BR100 Decreased By (-1.21%)
BR30 Decreased By (-1.49%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 57.10 Decreased By ▼ -0.59 (-1.02%)
BIPL 27.10 Decreased By ▼ -0.32 (-1.17%)
BOP 33.80 Decreased By ▼ -0.39 (-1.14%)
CNERGY 9.79 Increased By ▲ 0.17 (1.77%)
DFML 18.50 Decreased By ▼ -0.13 (-0.7%)
DGKC 207.90 Decreased By ▼ -5.13 (-2.41%)
FABL 99.00 Decreased By ▼ -1.79 (-1.78%)
FCCL 53.80 Decreased By ▼ -0.35 (-0.65%)
FFL 16.70 Decreased By ▼ -0.14 (-0.83%)
GGL 23.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.54%)
HBL 305.64 Decreased By ▼ -3.62 (-1.17%)
HUBC 218.18 Decreased By ▼ -3.35 (-1.51%)
HUMNL 10.68 Decreased By ▼ -0.21 (-1.93%)
KEL 7.33 Decreased By ▼ -0.26 (-3.43%)
LOTCHEM 29.20 Decreased By ▼ -1.23 (-4.04%)
MLCF 96.09 Decreased By ▼ -2.07 (-2.11%)
OGDC 318.00 Decreased By ▼ -5.36 (-1.66%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.25 (-0.59%)
PIBTL 16.57 Decreased By ▼ -0.25 (-1.49%)
PIOC 281.00 Decreased By ▼ -4.96 (-1.73%)
PPL 220.39 Decreased By ▼ -4.34 (-1.93%)
PRL 44.55 Increased By ▲ 2.90 (6.96%)
SNGP 108.00 Decreased By ▼ -2.19 (-1.99%)
SSGC 28.90 Decreased By ▼ -0.41 (-1.4%)
TELE 8.84 Decreased By ▼ -0.15 (-1.67%)
TPLP 12.19 Decreased By ▼ -0.58 (-4.54%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.74%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.22 (-2.12%)
WTL 1.24 Decreased By ▼ -0.03 (-2.36%)
کاروبار اور معیشت

وزیرِ خزانہ کی زیرِ صدارت جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی کی تجارتی کاشت کی پالیسی کا پہلا جائزہ اجلاس

  • کمیٹی جی ایم مکئی کے زرعی پیداوار، موسمیاتی لچک، کسانوں کی بہبود اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کو وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی، جو پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی کی تجارتی کاشت سے متعلق پالیسی کا سائنسی شواہد کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے۔

کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ جی ایم مکئی کی تجارتی منظوری سے قبل اس سے متعلق سائنسی، معاشی اور پالیسی شواہد کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرے۔

اجلاس کے آغاز میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ کمیٹی اپنی مشاورت حقائق، متوازن تجزیے اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر کرے، جبکہ تمام متعلقہ فریقوں کی آرا کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حکام نے اجلاس کے شرکا کو قومی زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی، اس کی تیاری کے عمل، بین الاقوامی ضابطہ جاتی طریقہ کار، بایو سیفٹی جائزوں اور کمیٹی کی شرائطِ کار (ٹرمز آف ریفرنس) پر بریفنگ دی۔ وزارت نے بتایا کہ پالیسی کی منظوری سے قبل متعلقہ فریقوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت کی گئی تھی۔

کمیٹی نے جی ایم مکئی سے متعلق عالمی تجربات کا بھی جائزہ لیا، جن میں ضابطہ جاتی فریم ورک، بایو سیفٹی اقدامات اور ان ممالک میں اختیار کیے جانے والے بقائے باہمی (Coexistence) کے طریقہ کار شامل تھے، جہاں جی ایم اور نان جی ایم فصلیں ایک ساتھ کاشت کی جاتی ہیں۔

اجلاس میں زرعی پیداوار میں اضافے، موسمیاتی لچک، کسانوں کی فلاح، غذائی تحفظ، صنعتی مسابقت اور زرعی بایوٹیکنالوجی میں پیش رفت سے متعلق ممکنہ فوائد پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

ارکان نے جی ایم مکئی کی تجارتی کاشت کے ممکنہ معاشی اثرات کا بھی جائزہ لیا، جس میں مقامی طلب، پاکستان کے پولٹری، مویشیوں اور صنعتی شعبوں کی ضروریات، برآمدی مواقع اور نان جی ایم مصنوعات درآمد کرنے والی منڈیوں کے تقاضے شامل تھے۔

اس موقع پر سرٹیفکیشن نظام، سپلائی چین کے انتظام اور جہاں مناسب ہو وہاں جی ایم اور نان جی ایم پیداوار کے بیک وقت وجود کو یقینی بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرکاری اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز، نجی شعبے، برآمدکنندگان اور صنعت کے نمائندوں نے جی ایم مکئی کی تجارتی کاشت کے ممکنہ فوائد، نفاذ میں درپیش چیلنجز، ریگولیٹری تیاری اور بین الاقوامی منڈیوں کے تقاضوں سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات سائنسی شواہد، غیرجانبدارانہ تجزیے اور پاکستان کے طویل المدتی قومی مفاد کے مطابق ہونی چاہییں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ پالیسی میں تسلسل اہم ہے، تاہم کمیٹی کا مقصد دستیاب شواہد کا آزادانہ جائزہ لینا اور تمام نقطۂ نظر کا احاطہ کرنے کے بعد اپنی سفارشات پیش کرنا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معاشی تبدیلی اور پائیدار ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ شواہد پر مبنی پالیسیوں اور جدید ٹیکنالوجی کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنانا زرعی پیداوار بڑھانے، غذائی تحفظ مضبوط بنانے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پالیسی فریم ورک میں نفاذ کی صلاحیت، ریگولیٹری تیاری، ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات اور منڈیوں تک رسائی کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

اجلاس میں وزیراعظم کے زرعی و غذائی تحفظ کے رابطہ کار، پاکستان گرین انیشی ایٹو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، کاروباری و برآمدی شعبوں کے نمائندوں اور تکنیکی و سائنسی ماہرین نے شرکت کی۔

Comments

200 حروف