BR100 Increased By (1.9%)
BR30 Increased By (1.3%)
KSE100 Increased By (1.66%)
KSE30 Increased By (1.87%)
BAFL 58.97 Increased By ▲ 0.28 (0.48%)
BIPL 27.06 Increased By ▲ 0.06 (0.22%)
BOP 34.75 Increased By ▲ 1.05 (3.12%)
CNERGY 11.06 Increased By ▲ 0.05 (0.45%)
DFML 18.11 Increased By ▲ 0.05 (0.28%)
DGKC 216.99 Increased By ▲ 4.96 (2.34%)
FABL 102.34 Increased By ▲ 2.20 (2.2%)
FCCL 56.42 Increased By ▲ 1.28 (2.32%)
FFL 16.41 Increased By ▲ 0.31 (1.93%)
GGL 23.81 Increased By ▲ 0.06 (0.25%)
HBL 322.04 Increased By ▲ 15.05 (4.9%)
HUBC 221.52 Increased By ▲ 3.04 (1.39%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Increased By ▲ 0.06 (0.83%)
LOTCHEM 27.12 Increased By ▲ 0.21 (0.78%)
MLCF 97.94 Increased By ▲ 2.01 (2.1%)
OGDC 316.30 Increased By ▲ 2.19 (0.7%)
PAEL 42.30 Increased By ▲ 0.38 (0.91%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 269.38 Increased By ▲ 2.21 (0.83%)
PPL 220.69 Increased By ▲ 2.97 (1.36%)
PRL 63.65 Increased By ▲ 0.95 (1.52%)
SNGP 106.24 Decreased By ▼ -0.56 (-0.52%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.34 (1.27%)
TELE 8.73 Increased By ▲ 0.25 (2.95%)
TPLP 14.78 Decreased By ▼ -0.16 (-1.07%)
TRG 61.41 Increased By ▲ 0.74 (1.22%)
UNITY 11.14 Increased By ▲ 1.01 (9.97%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.03 (2.48%)
کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج: خریداری کا سلسلہ جاری، ایک لاکھ 80 ہزار کی حد بحال

  • کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 180,014.93 پوائنٹس پر بند
شائع اپ ڈیٹ

ایران جنگ کے سفارتی حل کی امید پیدا کرنے والے قطری اور امریکی حکام کے بیانات کے باعث بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان جاری رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای100 انڈیکس ایک لاکھ 80 ہزار کی سطح پر بحال ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، بعدازاں انڈیکس پر مختصر فروخت کا دباؤ آیا جس کے باعث یہ انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 178,512.09 پوائنٹس پر آ گیا۔

تاہم سرمایہ کاروں کے رجحان میں جلد بہتری آئی جس کے نتیجے میں مسلسل خریداری کا سلسلہ شروع ہوگیا اور بینچ مارک انڈیکس نے دوپہر تک اپنے تمام نقصانات کا ازالہ کرلیا۔ کاروباری سیشن کے آخری گھنٹوں میں تیزی مزید بڑھ گئی جس سے انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 180,202.38 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 2,931.71 پوائنٹس یا 1.66 فیصد اضافے سے 180,014.93 پوائنٹس پر بند ہوا۔

امریکی اور ایرانی تعلقات میں بہتری کے باعث مارکیٹ میں پائے جانے والے مثبت رجحان کی بدولت مقامی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ جاری رہا۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بحال کیا، جس سے تمام اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ یہ بات بروکرج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے بعد جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتائی۔تیل کی قیمتوں میں کمی سے افراطِ زر (مہنگائی) کے دباؤ میں کمی اور پاکستان کے بیرونی کھاتے (ایکسٹرنل اکاؤنٹ) کی صورتحال میں بہتری کی توقعات نے بھی اس مثبت فضا کو مزید تقویت دی۔

ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں اپنا حصہ ڈالنے کے حوالے سے اینگرو، ایم ای بی ایل، یو بی ایل، ایچ بی ایل اور ایف ایف سی نمایاں رہے، جنہوں نے مشترکہ طور پر بینچ مارک انڈیکس میں تقریباً 1,293 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

اہم پیشرفت میں پاکستان نے مبینہ طور پر چین سے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ کی درخواست کی جب کہ شرائط و ضوابط حتمی ہونے کے بعد رواں ماہ کے آخر میں یہ رقم موصول ہونے کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی رہی اور وسیع پیمانے پر منافع کے حصول کے باعث ابتدائی تیزی برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے پیر کی زبردست ریلی کے بعد منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔

عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی رہی کیونکہ کمپنیوں کے مضبوط مالی نتائج اور ٹیکنالوجی شعبے میں سرمایہ کاروں کی دوبارہ بڑھتی دلچسپی نے وال اسٹریٹ کو ریکارڈ بلند سطح تک پہنچا دیا جبکہ آبنائے ہرمز کھولنے میں پیش رفت کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتوں اور بانڈ ییلڈز میں کمی ہوئی۔

جاپان کا نکئی انڈیکس 3.0 فیصد بڑھ گیا جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا اور اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا۔ ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 2.4 فیصد بڑھا جبکہ چینی بلیو چِپ حصص میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا۔

ٹیکنالوجی شعبے میں تیزی کے باوجود اے ایم ڈی کو دھچکا لگا جس کے حصص کاروباری اوقات کے بعد 8.8 فیصد گرگئے۔ کمپنی کی آمدنی مارکیٹ کی توقعات سے بہتر رہی، تاہم سرمایہ کاروں کی غیر معمولی بلند توقعات پر پوری نہ اترسکی۔

مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ گروپ اسپیس ایکس کے حصص میں بھی 7.5 فیصد کمی ہوئی جس سے معمول کے کاروباری اوقات میں ہونے والی بیشتر تیزی ختم ہوگئی۔ اس کی وجہ کمپنی کے سرمائے کے اخراجات سے متعلق خدشات ہیں کہ یہ اس کے تمام نقد بہاؤ کو استعمال کررہے ہیں۔

کمپیوٹنگ پاور کی بھاری لاگت کے باعث یہ خدشہ تمام اے آئی کمپنیوں کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنا ہوا ہے جبکہ اس شعبے کے لیے قرض لینے کی لاگت بھی بڑھتی جارہی ہے۔

اے ایم ڈی کے مالی نتائج کے بعد نیسڈیک فیوچرز میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی جبکہ منگل کو آل ٹائم بلند ترین سطح پر پہنچنے والے ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا۔

دریں اثناء بدھ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت میں معمولی اضافے کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے (0.01 روپے) کی پیشرفت کے ساتھ 277.75 روپے پر بند ہوئی۔

آل شیئرز انڈیکس میں ٹریڈنگ کا حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 71 کروڑ 12 لاکھ (711.27 ملین) شیئرز سے بڑھ کر 74 کروڑ 56 لاکھ (740.56 ملین) شیئرز ہو گیا۔شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 25.87 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 35.91 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

ٹرسٹ بروکریج 5 کروڑ 28 لاکھ (52.88 ملین) شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی، جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 4 کروڑ 25 لاکھ (42.52 ملین) شیئرز اور سنوورجیکو 4 کروڑ 2 لاکھ (40.20 ملین) شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔

بدھ کو کل 496 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 303 کی قیمتوں میں اضافہ، 158 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 35 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہیں۔

Comments

200 حروف