خصوصی ٹیکس طریقۂ کار: اصلاحات کا سفر پھر نقطۂ آغاز پر — (دوم)
- پاکستان جیسے معاشی ماحول میں منافع کو مینوفیکچرنگ سے ریٹیل شعبے میں منتقل کرنا آسان ہے، اور اگر یہ اسکیم نافذ ہوئی تو یہی قدرتی معاشی توازن مجموعی ٹیکس وصولیوں کو کم کر دے گا۔
مثال الف
فرض کریں ایک ٹائر ساز کمپنی 5 ارب روپے مالیت کے ٹائر تیار کرتی ہے اور اس کا منافع 25 فیصد ہے۔ اس طرح کمپنی کا منافع 1.25 ارب روپے بنتا ہے، جس پر 35 فیصد کی شرح سے 462.5 ملین روپے ٹیکس واجب الادا ہوگا۔
تاہم اگر کسی طریقے سے منافع کو مینوفیکچرنگ سے منتقل کر کے ریٹیل مرحلے پر لے جایا جائے تو یہ ٹیکس کم ہو کر 5 کروڑ روپے (یعنی 5 ارب روپے کے ٹرن اوور کا ایک فیصد) رہ سکتا ہے۔
اس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ کمپنی ریٹیلرز کو ڈسکاؤنٹ دے (اگرچہ اس کے علاوہ بھی دیگر طریقے موجود ہیں)، تاکہ مینوفیکچرنگ مرحلے پر منافع تقریباً ختم ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی کو صرف 25 ریٹیلرز کی نشاندہی کرنا ہوگی اور ہر ایک کو 20 کروڑ روپے مالیت کا سامان فروخت کرنا ہوگا۔
اس طرح 1.25 ارب روپے کا منافع مینوفیکچرر کے ہاتھوں 35 فیصد ٹیکس کے بجائے ریٹیلرز کے ہاتھوں ٹرن اوور کے ایک فیصد کے حساب سے ٹیکس کی زد میں آئے گا۔
اس ٹیکس بچاؤ اسکیم پر عمل درآمد میں واحد رکاوٹ ریٹیلرز سے مینوفیکچررز تک رقوم کی منتقلی کا طریقۂ کار ہے۔ تاہم منافع کو دوبارہ مینوفیکچرر تک منتقل کرنے کے کئی طریقے موجود ہیں۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ریٹیلر اسی مالیت کے برابر مینوفیکچرر کو بلاسود قرض یا ایڈوانس فراہم کر دے، یا پھر کسی قیمتی پلاٹ کو انتہائی کم قیمت پر فروخت کر دے، وغیرہ۔
مزید یہ کہ اگر فروخت کی جانے والی مصنوعات تیسرے شیڈول کے تحت فروختی ٹیکس کے دائرے میں نہ ہوں (یعنی وہ اشیا جن پر مینوفیکچرر ریٹیل قیمت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کرتا ہے)، تو ریٹیلر کو منتقل کیے گئے منافع پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا بھی نقصان ہوگا۔ صرف یہی فرق آربٹریج (قیمت یا ٹیکس کے فرق سے فائدہ اٹھانے) کا موقع پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔
ہر صورت میں اگر منافع ریٹیل مرحلے پر منتقل کیا جائے تو ریٹیلر کو زیادہ منافع کی شرح ظاہر کرنا ہوگی۔ اگر مذکورہ بالا پیراگراف میں بیان کردہ تخمینی ٹیکس (امپیوٹڈ ٹیکس) کا نظام اس انداز میں نافذ ہو کہ 2.85 فیصد سے زائد منافع پر مکمل شرح سے ٹیکس عائد ہو، تو ٹیکس بچت صرف 2.85 فیصد منافع تک ہی محدود رہے گی، جبکہ اس سے زائد منافع پر مکمل شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ مصنف کے مطابق قواعد میں اس پہلو کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔
یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ اس نظام کے نفاذ سے حکومت دراصل مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو 35 فیصد شرح سے ٹیکس ادا کرنے کے بجائے ٹرانسفر پرائسنگ کے ذریعے قانونی طور پر ایک فیصد ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کی روک تھام کے لیے تخمینی آمدن (امپیوٹڈ انکم) کی کوئی جانچ موجود ہے؟
یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے۔ تاہم اگر تخمینی آمدن کا تصور موجود ہوتا تو ریٹیلرز اس نظام کو قبول کرنے سے ہچکچاتے، کیونکہ انہیں ٹرن اوور کے 2.85 فیصد سے زائد منافع پر تمام ٹیکس کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قواعد میں تخمینی آمدن کا ایسا کوئی تصور موجود نہیں۔
