور دیگر وفاقی ذمہ داریوں کے لیے بھی وفاق کو خاطر خواہ وسائل درکار ہوں گے۔ تاہم اب اس طرزِ عمل کا خاتمہ ہونا چاہیے جس میں ہر سطح کی حکومت بڑی حد تک کہیں اور سے جمع کیے گئے وسائل خرچ کرتی ہے اور پھر اس کے نتائج کی ذمہ داری کسی دوسری سطح کی حکومت پر ڈال دیتی ہے۔
اس کے لیے ٹیکس کے بارے میں ہمارے سوچنے کے انداز میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔ پاکستان میں کامیابی کا پیمانہ بار بار ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بنایا جاتا ہے۔ آئینی سیاسی معیشت اس کے بجائے مختلف سوالات اٹھاتی ہے: کون سی حکومت ٹیکس وصول کر رہی ہے، کس سے وصول کر رہی ہے اور کس آئینی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے؟ ٹیکس کی شرح کون مقرر کرتا ہے؟ سروس کس کو ملتی ہے؟ اور ناکامی کی صورت میں ووٹر کس حکومت کو اقتدار سے باہر کرسکتا ہے؟
ان سوالات کے جواب موجود نہ ہوں تو ٹیکسوں میں اضافہ سرکاری آمدنی تو بڑھا سکتا ہے، مگر اس سے نہ جمہوریت مضبوط ہوگی اور نہ ترقی کی رفتار بہتر ہوگی۔
1947ء میں آزادی کی جدوجہد نے نوآبادیاتی سیاسی اقتدار کا خاتمہ کردیا، مگر اس سے نوآبادیاتی ریاست کے لیے تشکیل دیے گئے ادارے، مراعات اور مالیاتی تعلقات خودبخود ختم نہیں ہوئے۔ 79 برس بعد پاکستان کو اس ورثے کو ناقابلِ تغیر حقیقت سمجھنا چھوڑ دینا چاہیے۔
11واں قومی مالیاتی کمیشن [’11th NFC Award: challenges, hopes & solutions—III‘، بزنس ریکارڈر، 2 جنوری 2026] محض محصولات کی تقسیم کی ایک اور مشق بننے کے بجائے ایسے وفاق کی جانب منتقلی کا آغاز ہونا چاہیے جہاں ذمہ داریاں، مالی وسائل اور جواب دہی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں؛ صوبوں کو حقیقی معاشی خودمختاری حاصل ہو؛ بلدیاتی ادارے محض انتظامی ذیلی ادارے نہیں بلکہ مؤثر حکومتیں بنیں؛ اور شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے ٹیکس کہاں خرچ ہورہے ہیں۔
پاکستان نے 14 اگست 1947ء کو ریاستی خودمختاری حاصل کرلی تھی۔ اب ہمارے سامنے یہ چیلنج ہے کہ اسے عوام کی مالیاتی خودمختاری میں تبدیل کیا جائے۔ حقیقی معنوں میں یہی معاشی آزادی ہوگی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments