BR100 Decreased By (-0.81%)
BR30 Decreased By (-1.11%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 59.73 Decreased By ▼ -0.11 (-0.18%)
BIPL 27.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.66%)
BOP 34.11 Decreased By ▼ -1.17 (-3.32%)
CNERGY 12.84 Decreased By ▼ -0.29 (-2.21%)
DFML 18.25 Increased By ▲ 0.17 (0.94%)
DGKC 213.02 Decreased By ▼ -3.99 (-1.84%)
FABL 98.99 Decreased By ▼ -0.96 (-0.96%)
FCCL 57.66 Decreased By ▼ -0.31 (-0.53%)
FFL 16.20 Decreased By ▼ -0.22 (-1.34%)
GGL 23.80 Decreased By ▼ -0.56 (-2.3%)
HBL 333.71 Increased By ▲ 7.50 (2.3%)
HUBC 211.43 Decreased By ▼ -1.99 (-0.93%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.29 (-2.68%)
KEL 7.48 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 27.99 Increased By ▲ 0.24 (0.86%)
MLCF 100.65 Decreased By ▼ -2.33 (-2.26%)
OGDC 320.29 Decreased By ▼ -3.49 (-1.08%)
PAEL 43.12 Decreased By ▼ -0.78 (-1.78%)
PIBTL 16.56 Decreased By ▼ -0.12 (-0.72%)
PIOC 271.73 Decreased By ▼ -4.46 (-1.61%)
PPL 228.84 Decreased By ▼ -0.63 (-0.27%)
PRL 71.02 Increased By ▲ 0.91 (1.3%)
SNGP 102.22 Decreased By ▼ -1.44 (-1.39%)
SSGC 26.68 Decreased By ▼ -0.43 (-1.59%)
TELE 8.61 Decreased By ▼ -0.11 (-1.26%)
TPLP 15.11 Decreased By ▼ -0.57 (-3.64%)
TRG 59.84 Decreased By ▼ -1.29 (-2.11%)
UNITY 12.05 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

بحیرہ احمر اور خلیج میں بحری جہازوں پر حملے، دو پاکستانیوں سمیت تین افراد جاں بحق، رپورٹ

  • باب المندب میں چھوٹے مال بردار جہاز پر حملہ، پاکستان کے ساحل کے قریب کنٹینر بردار جہاز میزائل کی زد میں آ گیا
شائع اپ ڈیٹ

ذرائع کے مطابق منگل کو آبنائے باب المندب میں حوثیوں کے مشتبہ حملے میں ایک چھوٹے مال بردار بحری جہاز کے عملے کے تین ارکان چل بسے جبکہ پاکستان کے ساحل کے قریب ایک کنٹینر شپ کو بھی ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جسے مبینہ طور پر امریکی حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

اگر ہلاکتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے تو تنزانیہ کے پرچم بردار بحری جہاز ’’تیہامہ‘‘ پر ہونے والی یہ ہلاکتیں فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد حوثیوں کی جانب سے کسی بحری جہاز پر کیے گئے حملے میں پہلی ہلاکتیں ہوں گی۔تاہم حوثیوں نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

یمنی ذرائع کے مطابق مرنے والوں میں دو پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد عملے نے جہاز کا کنٹرول کھو دیا، جس کے بعد یمنی کوسٹ گارڈ کے اہلکار جہاز کے قریب پہنچے۔برطانیہ کے میری ٹائم رسک مینجمنٹ گروپ وینگارڈ کے مطابق اس کے بعد یمنی فورسز پر فائرنگ کی گئی۔

یاد رہے گزشتہ ماہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن کے محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا ہے، تاہم ریاض نے یمن کا محاصرہ کرنے کی تردید کی ہے۔

برطانوی بحریہ سے وابستہ ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق جہاز کو ایک نامعلوم پرتابی ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا۔

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی گروپ امبری کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز یمن کے جزیرہ پریم کے شمال مشرق میں لنگر انداز تھا۔

پاکستان کے قریب حملہ

بحری سلامتی سے متعلق ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ پاناما کے پرچم بردار کنٹینر جہاز ویلا نووا کو خلیج عمان میں داخل ہوتے وقت پاکستان کے ساحل کے قریب ایک حملے میں میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ جہاز پر ایک امریکی ہیلی کاپٹر نے حملہ کیا اور اس کے رڈر (سمت تبدیل کرنے والے پچھلے حصے) پر ہیل فائر میزائل داغا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب جہاز نے خطے میں ایران سے منسلک بحری جہازوں کی امریکی ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کی جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

اگر اس واقعے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اپریل میں ناکہ بندی کے اعلان کے بعد امریکی فورسز کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والا یہ 12 واں بحری جہاز ہوگا، جبکہ 14 جولائی کو ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد یہ تیسرا جہاز ہوگا۔

امریکی ایڈووکیسی گروپ یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران کے سینئر مشیر چارلی براؤن نے بتایا کہ اس جہاز نے حال ہی میں ممبئی اور پورٹ کلانگ، ملائیشیا میں قیام کیا تھا، جہاں ایران سے منسلک جہاز بھی دیکھے گئے ہیں۔ یو اے این آئی جہازوں اور سیٹلائٹ کی ٹریکنگ کے ذریعے ایران سے متعلق ٹینکر ٹریفک پر نظر رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا خلیج عمان میں ناکہ بندی کی حد کے قریب پاناما کے پرچم بردار ویلا نووا کو مبینہ طور پر امریکی فورسز کی جانب سے ناکارہ بنانے اور روکنے کا واقعہ اور اس سے قبل ممبئی بندرگاہ پر ان جہازوں کے ساتھ اس کا قیام، ایران سے متعلق بحری جہازوں پر اب کی جانے والی سخت نگرانی کو ظاہر کرتا ہے۔

وینگارڈ کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ جہاز کو پاکستان کے ساحل سے تقریباً 71 ناٹیکل میل دور نشانہ بنایا گیا۔یوکے ایم ٹی او نے بھی کہا کہ اسے ایک کنٹینر بردار جہاز سے متعلق ایک واقعے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

بحری جہازوں کی آمدورفت

2023 سے 2025 کے دوران حوثیوں کے جہاز رانی پر حملوں کی سابقہ لہر کے بعد سے آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں 50 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے ناکہ بندی کے اعلان کے بعد یہ آمدورفت مزید کم ہوگئی ہے۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے اوسطاً روزانہ 32 بحری جہاز آبنائے باب المندب سے گزرے، جبکہ ناکہ بندی سے قبل یہ اوسط تقریباً 50 جہاز روزانہ تھی۔

امبری نے بتایا کہ ذرائع کے مطابق تیہامہ نامی کارگو جہاز سعودی ملکیت یا سعودی آپریٹڈ نہیں تھا اور یہ ہفتے کو یمنی حکومت کے زیرِ کنٹرول بندرگاہ المخا سے روانہ ہوا تھا۔

ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار میں اس جہاز کے مالکان اور مینیجرز کے طور پر مصری کمپنیوں کے نام درج ہیں۔ان کمپنیوں نے فوری تبصرے کے لیے رائٹرز کی ای میلز اور فون کالز کا جواب نہیں دیا۔

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اس سے بھی زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ پیر کو صرف چھ بحری جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ گزشتہ 10 دن کی اوسط تقریباً 11 جہاز روزانہ اور جنگ سے قبل کی سطح تقریباً 130 سے 140 جہاز روزانہ تھی۔

Comments

200 حروف