یہ مثال کسی ٹیکس قانون کی تشریح نہیں بلکہ کاروباری حقیقت کی عکاس ہے۔ پاکستان جیسے معاشی ماحول میں ایک فریق سے دوسرے فریق کو منافع منتقل کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اگر یہ نظام نافذ ہوا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان اپنے منافع کو ریٹیل مرحلے پر منتقل کرنے اور اسی کے مطابق اپنے کاروباری معاملات ترتیب دینے کی ترغیب حاصل کریں گے۔
مثال کے طور پر کون ہول سیل سطح پر آٹو اسپیئر پارٹس درآمد کرنے والوں کو اس بات سے روک سکتا ہے کہ وہ سامان لاگت کے برابر قیمت پر فروخت کریں، منافع پر ٹیکس سے بچ جائیں، اور لاہور کی مونٹگمری روڈ یا کراچی کے پلازہ میں موجود آٹو پارٹس ڈیلرز کے ساتھ باہمی مفاہمت کے ذریعے منافع ریٹیل مرحلے پر منتقل کر دیں؟
مثال ب
فرض کریں ایک مٹھائی فروش کے 20 آؤٹ لیٹس ہیں اور ان تمام کی مجموعی فروخت 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ایسے شخص کے لیے ٹیکس کی ذمہ داری سے بچنا انتہائی آسان ہوگا اگر وہ ہر برانچ کے موجودہ انچارج مینیجر کے ساتھ فرنچائز معاہدہ کر لے۔ اس صورت میں ٹیکس کا ذمہ دار وہ مینیجر ہوگا، جس کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہوگی اور اس پر ٹرن اوور کے ایک فیصد کے حساب سے ٹیکس عائد ہوگا۔ فروخت ہونے والی اشیا میں کوئی فرق نہیں ہوگا کیونکہ وہی مصنوعات اسی برانڈ نام کے تحت فرنچائز معاہدے کے ذریعے فروخت ہوں گی۔ اس کے بعد منیجر سے اصل مالک تک رقوم واپس منتقل کرنے کے بھی مختلف طریقے موجود ہیں۔
یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ اگر اشیا برانڈڈ ہی کیوں نہ ہوں، تب بھی زیادہ ٹیکس سے بچنے کے لیے منافع کو دوسرے فریق کے نام منتقل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
یہ دونوں مثالیں، اور ان جیسی متعدد دیگر صورتیں، ثابت کرتی ہیں کہ اعلان کردہ اسکیم درحقیقت ریٹیلرز کے لیے کوئی آسان ٹیکس نظام نہیں بلکہ اگر مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان چاہیں تو 37 فیصد (29+8) کے بجائے کم شرح پر ٹیکس ادا کرنے کے لیے انہیں ایک طرح کی ٹیکس ایمنسٹی فراہم کرتی ہے۔ البتہ یہ رائے اس بات سے مشروط ہے کہ آخرکار تخمینی ٹیکس کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جاتا ہے، جس کے بارے میں مصنف کا خیال ہے کہ اسے اس اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا۔
قدرتی معاشی توازن
اگرچہ اس اسکیم کا مقصد ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا بتایا گیا ہے، لیکن جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی ساز اس حقیقت کو نظر انداز کر گئے ہیں کہ ایک ہی مصنوعات کی پوری سپلائی چین میں شامل مختلف فریقوں کے درمیان ٹیکس کی شرح میں اتنا بڑا فرق برقرار نہیں رہ سکتا۔
سپلائی چین میں پیدا ہونے والی تمام آمدن پر تقریباً یکساں نوعیت کا ٹیکس بوجھ ہونا چاہیے، مگر اس اسکیم نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ ایسی معیشت زیادہ عرصہ نہیں چل سکتی جہاں مینوفیکچررز اپنی آمدن پر 35 فیصد ٹیکس اور 18 فیصد سیلز ٹیکس ادا کریں، جبکہ ریٹیل شعبہ براہِ راست اور بالواسطہ ملا کر صرف ٹرن اوور کے ایک فیصد کے مساوی ٹیکس ادا کرے۔
اگر ایسا ہوگا تو قدرتی معاشی توازن اپنا کردار ادا کرے گا اور منافع کسی نہ کسی صورت مینوفیکچرنگ سے ریٹیل شعبے میں منتقل ہونا شروع ہو جائے گا، جس کا نتیجہ اس مصنوعات پر حکومت کی مجموعی ٹیکس وصولیوں میں کمی کی صورت میں نکلے گا۔ یہ ایک ناگزیر عمل ہے۔
اس تناظر میں، تکنیکی جزئیات سے قطع نظر، یہ اسکیم مؤثر مالیاتی اور معاشی پالیسی کے عمومی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اگر حکومت واقعی ریٹیلرز کو رعایت دینا چاہتی ہے تو واضح طور پر یہ کہہ سکتی ہے کہ ایسے ریٹیلرز پر ٹرن اوور کا ایک فیصد بطور بالواسطہ ٹیکس عائد ہوگا، جسے آمدن پر ٹیکس بھی تصور کیا جائے گا اور اس کے بعد مزید کوئی ٹیکس واجب نہیں ہوگا۔ درحقیقت یہی اس اسکیم کی اصل صورت ہے۔
