ہونڈا اٹلس کا بیٹری الیکٹرک وہیکل شعبے میں فوری داخلے سے انکار
- ہائبرڈ گاڑیوں کو پاکستان کے لیے زیادہ قابلِ عمل حل سمجھتے ہیں، انتظامیہ
پاکستان میں ہونڈا گاڑیوں کی اسمبلنگ کرنے والی کمپنی ہونڈا اٹلس کارز (ایچ سی اے آر) نے ملک کے بیٹری الیکٹرک وہیکل (بی ای وی) شعبے میں فوری داخلے کے امکان کو مسترد کردیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کے پاس الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور مقامی سطح پر تیاری کی صلاحیت موجود ہے تاہم وہ فی الحال اپنی توجہ ہائبرڈ گاڑیوں پر مرکوز رکھے گی۔
کمپنی انتظامیہ نے منگل کو منعقدہ ایک کارپوریٹ بریفنگ سیشن کے دوران یہ بات کہی جس میں عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے بھی شرکت کی۔
بریفنگ کے دوران ایچ سی اے آر کی انتظامیہ نے کہا کہ وہ بیٹری الیکٹرک وہیکلز کے مقابلے میں ہائبرڈ گاڑیوں کو پاکستان کے لیے زیادہ قابلِ عمل حل سمجھتی ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے بریفنگ کے نکات میں بتایا کہ اگرچہ کمپنی کو ای وی ٹیکنالوجی اور لوکلائزیشن (مقامی پیداوار) کی صلاحیتوں تک رسائی حاصل ہے لیکن فی الحال اس کا بی ای وی شعبے میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اے ایچ ایل کی تجزیہ کار مینکا کرپلانی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ہونڈا کا ماننا ہے کہ ہائبرڈ گاڑیاں پاکستان کے لیے قریبی مستقبل میں زیادہ عملی حل ہیں جو بنیادی طور پر ملک کے موجودہ بنیادی ڈھانچے اور صارفین کی تیاری کی وجہ سے ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق انتظامیہ کی توقع ہے کہ مارکیٹ مکمل طور پر بی ای ویز کی طرف منتقل ہونے سے پہلے ہائبرڈ گاڑیوں کے مرحلے سے گزرے گی۔
تاہم کمپنی کے پاس پہلے ہی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کے لیے ضروری ٹیکنالوجی اور مقامی سطح پر تیاری کی صلاحیت موجود ہے۔
یہ اعلان حکومت کے ایجنڈے کے برعکس ہے جس میں ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور ان کی مقامی سطح پر تیاری پر زور دیا گیا ہے۔ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا شعبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے تاہم حکومت کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا اور ایندھن کے درآمدی بل میں کمی لانا ہے۔
چند روز قبل چینی آٹو کمپنی بی وائی ڈی کے پاکستان منصوبے نے کہا تھا کہ سندھ کے علاقے گھارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 15 کروڑ ڈالر مالیت کا اسمبلی پلانٹ حتمی مراحل میں ہے اور کمپنی نے ملک میں مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی پہلی بی وائے ڈی گاڑی کو جلد از جلد سڑکوں پر لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔
دریں اثنا بریفنگ سیشن کے دوران ایچ سی اے آر کی انتظامیہ نے بتایا کہ وہ اپنی ہائبرڈ ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے جسے وہ حریف کمپنیوں کی ٹیکنالوجی سے بہتر سمجھتی ہے۔
بروکریج ہاؤس نے مزید کہا کہ وہ اس حکمتِ عملی میں تبدیلی کی حمایت کے لیے اس وقت اخراجات کا بوجھ خود برداشت کر رہے ہیں اور اپنے منافع کے مارجن پر سمجھوتہ کر رہے ہیں۔


Comments