بادشاہ سے ملاقات کے بعد برنہم برطانیہ کے نئے وزیراعظم بن گئے
- انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ کے لیے ایک نئے 10 سالہ منصوبے کا اعلان کریں گے، تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائیں
برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے پیر کو ملک کے لیے 10 سالہ منصوبہ پیش کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے بحران میں کمی لانے کا عزم ظاہر کیا اور سڑکوں پر سونے پر مجبور افراد کے مسئلے کے خاتمے سمیت اپنی حکومت کی پالیسی ترجیحات کا بھی خاکہ پیش کیا۔
اینڈی برنہم اپنی اہلیہ میری فرانس فان ہیل کے ہمراہ اس سے قبل بکنگھم پیلس میں بادشاہ چارلس سوم سے ملے، جہاں کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد انہیں حکومت بنانے کی دعوت دی گئی اور وہ باضابطہ طور پر برطانیہ کے وزیراعظم بن گئے۔
56 سالہ برنہم ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچے تو حامیوں نے پُرجوش انداز میں ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 2016 کے آغاز سے اب تک برطانیہ کے ساتویں وزیراعظم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ”دوبارہ استحکام حاصل کر سکتا ہے“۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ”نیا سیاسی ماڈل“ متعارف کرانے اور ”نئی معیشت کی تعمیر“ کا عزم ظاہر کیا۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے برنہم نے نشریاتی اداروں سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم بننے کے بعد ان کی پہلی ٹیلیفونک بات چیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی سے ہوگی، جنہیں وہ یقین دلائیں گے کہ ”میں ہر طرح سے ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔“
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر مختصر خطاب میں لیبر پارٹی کے نئے رہنما نے کہا کہ وہ ”برطانیہ کے لیے ایک نیا 10 سالہ منصوبہ“ پیش کریں گے، تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
قلیل مدتی اہداف بیان کرتے ہوئے انہوں نے وعدہ کیا کہ ”لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کریں گے اور مہنگائی و بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے بوجھ میں کچھ کمی لائیں گے۔“
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی پہلی ہدایت ”سڑکوں پر سونے پر مجبور افراد کے مسئلے کے خاتمے“ سے متعلق ہوگی۔ اس پالیسی پر وہ شمالی انگلینڈ میں علاقائی میئر کی حیثیت سے بھی عمل درآمد کی کوشش کر چکے ہیں، تاہم انہیں مکمل کامیابی نہیں ملی تھی۔
برنہم نے دیگر اعلانات میں سرکاری خریداری (پبلک پروکیورمنٹ) کے ذریعے برطانیہ میں دوبارہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور مزید سرکاری رہائشی مکانات تعمیر کرنے کا وعدہ بھی کیا۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے اینڈی برنہم کو برطانیہ کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد دی ہے، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرش میرز نے دونوں ممالک کے درمیان ”گہرے تعلقات“ کے اظہار کے لیے انہیں برلن کے دورے کی دعوت دی ہے۔
’زیادہ مضبوط، زیادہ منصفانہ‘
کیئر اسٹارمر اس سے قبل ڈاؤننگ اسٹریٹ سے رخصت ہوئے اور اصرار کیا کہ ان کے مختصر دورِ حکومت نے برطانیہ کو پہلے سے بہتر ملک بنایا۔
انہوں نے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر الوداعی خطاب میں صحافیوں سے کہا، ”مجھے یقین ہے کہ آج برطانیہ دو سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور زیادہ منصفانہ ملک ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”میں خوش دلی، مسکراہٹ اور اپنی حکومت کی تمام کامیابیوں پر فخر کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں۔“
دوسری جانب اینڈی برنہم کو بے شمار چیلنجز درپیش ہوں گے، جبکہ 2029 میں متوقع عام انتخابات سے قبل ان کے پاس اپنی کارکردگی ثابت کرنے کے لیے زیادہ وقت بھی نہیں ہوگا۔
اتوار کی شب شائع ہونے والے دی ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے برنہم نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری سیاسی بے یقینی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”جو کچھ ہم کرتے رہے ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوا۔ میری نظر میں حقیقت یہی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”میں معاملات کو مختلف انداز سے آگے بڑھانے کی کوشش کروں گا۔“
