آٹو پالیسی تاحال تعطل کا شکار ہے۔ آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (اے آئی ڈی ای پی 2021-26) کی مدت 30 جون کو ختم ہوگئی جبکہ نئی پالیسی جسے یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونا تھا مختلف وزارتوں اور محکموں کے درمیان اختلافات اور اندرونی کھینچا تانی کی نذر ہوگئی ہے۔
اس کے نتیجے میں شدید بے یقینی اور افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پوری ویلیو چین سے وابستہ فریقین غیر یقینی کا شکار ہیں جبکہ صارفین نے بھی اپنی خریداری کی رفتار سست کردی ہے۔ گزشتہ سال آٹو سیکٹر نے جو تیزی حاصل کی تھی جس کے نتیجے میں 2022 کے بعد پہلی بار چار پہیوں والی گاڑیوں کی مجموعی فروخت تقریباً 3 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی تھی وہ اب ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزارتِ تجارت اور وزارتِ صنعت و پیداوار کے درمیان ٹیرف کے ڈھانچے سے متعلق اختلافات تاحال حل نہیں ہوسکے۔ یہ معاملہ ایک سال قبل اس وقت سامنے آیا تھا جب قومی ٹیرف پالیسی (2025–30) کو مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔آٹو انڈسٹری سے متعلق ٹیرف میں کمی کو ایک سال کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا تاکہ اسے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے ساتھ مجوزہ نئی آٹو پالیسی میں شامل کیا جا سکے۔ تاہم ایک سال تک جاری رہنے والے غوروخوض اور متعدد اجلاسوں کے باوجود یہ معاملہ حل نہ ہو سکا جبکہ اس دوران بجٹ منظور بھی ہوگیا۔گزشتہ تقریباً ایک ہفتے کے دوران مسلسل اجلاس منعقد کیے گئے۔ حکام اب بھی ماہرینِ معاشیات اور صنعتی ماہرین سے مشاورت کررہے ہیں۔ پالیسی ساز ایک ہی دائرے میں گھومتے دکھائی دے رہے ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومتی نظام کس قدر غیر مربوط اور منتشر ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزارتِ تجارت کے حکام ٹیرف کو معقول بنانے اور سیلز ٹیکس کو ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے آئی ایم ایف کے مطالبات سے بھی بڑھ کر اقدامات کر رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ مختلف مفاداتی گروہ (لابیز) سرگرم ہیں اور ایسی پالیسیاں منظور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کے مفادات کے مطابق ہوں۔ مقامی گاڑی اسمبل کرنے والی کمپنیاں اپنی مصنوعات میں شامل گاڑیوں کے لیے زیادہ تحفظ چاہتی ہیں۔ دوسری جانب آٹو پارٹس بنانے والے چاہتے ہیں کہ مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری میں اضافہ ہو اور نئی پالیسی کا محور بھی یہی ہو۔ دوسری طرف درآمد کنندگان چاہتے ہیں کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ کو کھول دیا جائے۔ اگر نئی آٹو پالیسی میں مزید ایک سال کی تاخیر ہوتی ہے جس کا امکان اب بڑھتا جارہا ہے تو اس سے استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کنندگان اور ڈیلرز کو غیر معمولی مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُن کمپنیوں کے لیے مشکلات بھی پیدا ہوں گی جنہوں نے نیو انرجی وہیکلز کی اسمبلنگ کے لیے پیداواری لائنیں قائم کر رکھی ہیں یا قائم کررہی ہیں۔
ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اور پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کو دی جانے والی جی ایس ٹی کی چھوٹ 30 جون کو ختم ہو چکی ہے اور نئی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ان گاڑیوں پر روایتی ایندھن والی گاڑیوں کے مساوی ٹیکس لاگو کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر جی ایس ٹی 8 سے 12 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد ہو گیا ہے، جو کہ 18 فیصد کی عام ٹیکس شرح سے بھی زیادہ ہے۔ دوسری جانب کم قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں کو دی گئی ٹیکس رعایتوں میں مزید ایک سال کی توسیع کردی گئی ہے۔ بجٹ میں ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیرف کم کر دیا گیا جبکہ مقامی اسمبلنگ کے لیے درآمد کیے جانے والے سی کے ڈیز پر متناسب ٹیرف میں کمی جو نئی آٹو پالیسی کا حصہ بننا تھی ابھی تک زیرِ التوا ہے۔ اس صورتحال نے کئی آٹو اسمبلرز، خصوصاً اُن کمپنیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جن کے ماڈلز میں ہائبرڈ گاڑیاں شامل ہیں۔
غیر رسمی اطلاعات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں موجودہ صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کو ٹیکس رعایتوں کے خاتمے اور مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیرف میں تبدیلیوں کے بعد پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کے ساتھ ہی کام چلانا پڑے گا۔حکومت ممکن ہے کہ آئندہ سال دوبارہ مقامی پیداوار اور نیو انرجی وہیکلز کی حوصلہ افزائی کی طرف توجہ دے لیکن تب تک کافی نقصان ہوچکا ہوگا۔
اس بات کا قوی امکان ہے کہ اکتوبر کے بعد مارکیٹ مختلف اقسام کی درآمد شدہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں سے بھر جائے جب کہ پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی آسکتی ہے، او ای ایمز شاید ان کی جگہ دوبارہ روایتی ایندھن والی گاڑیوں کو لے آئیں، اور این ای ویز کا بڑھتا ہوا حصہ کم ہو جائے۔ اگرچہ الیکٹرک گاڑیاں اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز کو ایک سال کے لیے ٹیکس رعایتیں بدستور حاصل رہ سکتی ہیں تاہم ان کا مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے۔
مقامی آٹو صنعت کو حاصل تحفظ کے خاتمے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اگر کمپنیاں گزشتہ کئی دہائیوں میں مقامی پیداوار بڑھانے اور مطلوبہ پیداواری حجم حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں تو پھر آنے والے برسوں میں وہ یہ ہدف کیسے حاصل کر سکیں گی؟ تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالا جانا چاہیے کہ وہ گاڑیوں پر عائد ٹیکس کم کرے، کیونکہ اس وقت کسی بھی گاڑی کی قیمت کا تقریباً آدھا حصہ حکومتی ٹیکسوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے آٹو مارکیٹ پانچ لاکھ گاڑیوں کی سالانہ فروخت کے مقررہ ہدف تک نہیں پہنچ سکی۔ بہرحال مجموعی طور پر یہ صورتحال آٹو اسمبلرز کے لیے خوش آئند ثابت نہیں ہوگی، خصوصاً اُن کمپنیوں کے لیے جو 2016 کے بعد پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہوئیں اور ویلیو چین قائم کرنے کے دوران مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ آٹو پارٹس سپلائرز کے متاثر ہونے کا بھی قوی امکان ہے۔مختصر مدت میں صارفین کو گاڑیوں کے زیادہ متنوع اور بہتر انتخاب دستیاب ہوسکتے ہیں لیکن اگر درآمد کنندگان اور ڈیلرز مناسب بعد از فروخت خدمات کا ضروری ڈھانچہ قائم نہ کر سکے تو طویل مدت میں صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔حکومت کی مسلسل غیر فیصلہ کن طرزِ عمل نہ تو آٹو صنعت کے لیے نیک شگون ہے اور نہ ہی صارفین کے مفاد میں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments