طوفان ڈولفن، بیجنگ اور وسطی چین میں شدید بارشوں کا خطرہ
- سرکاری میڈیا کے مطابق پیر اور منگل کے دوران وسطی صوبوں ہینان اور ہوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے کئی ریکارڈ ٹوٹ گئے
چین میں رواں سال آنے والے طاقتور ترین طوفان ڈولفن کی باقیات نے بدھ کے روز دارالحکومت بیجنگ اور وسطی صوبے ہینان کی جانب بڑی مقدار میں نمی منتقل کر دی، جس کے باعث شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بیجنگ میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کی سالانہ اوسط بارش کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ برسنے کا امکان ہے۔ طوفان ڈولفن اگرچہ 6 ہزار کلومیٹر سے زائد سفر کے بعد کمزور ہو چکا ہے، تاہم اس کی باقیات اب بھی ملک کے اندرونی علاقوں میں شدید بارشوں کا سبب بن رہی ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق پیر اور منگل کے دوران وسطی صوبوں ہینان اور ہوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے کئی ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ شہر ووگانگ میں 209.5 ملی میٹر جبکہ ژیانگ یانگ میں 169.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو اگست میں ایک دن کی بارش کا نیا ریکارڈ ہے۔
شدید بارشوں کے پیش نظر بیجنگ میں اورنج رین اسٹورم وارننگ جاری کر دی گئی ہے، جو خطرے کی دوسری بلند ترین سطح ہے۔ انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر چھ بس روٹس معطل کر دیے، جبکہ موسلا دھار بارش نے صبح کی ٹریفک کو بھی شدید متاثر کیا۔
چینی محکمہ موسمیات نے موسمی پیش گوئی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید موسمیاتی ماڈلز کا استعمال شروع کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں شدید موسمی حالات سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ایل نینو کے اثرات کے باعث چین میں شدید بارشوں، طوفانوں اور سیلاب کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ہر سال معیشت، صنعت اور زرعی شعبے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے۔


Comments