تاہم اگر حکومت تخمینی آمدن کے معاملے میں ابہام کا شکار ہے اور مینوفیکچررز و درآمد کنندگان کی جانب سے منافع ریٹیلرز کو منتقل کرنے کے امکانات روکنے کے لیے واضح طریقۂ کار موجود نہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ اس تجویز کا حقیقی کاروباری حالات کے تناظر میں مکمل جائزہ نہیں لیا گیا۔ ایسی صورت میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مند ریٹیلرز بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔
عملی طور پر یہ اسکیم معاشی ترقی کے خلاف ایک نسخہ ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس کا واضح پیغام یہ ہے کہ اگر کسی کاروبار کی فروخت 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے تو اسے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔ یوں یہ بالواسطہ طور پر ریٹیل شعبے میں کارپوریٹائزیشن کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔
مقامی صنعت کی ترقی کے خلاف
یہ اسکیم گزشتہ 40 برسوں کے دوران پاکستان میں اٹھائے گئے ان اقدامات کی ایک اور کڑی ہے، جن کے نتیجے میں مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ شکنی اور درآمدات کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ پاکستان میں مقامی صنعت اپنی خالص آمدن پر ٹیکس اور دیگر محصولات ملا کر 40 فیصد سے زائد بوجھ برداشت کرتی ہے۔
اب مقامی صنعت کو چینی درآمدی مصنوعات سے مقابلہ کرنے کا کہا جا رہا ہے، جبکہ اس اسکیم کے نفاذ کے بعد (اگر تخمینی ٹیکس لاگو نہ ہو) درآمدی اشیا پر مجموعی ٹیکس بوجھ ٹرن اوور کے صرف 4 سے 5 فیصد تک محدود رہے گا۔ (یہ شرح درآمدی مرحلے پر عائد ٹیکس اور ریٹیلر پر ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کو ملا کر بنتی ہے۔)
اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر ٹیرف مقامی ٹیکسوں کی وجہ سے مقامی صنعت درآمدی اشیا کے مقابلے میں مزید غیر مسابقتی ہو جائے گی۔ پاکستان کی معیشت کی حقیقی بہتری اس میں ہے کہ حکومت مقامی مینوفیکچرنگ کو سہولتیں دے، نہ کہ براہِ راست یا بالواسطہ درآمدات کو مقامی صنعت پر ترجیح دے۔
واضح امتیاز
جو ریٹیلرز اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل نہیں ہوں گے، انہیں کم از کم تین نمایاں پہلوؤں سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پہلا یہ کہ اس اسکیم کے تحت ریٹیلر کے منافع پر سیلز ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ یہ ایک بڑی رعایت ہے کیونکہ فروختی قیمت پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا فرق اتنا زیادہ ہے کہ اگر مصنوعات تیسرے شیڈول میں شامل نہ ہوں تو مینوفیکچرر آسانی سے اپنا منافع ریٹیلر کو منتقل کر سکتا ہے۔
اگر منافع مذکورہ طریقے سے منتقل کیا جائے تو کاروبار کے لیے اصل فائدہ سیلز ٹیکس کی بچت میں ہوگا، کیونکہ یہ رقم حکومت کو ادا کی جاتی ہے۔
ایسی صورت میں حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ وہ مینوفیکچررز پر ریٹیل قیمت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس عائد کرے، جو عملاً ایکسائز ڈیوٹی کی شکل اختیار کر لے گا اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کے تصور کو ختم کر دے گا۔ یوں پاکستان میں وی اے ٹی کا نظام ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا۔
منافع کی اس منتقلی اور سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کے باعث سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، الا یہ کہ تمام ایسی مصنوعات کو تیسرے شیڈول میں شامل کر دیا جائے، جو بذاتِ خود ایک غیر معمولی قانونی انتظام ہوگا۔
اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ مسئلہ صرف تیار شدہ مصنوعات تک محدود نہیں رہے گا۔
