گیس یوٹیلیٹیز کی تقسیم کا منصوبہ
- مسئلہ کارپوریٹ ڈھانچے میں ہے یا اسے چلانے والے نظامِ حکمرانی میں؟ جب تک اس سوال کا دیانت داری سے جواب نہیں دیا جاتا، گیس یوٹیلیٹیز کی تقسیم ایک بار پھر ظاہری طور پر اصلاح، مگر عملی طور پر تنزلی ثابت ہوسکتی ہے۔
اگر پالیسی ساز تقریباً تین دہائیاں قبل واپڈا کی تقسیم کے نتائج کو سمجھ کر ان سے سبق حاصل نہیں کرتے تو گیس یوٹیلیٹیز کو الگ الگ اداروں میں تقسیم کرنا واپڈا کی مہنگی غلطی دہرانے کے مترادف ہوگا۔ واپڈا کی تقسیم قومی اور عوامی مفاد میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی، بلکہ اس کے برعکس اس کے نتیجے میں ناقابلِ انتظام گردشی قرضے اور صارفین کے لیے ناقابلِ برداشت ٹیرف کا مسئلہ پیدا ہوا۔
یہ معاملہ دراصل گورننس کے نظام کا ہے
گیس یوٹیلیٹیز کی تقسیم ایک ناقص گورننس نظام کو درست نہیں کرسکتی۔
حکومت کی جانب سے پاکستان کی دو مربوط گیس یوٹیلیٹیز—سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل)—کی تقسیم کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ حالیہ برسوں میں توانائی کے شعبے کے لیے تجویز کردہ اہم ترین اصلاحات میں سے ایک ہے۔
عالمی بینک کی حمایت یافتہ اس منصوبے سے مسابقت، کارکردگی اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی توقع کی جارہی ہے۔ تقریباً تین دہائیاں قبل بھی ایسی ہی توقعات وابستہ کی گئی تھیں جب عالمی بینک کے ایک ایسے ہی منصوبے کے تحت واپڈا کو بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کار کمپنیوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ نتیجہ مسابقتی بجلی مارکیٹ کی صورت میں نہیں نکلا بلکہ ایک ایسے منتشر شعبے کی شکل میں سامنے آیا جو کمزور گورننس، ناقابلِ انتظام گردشی قرضے اور صارفین کے لیے ناقابلِ برداشت ٹیرف کا شکار ہوگیا۔ پاکستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ تاریخ خود کو نہ دہرائے۔
پالیسی سازوں کے لیے ساختی اصلاحات اکثر غیر معمولی کشش رکھتی ہیں۔ نئی کمپنیاں بنانا، تنظیمی ڈھانچے تبدیل کرنا اور نئے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرانا فیصلہ کن اقدام کا تاثر دیتا ہے۔ تاہم تجربہ بارہا ثابت کرچکا ہے کہ گورننس تبدیل کیے بغیر ادارے تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں۔
ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کی مجوزہ تنظیم نو تقریباً اسی خاکے کے مطابق ہے جو 1990 کی دہائی میں واپڈا کی تقسیم کے لیے اپنایا گیا تھا۔ ایک مربوط یوٹیلیٹی کو ایک ترسیلی کمپنی اور چار صوبائی تقسیم کار کمپنیوں میں تقسیم کیا جائے گا، جبکہ توقع کی جارہی ہے کہ مسابقت اور نجی سرمایہ کاری کارکردگی بہتر بنائے گی۔
کاغذ پر یہ ماڈل منطقی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن عملی طور پر پاکستان یہ تجربہ پہلے ہی کرچکا ہے۔
تقسیم سے قبل واپڈا ملک کے سب سے معتبر سرکاری اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ وہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کو ایک مربوط نظام کے طور پر منصوبہ بند کرتا تھا۔ آپریشنل فیصلوں میں ہم آہنگی تھی، سرمایہ کاری کو مرکزی سطح پر ترجیح دی جاتی تھی اور مالیاتی جواب دہی ایک ہی ادارے کے اندر تھی۔ دیگر سرکاری یوٹیلیٹیز کی طرح اس میں بھی خامیاں تھیں، لیکن وہ مالی طور پر پائیدار اور انتظامی طور پر مربوط ادارہ تھا۔
واپڈا کی تنظیم نو اور اصلاحاتی پروگرام نے سب کچھ بدل دیا۔
بجلی کی پیداوار کرنے والی کمپنیاں، این ٹی ڈی سی اور متعدد تقسیم کار کمپنیاں اس وعدے کے ساتھ قائم کی گئیں کہ نجکاری سے قبل انہیں پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے گا اور وہ تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل بنیں گی۔ بیوروکریٹک کنٹرول کی جگہ آزاد بورڈز کو لانا تھا اور سیاسی مداخلت کی جگہ مارکیٹ ڈسپلن متعارف کرایا جانا تھا۔
صارفین سے کم ٹیرف، بہتر خدمات اور زیادہ کارکردگی کے وعدے کیے گئے تھے۔ ان میں سے کوئی وعدہ پورا نہ ہوسکا۔
کارپوریٹائزیشن بڑی حد تک محض کاغذی کارروائی ثابت ہوئی۔ سیاسی تقرریاں انتظامیہ اور بورڈز پر بدستور غالب رہیں۔
تقسیم کار کمپنیاں مالی طور پر کمزور ہوتی گئیں کیونکہ ٹیرف، وصولیوں اور آپریشنل فیصلوں پر سیاسی اثر و رسوخ برقرار رہا۔ جس نجکاری کا طویل عرصے سے انتظار تھا وہ بامعنی انداز میں آگے نہ بڑھ سکی۔ مسابقت پیدا کرنے کے بجائے پاکستان نے انتظامی انتشار پیدا کرلیا۔
