BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.74 Decreased By ▼ -0.46 (-0.82%)
BIPL 27.10 Increased By ▲ 0.33 (1.23%)
BOP 32.75 Decreased By ▼ -0.23 (-0.7%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.90 Increased By ▲ 0.18 (1.02%)
DGKC 196.00 Decreased By ▼ -0.67 (-0.34%)
FABL 98.95 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.09 Increased By ▲ 0.84 (1.64%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.32 (1.98%)
GGL 25.00 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
HBL 292.40 Decreased By ▼ -3.09 (-1.05%)
HUBC 214.25 Increased By ▲ 0.07 (0.03%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.18 Increased By ▲ 0.12 (1.7%)
LOTCHEM 26.85 Decreased By ▼ -2.27 (-7.8%)
MLCF 88.75 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
OGDC 310.37 Decreased By ▼ -1.58 (-0.51%)
PAEL 40.95 Decreased By ▼ -0.04 (-0.1%)
PIBTL 15.94 Decreased By ▼ -0.02 (-0.13%)
PIOC 284.70 Increased By ▲ 1.86 (0.66%)
PPL 212.00 Decreased By ▼ -0.66 (-0.31%)
PRL 53.40 Increased By ▲ 0.86 (1.64%)
SNGP 98.70 Decreased By ▼ -0.66 (-0.66%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.36 Increased By ▲ 0.04 (0.48%)
TPLP 13.00 Decreased By ▼ -0.22 (-1.66%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.93 Decreased By ▼ -0.01 (-0.1%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.02 (1.64%)
مارکٹس

ایران اور یوکرین کی جنگوں سے تیل کی رسد متاثر، اسپاٹ مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر کے قریب پہنچ گئیں

  • دنیا بھر میں 60 فیصد سے زائد خام تیل کی نقد کھیپوں کی قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہونے والا عالمی معیار "ڈیٹڈ برینٹ" 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
شائع اپ ڈیٹ

ایران اور یوکرین کی جنگوں سے جڑے رسد کے مسائل کے باعث مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں خام تیل کی نقد کھیپوں کی قیمتیں رواں ہفتے دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ بعض اقسام کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب جا پہنچیں۔ فوری فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث خریدار متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کے لیے سرگرداں رہے۔

دنیا بھر میں 60 فیصد سے زائد خام تیل کی نقد کھیپوں کی قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہونے والا عالمی معیار ڈیٹڈ برینٹ جمعرات کو 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو مئی کے اواخر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق، جون کے اوائل کے بعد پہلی بار اس کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ کی بنیاد پر قیمت پانے والا شمالی بحیرہ فورٹیز خام تیل جمعہ کو 108.77 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

اس ہفتے یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملے کیے، جس کے بعد سعودی عرب سے تیل کی بعض کھیپوں کو افریقہ کا چکر لگا کر متبادل بحری راستے سے بھیجا جانے لگا۔ یہ صورتِ حال امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی امن معاہدہ ناکام ہونے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات میں بڑھتی رکاوٹوں کے بعد مزید سنگین ہوگئی۔

آئل بروکریج کمپنی پی وی ایم کے تجزیہ کار تاماس ورگا نے کہا، ”تیل کی رسد سے متعلق خدشات ایک بار پھر مارکیٹ کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔“

مشرق وسطیٰ میں جاری سپلائی بحران کے ساتھ قازقستان نے بھی جمعرات کو اعلان کیا کہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے شبہے کے بعد سی پی سی بلینڈ خام تیل کی برآمد کے لیے استعمال ہونے والا بحیرۂ اسود کا مرکزی ٹرمینل بند ہونے پر تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کی یومیہ خام تیل پیداوار نصف رہ کر تقریباً 4 لاکھ 6 ہزار بیرل تک محدود ہوگئی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی اقسام دوبارہ مہنگی

رائٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے معیار دبئی خام تیل کی اسپاٹ قیمت اور سویپ معاہدوں کے درمیان فرق (اسپاٹ پریمیم) جمعرات کو دگنا ہو کر 12.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ عمان خام تیل کا پریمیم بڑھ کر 12.62 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ دونوں مئی کے اختتام کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

یاد رہے کہ جون کے وسط میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مختصر مدت کی جنگ بندی کے دوران اسی ماہ کے آغاز میں مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی یہ اقسام نمایاں رعایت (ڈسکاؤنٹ) پر فروخت ہو رہی تھیں۔