زرعی اجناس، درآمدی خام مال اور پاکستان میں تیار ہونے والی اشیا بھی ایسے بازاروں سے گزرتی ہیں جہاں زیادہ تر ریٹیلرز کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہوتی ہے۔
دوسرا امتیاز یہ ہے کہ ایسے ریٹیلرز کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس سے مینوفیکچررز کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ انہی ریٹیلرز کو فروخت کریں، کیونکہ ایسے معاملات میں ان کی رقوم ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں نہیں رکیں گی، جو موجودہ نظام میں زیادہ تر مینوفیکچررز کے لیے قابلِ واپسی بھی نہیں ہوتیں۔
ودہولڈنگ ٹیکس کی بلند شرح خود اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ مینوفیکچررز ان ریٹیلرز کو فروخت نہ کریں جنہیں ٹیکس کاٹنا پڑتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ تجویز نافذ ہوئی تو مینوفیکچررز کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں نمایاں کمی آنا تقریباً یقینی ہے۔
تیسرا فرق ایک ہی بازار میں ساتھ ساتھ واقع دو مختلف ریٹیل دکانوں کے درمیان ٹیکس کی شرح کا ہوگا۔
ایک ریٹیلر (اگر تخمینی ٹیکس لاگو نہ ہو) ٹرن اوور کے صرف ایک فیصد کے برابر ٹیکس ادا کرے گا، جبکہ دوسرا اپنی خالص آمدن پر 35 فیصد ٹیکس کا پابند ہوگا۔
نتیجتاً اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے ریٹیلرز تقریباً ہر صورت میں ان ریٹیلرز کے مقابلے میں کہیں کم ٹیکس ادا کریں گے جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگی۔
پاکستان کی حقیقی کاروباری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 90 فیصد سے زائد ریٹیلرز اس اسکیم کے دائرے میں آ جائیں گے۔
اس طرح یہ نظام نہ صرف مقامی مینوفیکچرنگ بلکہ بڑے پیمانے کی ریٹیل سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ شکنی کرے گا، جبکہ درمیانے اور بڑے ریٹیل کاروباروں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کا رجحان بھی پیدا ہوگا۔
ہول سیل شعبے کی تبدیلی
یہ اسکیم سپلائی چین میں ہول سیل تجارت کو قانونی حیثیت میں عملاً ختم کرنے کا نسخہ ہے۔ موجودہ صورت میں نہ مینوفیکچررز اور نہ ہی ریٹیلرز کے لیے ہول سیلرز کو اسی حیثیت سے کاروباری سلسلے میں برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔ اگر انہیں موجودہ شکل میں برقرار رکھا گیا تو وہ سیلز ٹیکس، خالص آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر ضابطہ جاتی تقاضوں کے پابند ہوں گے، جو تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل نہیں۔
تاہم یہ ہول سیلرز حقیقت میں موجود رہیں گے، البتہ ان کی قانونی حیثیت بدل جائے گی۔ وہ ہول سیلرز کے بجائے سیل ایجنٹس یا ڈیلرز کے طور پر کام کریں گے۔
ریٹیلرز کے لیے اشیا کی خریداری کا کام وہی ہول سیلرز انجام دیں گے، لیکن کاغذی طور پر وہ مینوفیکچررز کے ڈیلر یا ایجنٹ ہوں گے۔ یہ طریقہ پہلے ہی فیصل آباد کی دھاگہ مارکیٹ اور عمومی طور پر چینی کی تجارت میں رائج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شعبہ اپنی اصل صورت میں موجود رہے گا، مگر اس کی قانونی شناخت سیل ایجنٹس کی ہوگی۔
تجارتی انجمنوں کی شمولیت
ایک اور مسئلہ ٹیکس کارروائی میں تجارتی انجمنوں کو شامل کرنے سے متعلق ہے۔
سب سے پہلے، کسی مخصوص ٹیکس دہندہ کے معاملات میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
دوسری بات یہ کہ ملک کے کسی قانون میں یہ طے نہیں کہ کسی کاروباری شعبے کی نمائندہ انجمن کون سی ہوگی۔ مثال کے طور پر کلاتھ مارکیٹ ایسوسی ایشن، اکبری منڈی ایسوسی ایشن، لاہور ٹریڈرز ایسوسی ایشن، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) یا فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) میں سے کس کو نمائندہ تصور کیا جائے گا؟
