2,000 بی وائی ڈی گاڑیوں کی آمد، پاکستانی ای وی مارکیٹ کا نیا منظر نامہ
- یہ سنگ میل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی صارفین کا نیو انرجی گاڑیوں پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے، دانش خالق
بی وائی ڈی کی 2,000 سے زائد نیو انرجی گاڑیاں حال ہی میں رول آن/رول آف (رو رو) بحری جہاز کے ذریعے کراچی بندرگاہ پہنچیں۔ یہ اب تک پاکستان کے لیے کمپنی کی سب سے بڑی کھیپ ہے جو ملک میں الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) میں بڑھتی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ چارجنگ اور دیگر بنیادی ڈھانچے میں موجود خامیاں الیکٹرک گاڑیوں کے وسیع پیمانے پر فروغ کی رفتار کو محدود کرسکتی ہیں۔
پاکستان میں بی وائی ڈی کی آفیشل پارٹنر، میگا موٹر کمپنی نے ان گاڑیوں کی آمد کا اعلان کیا ہے جو ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی جانب منتقلی کا عمل تیزی سے جاری ہے کیونکہ صارفین الیکٹرک موبیلیٹی کے معاشی، ماحولیاتی اور تکنیکی فوائد کو تیزی سے تسلیم کررہے ہیں۔
بی وائی ڈی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بڑھتی طلب ملک میں گاڑیوں کی درآمدی کھیپ کے بڑھتے ہوئے حجم سے ظاہر ہوتی ہے جو اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ بی وائی ڈی نیو انرجی وہیکلز کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور صاف ستھرے اور زیادہ پائیدار ٹرانسپورٹ کے مستقبل کی جانب وسیع تر منتقلی میں معاونت کررہی ہے۔
پاکستان کا الیکٹرک وہیکل شعبہ ابھی ابتدائی اور ارتقائی مرحلے میں ہے جس کی نمایاں خصوصیات میں حکومت کی پُرامید پالیسیاں، دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں پر خصوصی توجہ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی و صارفین کی جانب سے اسے اپنانے کے حوالے سے درپیش بڑے چیلنجز شامل ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایم وی گرانڈے شنگھائی کراچی پورٹ پر کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ پر لنگر انداز ہوا جہاں گاڑیوں کو کرینوں کی ضرورت کے بغیر براہ راست جہاز سے اتار کر باہر لایا گیا۔

ایف آر آئی ایم وینچرز کے سرمایہ کاری تجزیہ کار اسامہ نعیم نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ الیکٹرک وہیکل کی درآمدی کھیپیں صارفین کی جانب سے ابتدائی طور پر حوصلہ افزا قبولیت کی نشاندہی کرتی ہیں اور پاکستان میں روایتی انجن سے چلنے والی گاڑیاں گاڑیوں سے ہٹ کر نئی سمت میں منتقلی کے عمل میں ایک مثبت قدم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ منتقلی ملک کے طویل المدتی اہداف کی حمایت کرتی ہے جن میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا، بیرونی کھاتے پر دباؤ کو کم کرنا اور کاربن اخراج میں کمی لانا شامل ہیں۔
تاہم مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کی رفتار میں کمی آنے کا امکان ہے۔
ابتدائی طور پر ان گاڑیوں کو اپنانے والے زیادہ تر وہ شہری صارفین ہیں جن کے سفر کے راستے طے شدہ ہوتے ہیں اور جنہیں چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے زیادہ خدشات نہیں ہوتے، تاہم بڑے پیمانے پر عام صارفین میں اس کا فروغ محدود ہو سکتا ہے کیونکہ ناکافی چارجنگ انفرااسٹرکچر، دیکھ بھال اور مرمت کے لیے مکمل طور پر ترقی یافتہ ثانوی نظام کی عدم موجودگی اور دوبارہ فروخت کی قیمت سے متعلق خدشات اب بھی موجود ہیں۔

عارف حبیب لمیٹڈ کی ایکویٹی ریسرچ اینالسٹ منکا کرپلانی نے کہا کہ یہ کھیپ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں بی وائے ڈی کی الیکٹرک گاڑیوں کی طلب کمپنی کے ابتدائی اندرونی اندازوں سے بڑھ گئی ہے۔
جب تک مقامی سطح پر گاڑیوں کی اسمبلنگ شروع نہیں ہوتی جس کی توقع رواں سال کے اختتام تک ہے اس وقت تک امکان ہے کہ بی وائی ڈی اس طلب کو سی بی یو درآمدات کے ذریعے پورا کرے گی۔ بڑی تعداد میں آنے والی کھیپیں ابتدائی بکنگ کے بیک لاگ کو ختم کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق اس وقت پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں الیکٹرک وہیکل کا حصہ تقریباً 4 سے 5 فیصد ہے۔
- رورو شپمنٹ سمندری نقل و حمل کا انتہائی مؤثر طریقہ ہے جس میں پہیوں والی اشیا، جیسے کاریں، ٹرک اور بھاری مشینری ریمپس کے ذریعے براہِ راست جہاز پر چڑھائی جاتی ہیں۔ یہ طریقہ کنٹینر شپنگ کے مقابلے میں نمایاں طور پر تیز رفتار اور اکثر زیادہ کم لاگت والا ہوتا ہے کیونکہ اس میں کرینوں کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑتی۔
الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے حکومت کے حالیہ اقدامات پر بات کرتے ہوئے منکا کرپلانی نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد اور فروخت پر 1 فیصد ٹیکس کی سہولت میں مزید ایک سال کی توسیع کردی ہے جو ان گاڑیوں کو اپنانے کے رجحان میں ایک اہم محرک ثابت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سہولت کو درمیانی مدت تک برقرار رکھنے سے صارفین اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں دونوں کے لیے پالیسی میں مزید استحکام اور یقین دہانی پیدا ہوگی۔ اس کے علاوہ عوامی چارجنگ نیٹ ورک کو وسعت دینا، ترجیحی بنیادوں پر فنانسنگ کے مواقع فراہم کرنا اور مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنا پاکستان میں ای ویز کے فروغ کے عمل کو مزید تیز کرسکتا ہے۔

بی وائی ڈی پاکستان ایم ایم سی کے وائس پریزیڈنٹ، سیلز اینڈ اسٹریٹیجی دانش خالق نے کہا کہ یہ سنگ میل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی صارفین کا نیو انرجی گاڑیوں پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے اور ملک میں پائیدار ٹرانسپورٹ کی جانب پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کھیپ صارفین کے لیے گاڑیوں کی دستیابی بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم عالمی معیار کی مصنوعات، قابل اعتماد آفٹر سیلز سروسز اور ملک بھر میں چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کے ذریعے صارفین کو بہترین طریقے سے گاڑی کی ملکیت فراہم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ الیکٹرک موبیلٹی کو اپنا سکیں۔’
بی وائی ڈی پاکستان کے کنٹری ہیڈ لی جیان نے کہا کہ بی وائی ڈی کی عالمی ترقی کے سفر میں پاکستان ایک اہم مارکیٹ ہے اور ہم عالمی معیار کی نیو انرجی گاڑیاں متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ملک میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں جس کے ذریعے ہم پاکستان کی ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب منتقلی میں بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔
رول آن/رول آف (رورو) جہاز کے ذریعے اس کھیپ کی آمد جدید آٹوموٹیو لاجسٹکس کی استعداد کار اور مؤثر نظام کی بھی عکاسی کرتی ہے۔


Comments