اس کے نتائج آج پوری شدت سے ہمارے سامنے ہیں۔ گردشی قرضہ پاکستان کے سب سے بڑے مالی خطرات میں شامل ہوچکا ہے۔ بجلی کے ٹیرف اس سطح تک پہنچ گئے ہیں جو صنعتی مسابقت کو متاثر کر رہے ہیں۔ صنعت کار توانائی کی لاگت کو برآمدات اور سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں شمار کرتے ہیں۔ ہزاروں میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کم استعمال ہورہی ہے، جبکہ حقیقی بجلی کھپت سے قطع نظر کیپیسٹی پیمنٹس میں اضافہ جاری ہے۔
یہ مربوط یوٹیلیٹی کا نتیجہ نہیں بلکہ کمزور گورننس کے تحت کام کرنے والے منتشر اداروں کا نتیجہ ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مشکل حالات میں کام کرنے کے باوجود ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کئی دہائیوں تک پاکستان کی مضبوط ترین سرکاری کمپنیوں میں شمار ہوتی رہیں۔ دونوں کمپنیوں کے حصص بلیو چِپ سرمایہ کاری تصور کیے جاتے تھے کیونکہ انہوں نے مالی استحکام اور پیشہ ورانہ انتظام کا مظاہرہ کیا تھا۔
بعد ازاں ان کی کارکردگی میں آنے والی خرابی بنیادی طور پر ساختی کمزوریوں کا نتیجہ نہیں تھی۔ بلکہ وہ بھی اسی گردشی قرضے کا شکار ہوئیں جو بجلی کے شعبے میں پیدا ہوا تھا۔ جب بجلی پیدا کرنے والے ادارے اپنی ادائیگیاں کرنے میں ناکام رہے تو مالی دباؤ بالآخر گیس سپلائی چین تک بھی پہنچ گیا۔
لہٰذا مسئلے کی تشخیص کو اس کی علامات کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کے گیس شعبے میں بلاشبہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ نظامی نقصانات کم کرنا ہوں گے، چوری پر قابو پانا ہوگا اور ٹیرف میں موجود بگاڑ کو دور کرنا ہوگا۔
سبسڈیز کو ہدفی اور شفاف بنانا چاہیے۔ ریگولیٹری نگرانی زیادہ قابلِ اعتماد اور آزاد ہونی چاہیے۔ کارپوریٹ گورننس کو بھی نمایاں طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
تاہم ان میں سے کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے مربوط یوٹیلیٹیز کو لازماً ختم کرنا ضروری نہیں۔
بلکہ تقسیم سے نئی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ صوبائی تقسیم کار کمپنیوں کو یکسر مختلف آپریٹنگ حالات کا سامنا ہوگا۔ صوبوں کے درمیان نقصانات کی شرح میں نمایاں فرق ہے۔ ترسیل اور تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان ٹرانسفر پرائسنگ تنازع کا باعث بن سکتی ہے۔ یکساں قومی ٹیرف برقرار رکھنا بھی بتدریج مشکل ہوسکتا ہے۔
ریگولیٹری نگرانی کا عمل بھی خاصا پیچیدہ ہوجائے گا اور اس کے لیے ایسی ادارہ جاتی صلاحیت درکار ہوگی جسے پاکستان تاریخی طور پر پیدا کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔
یہ خدشات محض قیاس آرائی نہیں ہیں۔ ماضی میں آزاد کنسلٹنٹس اور حتیٰ کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بھی سابقہ تقسیم کی تجویز کا جائزہ لیتے ہوئے ایسے ہی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے اکثر ساختی لبرلائزیشن کی وکالت کرتے ہیں کیونکہ بعض ممالک میں یہ کامیاب رہی ہے۔ تاہم ان کامیابیوں کی بنیاد مضبوط ریگولیٹری اداروں، معاہدوں کی پابندی، آزاد ریگولیٹرز اور پیشہ ورانہ کارپوریٹ گورننس پر تھی۔ ان بنیادی شرائط کو محض فرض کرلینے سے وہ حقیقت میں وجود میں نہیں آجاتیں۔
پاکستان کا توانائی بحران کبھی بنیادی طور پر اداروں کے تنظیمی ڈھانچے کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا۔ اس کی اصل وجوہات کمزور گورننس، غیر مستقل پالیسی سازی اور سیاسی مداخلت رہی ہیں۔ جب تک ان بنیادی خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا، مزید کمپنیاں قائم کرنے کا نتیجہ صرف انتظامی اخراجات میں اضافے اور جواب دہی کے بکھراؤ کی صورت میں نکلے گا۔
تاریخ اس حوالے سے واضح سبق دیتی ہے۔ پاکستان ناکام اس لیے نہیں ہوا کہ واپڈا ایک مربوط ادارہ تھا؛ بلکہ تقسیم کے بعد گورننس کی ناکامی نے اسے مشکلات سے دوچار کیا۔ اصل مسئلے کو نظرانداز کرتے ہوئے اسی ادارہ جاتی نسخے کو دوبارہ آزمانے سے مختلف نتائج کی توقع رکھنا مشکل ہے۔
دو تاریخی طور پر کامیاب گیس یوٹیلیٹیز کو تقسیم کرنے سے پہلے حکومت کو ایک بنیادی سوال کا جواب دینا چاہیے: مسئلہ کارپوریٹ ڈھانچے میں ہے یا اسے چلانے والے نظامِ حکمرانی میں؟
جب تک اس سوال کا دیانت داری سے جواب نہیں دیا جاتا، گیس یوٹیلیٹیز کی تقسیم ایک بار پھر ظاہری طور پر اصلاح، مگر عملی طور پر تنزلی ثابت ہوسکتی ہے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026


Comments