تیسری بات یہ کہ تقریباً تمام انجمنوں میں دو یا دو سے زیادہ گروپ موجود ہوتے ہیں۔ اقتدار سے باہر موجود گروہ کو دوسرے گروہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس نوعیت کی شقیں عملی طور پر کسی بھی ٹیکس نظام میں مؤثر انداز میں نافذ نہیں ہو سکتیں۔
مجموعی تجزیہ
مصنف کے نزدیک یہ اسکیم حکومت کے لیے ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے، کیونکہ:
الف) حکومت کو ریٹیل مرحلے پر پیدا ہونے والی آمدن پر انکم ٹیکس اور ویلیو ایڈیشن پر سیلز ٹیکس (سوائے تیسرے شیڈول کی مصنوعات کے) حاصل نہیں ہوگا۔
ب) حکومت انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 153 کے تحت مینوفیکچررز کی فروخت پر کی جانے والی تقریباً تمام ودہولڈنگ ٹیکس وصولیوں سے محروم ہو جائے گی، کیونکہ خریداروں پر ٹیکس کاٹنے کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔
ج) ریٹیلرز کو کھاتہ جات رکھنے کی پابندی نہ ہونے کے باعث اثاثوں اور آمدن کی دستاویزی صورت حال بھی بہتر نہیں ہوگی۔
د) منظم اور بڑے کاروباروں کے ساتھ واضح امتیازی سلوک ہوگا۔
ہ) قدرتی معاشی توازن کے نتیجے میں منافع مینوفیکچرنگ سے ریٹیل شعبے میں منتقل ہو جائے گا۔
و) مینوفیکچررز کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی آ جائے گی۔
ز) تخمینی آمدن اور حقیقی آمدن کے درمیان فرق پیدا ہوگا، مگر اس فرق سے نمٹنے کا کوئی واضح طریقہ کار اسکیم میں موجود نہیں۔ اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی آسان حل بھی نظر نہیں آتا۔
ح) تجارتی انجمنیں کاروباری ماحول کو متاثر کرنے والے مافیا کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ط) اس اسکیم کا واحد مثبت پہلو یہ ہے کہ ایسے مینوفیکچررز، جو پہلے اپنی غیر ظاہر شدہ پیداوار کے بارے میں فکر مند رہتے تھے، اب اطمینان سے سو سکیں گے، کیونکہ وہ اپنی مصنوعات باضابطہ طور پر ریٹیلرز کو ٹرن اوور کے ایک فیصد ٹیکس کے ساتھ فروخت کر سکیں گے۔ ان کے لیے صرف ایک مسئلہ یہ ہوگا کہ ریٹیلر کے پاس ظاہر ہونے والا منافع واپس اپنے پاس کیسے لایا جائے، اور اس کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں۔
تاہم اس طریقے سے معیشت اس معنی میں ضرور دستاویزی ہو جائے گی کہ مینوفیکچررز سے خریداری کرنے والے تمام افراد کی شناخت ممکن ہوگی، لیکن دوسری جانب مینوفیکچررز اور ریٹیلرز دونوں اپنے کاروباری معاملات پاکستانی انداز میں اس طرح ترتیب دے سکیں گے کہ وہ حقیقی آمدن پر ٹیکس سے بچ جائیں۔
اگر سیلز ٹیکس وصول کرنا مقصود ہوا تو اسے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تیسرے شیڈول جیسے غیر معمولی طریقۂ کار کے ذریعے ہی نافذ کرنا پڑے گا۔
خلاصہ
مصنف کے مطابق اس تجویز پر دوبارہ اور نہایت احتیاط سے غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ حکومت کو درپیش مالیاتی مسائل کا حل پیش نہیں کرتی۔
اس کا مجموعی نتیجہ حکومت کی ٹیکس وصولیوں میں کمی کی صورت میں نکلے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ پہلے ہی شکوک و شبہات کا شکار ریٹیلرز کے ذہن میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ حکومت وقت گزرنے کے ساتھ اس اسکیم کی خامیوں کا ادراک ہونے پر اسے ان کے مفادات کے خلاف تبدیل کر دے گی، جیسا کہ ماضی میں بھی ایسے تجربات ہو چکے ہیں۔
ایسی صورت حال میں توقع ہے کہ بڑی تعداد میں ریٹیلرز اس اسکیم کو اختیار نہیں کریں گے، خواہ انہیں یہ یقین دہانی ہی کیوں نہ کرا دی جائے کہ تخمینی آمدن سے زائد اثاثوں کو غیر ظاہر شدہ آمدن قرار نہیں دیا جائے گا۔
لہٰذا اس معاملے کو حتمی شکل دینے سے قبل تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لینا ناگزیر ہے۔
(ختم شد)
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments