رحمان-8 ایس ٹی-3 کنواں: حکومت نے پب ریزروائر کو ٹائٹ گیس قرار دے دیا
- فیصلہ ٹائٹ گیس پالیسی 2011 کی شق 4 کے تحت کیا گیا ہے، ذرائع
حکومت نے پٹرولیم ڈویژن کی سفارشات پر رحمان-8 ایس ٹی-3 کنویں میں پب ریزروائر کو ٹائٹ گیس ریزروائر قرار دے دیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ فیصلہ ٹائٹ گیس (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) پالیسی 2011 کی شق 4 کے تحت کیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے حال ہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر روایتی وسائل سے گیس کی مقامی پیداوار میں اضافے کے ذریعے پاکستان کی توانائی سلامتی یقینی بنانا اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے ٹائٹ گیس (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) پالیسی 2011 متعارف کرائی ہے جس کے تحت کم نفوذ پذیری والے گیس ذخائر کی ترقی کے لیے مراعات دی گئی ہیں جو روایتی پیداواری طریقوں کے تحت تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل نہیں ہوتے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے آگاہ کیا کہ ایم/ایس پالش آئل اینڈ گیس کمپنی (پی او جی سی) پاکستان نے ٹائٹ گیس (تایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) پالیسی کی شق 5(ایچ) کے مطابق، رحمان ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز میں واقع رحمان-8 ایس ٹی-3 کنویں کے حوالے سے ٹائٹ گیس ذخائر اور ریزروائر کی دوبارہ جانچ اور سرٹیفیکیشن کی منظوری کی درخواست کی ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے مزید آگاہ کیا کہ رحمان-8 ایس ٹی-3 کنویں کی ڈرلنگ 5 اگست 2021 کو شروع کی گئی اور مختلف آپریشنل چیلنجز سے نمٹنے کے بعد 2 مئی 2023 کو یہ کنواں 2,845 میٹر (ایم ڈی) کی مجموعی گہرائی تک پہنچا۔ کنویں میں اپر پب سینڈ کے حصے میں پرفوریشن کی گئی جبکہ فریکچرنگ سے قبل اور بعد کے پیداواری نتائج سے ظاہر ہوا کہ غیر روایتی تکمیلی تکنیکوں کے استعمال کے بعد گیس کے بہاؤ کی شرح میں نمایاں بہتری آئی۔
تاہم جائزے کے بعد میسرز آر پی ایس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو مسترد کردیا گیا اور 23 اکتوبر 2024 کے خط کے ذریعے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ مزید برآں ایم/ایس پی او جی سی کو آگاہ کیا گیا کہ پب ریزروائر اور اس سے متعلقہ گیس ذخائر کو روایتی نوعیت کا تصور کیا جائے گا۔
پٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ بعد ازاں ایم/ایس پی او جی سی کی درخواست پر ٹائٹ گیس (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) پالیسی 2011 کی شق 5(ایچ ) کے تحت رحمان-8 ایس ٹی-3 کی ازسرِنو تشخیص ایک اور بین الاقوامی شہرت یافتہ تھرڈ پارٹی کنسلٹنٹ ایم/ایس آئی پی آر انٹرنیشنل سے کرائی گئی۔
کنسلٹنٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ: (i) رحمان-8 ایس ٹی-3 میں پب گیس بیئرنگ ریزروائر 2011ء کی پالیسی کے تحت ٹائٹ گیس ریزروائر کے زمرے میں آتا ہے؛ (ii) اس ریزروائر سے روایتی پیداوار اور تکمیل کی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے معاشی لحاظ سے پیداوار حاصل نہیں کی جا سکتی؛ اور (iii) تاہم اعلیٰ کارکردگی والی پرفوریشن کے ساتھ سیمی میسیو ہائیڈرولک فریکچرنگ جیسی غیر روایتی تکنیکوں کے ذریعے اسے تجارتی بنیادوں پر قابلِ استعمال بنایا جاسکتا ہے۔
ریزروائر کے تفصیلی جائزے کی بنیاد پر، ایم/ایس آئی پی آر انٹرنیشنل نے تصدیق کی کہ ریزروائر کی پارمی ایبلٹی تقریباً 0.91 ملی ڈارسی ہے جو ٹائٹ گیس پالیسی کے تحت مقرر کردہ 1.0 ملی ڈارسی کی حد سے کم ہے جس کی وجہ سے یہ ریزروائر ٹائٹ گیس کے زمرے میں آتا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے مزید بتایا کہ ڈی جی پی سی کی تکنیکی ٹیم نے کنسلٹنٹ کی سفارشات پر کچھ اعتراضات اٹھائے۔
اس کے جواب میں کنسلٹنٹ نے وضاحتیں اور جواز فراہم کیے جو رپورٹ کا حصہ ہیں۔ یہ واضح کرنا اہم ہے کہ پالیسی کے تحت ٹائٹ گیس ریزروائرز کی سرٹیفیکیشن کسی آزاد تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) ریزروائر کنسلٹنٹ سے کروانا لازمی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments