BR100 Increased By (0.24%)
BR30 Increased By (0.4%)
KSE100 Increased By (0.31%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 58.17 Increased By ▲ 0.48 (0.83%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 33.49 Increased By ▲ 0.10 (0.3%)
CNERGY 10.74 Increased By ▲ 0.13 (1.23%)
DFML 17.78 Increased By ▲ 0.03 (0.17%)
DGKC 207.31 Increased By ▲ 0.08 (0.04%)
FABL 100.36 Increased By ▲ 0.54 (0.54%)
FCCL 54.18 Increased By ▲ 0.12 (0.22%)
FFL 16.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 22.91 Decreased By ▼ -0.88 (-3.7%)
HBL 303.67 Increased By ▲ 2.37 (0.79%)
HUBC 217.12 Decreased By ▼ -0.10 (-0.05%)
HUMNL 10.62 Increased By ▲ 0.19 (1.82%)
KEL 7.18 Decreased By ▼ -0.01 (-0.14%)
LOTCHEM 26.97 Decreased By ▼ -0.16 (-0.59%)
MLCF 94.87 Decreased By ▼ -0.72 (-0.75%)
OGDC 314.04 Increased By ▲ 0.04 (0.01%)
PAEL 42.27 Increased By ▲ 0.15 (0.36%)
PIBTL 17.04 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
PIOC 269.45 Decreased By ▼ -0.40 (-0.15%)
PPL 216.21 Increased By ▲ 1.06 (0.49%)
PRL 60.14 Increased By ▲ 3.51 (6.2%)
SNGP 102.89 Increased By ▲ 1.97 (1.95%)
SSGC 25.28 Increased By ▲ 0.10 (0.4%)
TELE 8.25 Decreased By ▼ -0.06 (-0.72%)
TPLP 13.37 Increased By ▲ 0.64 (5.03%)
TRG 60.85 Decreased By ▼ -0.95 (-1.54%)
UNITY 9.96 Decreased By ▼ -0.07 (-0.7%)
WTL 1.19 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

جنوبی کوریا کی درخواست پر انڈونیشیا کے صدر شمالی کوریا سے مذاکرات کے لیے جانے کو تیار

  • صدر پربوو سبیانتو نے کہا، "انڈونیشیا کو ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جو دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا خواہاں نہیں، اور ہم اس اصول پر مضبوطی سے قائم ہیں۔"
شائع اپ ڈیٹ

انڈونیشیا کے صدر پربوو سبیانتو نے جمعہ کو کہا کہ جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ شمالی کوریا جا کر مذاکرات کا آغاز کر سکتے ہیں، جس پر انہوں نے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست کی گئی تو وہ ضرور جائیں گے۔

صدر سبیانتو نے یہ بات انڈونیشین چیمبر آف کامرس سے خطاب کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا تمام ممالک، بشمول چین اور امریکا، کے ساتھ یکساں اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے اپریل میں سیول کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی کوریا کے صدر نے ان سے شمالی کوریا کے ساتھ کسی نوعیت کے مذاکرات شروع کرانے کے لیے پیانگ یانگ جانے کے امکان پر بات کی تھی۔

صدر سبیانتو کے بقول، ”سیول کے اپنے گزشتہ دورے کے دوران جنوبی کوریا کے صدر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں شمالی کوریا جا کر کسی نوعیت کے مذاکرات کا آغاز کر سکتا ہوں۔ میں نے پورے احترام اور آمادگی کے ساتھ جواب دیا کہ اگر آپ مجھ سے یہ درخواست کریں گے تو میں ضرور جاؤں گا۔“

صدر پربوو سبیانتو نے کہا، ”انڈونیشیا کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، اور ہم اس اصول پر مضبوطی سے قائم ہیں۔“

اس پر جنوبی کوریا کے صدر کے دفتر نے کہا کہ سیول کا خیال ہے کہ انڈونیشیا اور دیگر وہ ممالک، جن کے تعلقات جنوبی اور شمالی کوریا دونوں کے ساتھ دوستانہ ہیں، جزیرہ نما کوریا میں پُرامن بقائے باہمی کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں، اور جنوبی کوریا اس سلسلے میں ان ممالک کے ساتھ تعاون کے مختلف امکانات کا جائزہ لیتا رہا ہے۔

انڈونیشیا روایتی طور پر غیر جانبدار خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر پربوو سبیانتو نے ثالثی کی پیشکش کی ہو۔

انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے مارچ میں کہا تھا کہ صدر پربوو ایران کی جنگ میں ثالثی کے لیے تیار ہیں تاکہ ”خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔“

اپریل میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر لی جائے میونگ اور صدر پربوو سبیانتو نے توانائی کے تحفظ پر تبادلۂ خیال کیا اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

گزشتہ سال منصب سنبھالنے کے بعد سے صدر لی جائے میونگ نے پیانگ یانگ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاہم مذاکرات کے لیے ان کی بار بار کی گئی پیشکشوں کو شمالی کوریا مسترد کرتا آیا ہے۔ شمالی کوریا نے 2024 میں جنوبی کوریا کو ”دشمن ریاست“ قرار دے دیا تھا۔

Comments

200 حروف