BR100 Increased By (1.4%)
BR30 Increased By (1.27%)
KSE100 Increased By (1.1%)
KSE30 Increased By (1.29%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.48 (0.83%)
BIPL 27.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 33.87 Increased By ▲ 0.38 (1.13%)
CNERGY 11.03 Increased By ▲ 0.29 (2.7%)
DFML 18.10 Increased By ▲ 0.32 (1.8%)
DGKC 214.40 Increased By ▲ 7.09 (3.42%)
FABL 100.85 Increased By ▲ 0.49 (0.49%)
FCCL 55.63 Increased By ▲ 1.45 (2.68%)
FFL 16.11 Increased By ▲ 0.04 (0.25%)
GGL 23.75 Increased By ▲ 0.84 (3.67%)
HBL 308.76 Increased By ▲ 5.09 (1.68%)
HUBC 219.80 Increased By ▲ 2.68 (1.23%)
HUMNL 10.71 Increased By ▲ 0.09 (0.85%)
KEL 7.28 Increased By ▲ 0.10 (1.39%)
LOTCHEM 27.05 Increased By ▲ 0.08 (0.3%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 2.58 (2.72%)
OGDC 318.00 Increased By ▲ 3.96 (1.26%)
PAEL 42.70 Increased By ▲ 0.43 (1.02%)
PIBTL 17.07 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
PIOC 273.89 Increased By ▲ 4.44 (1.65%)
PPL 220.00 Increased By ▲ 3.79 (1.75%)
PRL 62.80 Increased By ▲ 2.66 (4.42%)
SNGP 104.70 Increased By ▲ 1.81 (1.76%)
SSGC 25.72 Increased By ▲ 0.44 (1.74%)
TELE 8.44 Increased By ▲ 0.19 (2.3%)
TPLP 14.63 Increased By ▲ 1.26 (9.42%)
TRG 60.40 Decreased By ▼ -0.45 (-0.74%)
UNITY 10.06 Increased By ▲ 0.10 (1%)
WTL 1.20 Increased By ▲ 0.01 (0.84%)
کاروبار اور معیشت

جولائی کے دوران مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد ریکارڈ

  • جون میں کنزیومر پرائس انڈیکس 11.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

جولائی 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح سالانہ 9.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

جون میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 11.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا جب کہ جولائی 2025ء میں سی پی آئی 4.1 فیصد رہا تھا۔

جولائی 2026 میں ماہانہ بنیاد پراس میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جب کہ گزشتہ ماہ 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ جولائی 2025 میں ماہانہ بنیاد پر اس میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

شہری علاقوں میں کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت مہنگائی کی شرح جولائی 2026 میں سالانہ بنیاد پر 8.7 فیصد رہی جب کہ گزشتہ ماہ یہ 11.2 فیصد اور جولائی 2025 میں 4.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھ

ماہانہ بنیادوں پر جولائی 2026ء میں اس میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جب کہ پچھلے مہینے 0.5 فیصد کمی ہوئی تھی اور جولائی 2025ء میں 3.4 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

جولائی 2026ء میں سالانہ بنیادوں پر دیہی علاقوں کا سی پی آئی انفلیشن 9.9 فیصد رہا جب کہ پچھلے ماہ اس میں 10.9 فیصد اضافہ ہوا تھا اور جولائی 2025ء میں 3.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

ماہانہ بنیاد پر جولائی 2026 میں دیہی علاقوں کی مہنگائی بڑھنے کی شرح میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ماہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ جولائی 2025 میں ماہانہ بنیاد پر 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

حکومت کی توقعات

وزارتِ خزانہ نے اپنی تازہ ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ میں مسلسل بڑھتی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جولائی 2026 میں صارف قیمت اشاریہ کی شرح 9 سے 10 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مہنگائی کا دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب ملکی معیشت کو براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 33.9 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا جو مالی سال 2024-25 کے 2.48 ارب ڈالر سے کم ہو کر گزشتہ مالی سال 1.64 ارب ڈالر رہ گئی۔

چند روز قبل اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے پہلے اجلاس میں شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

پریس بریفنگ میں اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے جولائی میں مہنگائی کی شرح میں کمی کی توقع ظاہر کی۔

جمیل احمد نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک صارف قیمت اشاریہ ہماری 5 سے 7 فیصد کی ہدفی حد کی بالائی سطح پر آجائے گا۔

تجزیہ کاروں کی توقعات

تجزیہ کاروں نے پہلے ہی توقع ظاہر کی تھی کہ جولائی میں پاکستان کی مجموعی مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں واپس آ جائے گی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ کمی بڑی حد تک سازگار بنیادی اثرات کی وجہ سے ہوگی جبکہ قیمتوں پر بنیادی دباؤ بدستور برقرار رہے گا۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے جولائی میں مجموعی مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.3 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ سنگل ڈیجٹ میں واپسی حقیقی طور پر مہنگائی کی رفتار میں کمی کے بجائے بڑی حد تک بنیادی اثرات کا نتیجہ ہوگی۔

علاوہ ازیں جے ایس گلوبل نے جولائی میں مجموعی صارف قیمت اشاریہ کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

Comments

200 حروف