اب توجہ ان کی کابینہ کے اہم ارکان کے تقرر پر مرکوز ہے، جبکہ سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ وہ ریچل ریوز کی جگہ نئے وزیرِ خزانہ کے طور پر کس کا انتخاب کرتے ہیں۔
گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر، جنہیں ”شمال کا بادشاہ“ بھی کہا جاتا ہے، کو گزشتہ ماہ کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد لیبر پارٹی نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے آگے کیا۔ پارٹی ارکانِ پارلیمان کا خیال ہے کہ وہ نائجل فراج کی تارکینِ وطن مخالف جماعت ریفارم یو کے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے پارٹی کی مضبوط ترین امید ہیں۔
’زیادہ بڑے، زیادہ جرات مندانہ اقدامات‘
اینڈی برنہم کو منصب سنبھالتے ہی جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا، ان میں سست رفتار معیشت، حکومتی قرض لینے کی بلند لاگت، تیزی سے بڑھتے فلاحی اخراجات اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیرقانونی تارکینِ وطن کی آمد شامل ہیں، جنہوں نے ریفارم یو کے کی عوامی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث توانائی کی غیر یقینی قیمتیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں بھی ان کی حکومت کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہیں۔
برنہم نے دی ٹائمز کو بتایا کہ وہ ”سرکاری اخراجات اور معیشت چلانے کے انداز میں مختلف حکمت عملی اپنائیں گے، جس میں ابتدائی سرمایہ کاری، بروقت مداخلت، لوگوں کو کامیابی کے مواقع فراہم کرنے اور ناکامی کی قیمت چکانے کے بجائے کامیابی پر توجہ دی جائے گی۔“
انہوں نے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ”لوگوں پر مالی دباؤ کو قریب سے محسوس کیا۔“
کیئر اسٹارمر جولائی 2024 میں 14 سالہ کنزرویٹو حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے بھاری اکثریت سے اقتدار میں آئے تھے۔
تاہم متعدد اسکینڈلز، غلط فیصلوں اور پالیسیوں میں بار بار یوٹرن کے باعث ان کی قیادت شدید تنقید کی زد میں رہی، جس کے بعد انہوں نے جون کے آخر میں وزیراعظم اور لیبر پارٹی کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔
دوسری جانب برنہم، جو صرف چار ہفتے قبل دوبارہ رکنِ پارلیمان منتخب ہوئے، کو سست معاشی نمو، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور سخت مالیاتی قواعد کے باعث محدود گنجائش کے ساتھ حکومت چلانا ہوگی، کیونکہ انہیں حکومتی اخراجات کو ٹیکس آمدنی کے مطابق متوازن رکھنا ہوگا۔
’آخری موقع‘
برنہم 2001 سے 2017 تک رکنِ پارلیمان رہے اور ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کی حکومتوں میں وزیر بھی رہے۔
اس کے بعد انہوں نے خود کو عوامی رہنما کے طور پر پیش کیا، جہاں سادہ اور بے تکلف انداز کو مؤثر سوشل میڈیا مہم کے ساتھ جوڑا۔
تاہم ان کے پاس حالات بدلنے کے لیے صرف تین سال ہیں، کیونکہ 2029 میں متوقع آئندہ عام انتخابات سے قبل ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں میں ریفارم یو کے کو برتری حاصل ہے۔
برنہم نے جمعہ کو اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ لیبر پارٹی کے لیے اقتدار میں واپسی ”پارٹی کے لیے معاملات درست کرنے کا آخری موقع“ ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جولائی 2024 میں اقتدار سنبھالتے وقت اسٹارمر کی حکومت حکمرانی کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھی۔
برنہم کا اصرار ہے کہ ان کے پاس ”واضح منصوبہ“ موجود ہے، تاہم لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے ان کے تیز رفتار انتخاب نے یہ سوالات ضرور پیدا کیے ہیں کہ وہ اپنے اہداف کیسے حاصل کریں گے۔
انہوں نے اپنی پہلی پالیسی کے طور پر ہفتے کے روز اسٹارمر کی حکومت کی ملک گیر ڈیجیٹل شناختی کارڈ اسکیم ختم کر دی، جس پر تین سال میں 1.8 ارب پاؤنڈ لاگت آنے کا تخمینہ تھا۔
ان کے ترجمان کے مطابق اس منصوبے کے لیے مختص وقت اور وسائل کو ”ان شعبوں کی جانب منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی زیادہ ضرورت ہے، مثلاً عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے بوجھ سے ریلیف فراہم کرنا۔“


Comments