وفاقی وزیر تجارت نے بھی حکومتی اصلاحات کا مطالبہ کردیا
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے ہفتے کو وسیع پیمانے پر حکومتی اصلاحات کے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا جس سے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں میں بڑھتے ہوئے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومتی نظام میں اصلاحات اور ازسرِنو تشکیل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، ڈیجیٹل رفتار کے اس نئے دور میں اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بیان اپنی 5 اگست 2018 کی ایک سابقہ پوسٹ کے ساتھ شیئر کیا جس میں انہوں نے حکومتی نظام کی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کی تھی اور عوامی خدمت پر مبنی انتظامیہ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
اپنی سابقہ پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ میں اتفاق کرتا ہوں، بلوچستان میں ہمارا گورننس کا نظام مفلوج ہو چکا ہے اور اسے کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر یہ ایک مناسب اور عوام کی خدمت پر مبنی صوبائی حکومت ہوتی تو سب کچھ ٹھیک ہوتا۔ سب سے پہلا اور سب سے بڑا کام اسے عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک مکمل طور پر فعال ادارہ بنانا ہے۔
وفاقی وزیر کے یہ ریمارکس وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے جمعرات کو دیے گئے بیان کے بعد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ حکومتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور خبردار کیا کہ بنیادی اصلاحات کے بغیر ملک کے دیرینہ مسائل حل نہیں کیے جا سکتے جن میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام بھی شامل ہے۔
دریں اثنا اپنے سابقہ بیان کو دوبارہ سامنے لاتے ہوئے جام کمال نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مؤثر حکمرانی کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، ازسرِنو تشکیل اور عوام کو مؤثر انداز میں خدمات کی فراہمی پر زیادہ توجہ ضروری ہے، خاص طور پر ایسے دور میں جب تیزی سے ہونے والی ڈیجیٹل تبدیلیاں دنیا کو آگے لے جا رہی ہیں۔


Comments