ادھر ابوظبی کے نمایاں مربان خام تیل کا پریمیم بھی بڑھ کر 19.04 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جو 7 اپریل کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ہلکے مگر نسبتاً زیادہ سلفر والے خام تیل کی محدود رسد اور بحیرۂ اسود میں جہازوں پر حملوں نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود رسدی مشکلات کو مزید سنگین بنا دیا۔

دوسری جانب، فرنٹ منتھ دبئی خام تیل کا معاہدہ بھی جمعرات کو بڑھ کر 99.66 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو مئی کے اواخر کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔

سعودی خام تیل کی ترسیل کا نیا راستہ

بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث کئی آئل ٹینکروں نے اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے شمال کی جانب نہرِ سویز کا رخ کر لیا، جبکہ دوسری جانب دو چینی سپر ٹینکر جمعرات کو باب المندب سے گزر کر خلیجِ عدن میں داخل ہوئے۔

تجارتی ذرائع کے مطابق سعودی آرامکو نے مصر کی بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع سیدی کریر بندرگاہ سے اضافی خام تیل کی کھیپیں لوڈ کرنے کی پیشکش کی ہے۔

دو تاجروں نے بتایا کہ کئی ایشیائی ریفائنریاں اس مصری بندرگاہ سے خام تیل کی کھیپیں اور جہاز حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس متبادل راستے کا مطلب یہ ہوگا کہ جہاز معمول کے مطابق باب المندب سے گزرنے کے بجائے افریقہ کا چکر لگائیں گے، جس سے سفر میں تقریباً ایک ماہ کا اضافہ ہو جائے گا۔

شپنگ ذرائع کے مطابق جنوبی کوریا کی سب سے بڑی ریفائنری ایس کے انرجی نے دو ملین بیرل خام تیل سیدی کریر سے اولسان منتقل کرنے کے لیے ایک وی ایل سی سی (انتہائی بڑے خام تیل بردار جہاز) کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ کھیپ 18 سے 20 اگست کے دوران لوڈ کی جائے گی، جبکہ اس کے لیے 1 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کا یکمشت کرایہ طے کیا گیا ہے۔ تاہم کورین ریفائنری نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ایک ریفائنری سے وابستہ تاجر نے کہا، ”خریدار اب تیزی سے خام تیل کی کھیپیں محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا کی ریفائنریاں بڑی مقدار میں خریداری کے لیے مارکیٹ کا رخ کر رہی ہیں۔“ ان کے مطابق شمالی ایشیا کی ریفائنریاں اب اٹلانٹک بیسن سے خام تیل حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اٹلانٹک بیسن کے خام تیل کی اقسام بھی مہنگی ہوگئیں

شمالی بحیرۂ شمال (نارتھ سی) سے حاصل ہونے والے خام تیل کی قیمتوں میں بھی جمعرات کو نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ایکوفِسک خام تیل کا ڈیٹڈ برینٹ پر اسپاٹ پریمیم بڑھ کر 4.30 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جو ایک ماہ کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ فورٹیز خام تیل کا پریمیم بڑھ کر ڈیٹڈ برینٹ سے 3.60 ڈالر زائد تک پہنچ گیا، جو مئی کے بعد اس کی مضبوط ترین سطح ہے۔

توانائی تجزیاتی ادارے کپلر کے ماہرین نے اس ہفتے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قازقستان کی خام تیل برآمدات میں کمی کے باعث بحیرۂ روم کی ریفائنریوں کی جانب سے شمالی بحیرہ اور مغربی افریقہ کے خام تیل کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب برینٹ کی قیمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرنے والے قلیل مدتی برینٹ سویپ معاہدے (کنٹریکٹس فار ڈیفرنس) بھی جمعرات کو تیزی سے مہنگے ہوگئے۔ آئندہ ہفتے کی ڈیلیوری کے معاہدے کا پریمیم دگنا ہو کر 11.10 ڈالر تک پہنچ گیا۔

تاجروں نے رائٹرز کو بتایا کہ مغربی افریقہ کے خام تیل کے فروخت کنندگان نے بھی اپنی پیشکش کردہ قیمتیں بڑھانا شروع کر دی ہیں، تاہم ایک تاجر کے مطابق مارکیٹ میں بیشتر خریدار اب بھی صورتحال واضح ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور فی الحال محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

Comments

200 حروف