کرکٹ ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں تبدیلی : پاکستان اور بھارت کے مابین ایک اور ٹکراؤ کا امکان
- ورلڈ کپ کا نیا ڈھانچہ پاک بھارت روایتی ٹکرائو کا ایک اضافی میچ فراہم کر سکتا ہے، جو کرکٹ کے لیے بے پناہ جنون اور ریکارڈ کمائی کا باعث بنتا ہے
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 2027 کے ون ڈے انٹرنیشنل ورلڈ کپ کے لیے ایک نئے اور تبدیل شدہ فارمیٹ کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اضافی میچ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
اگرچہ اگلے سال جنوبی افریقہ میں ہونے والا ٹورنامنٹ 14 ٹیموں کے درمیان ہی کھیلا جائے گا، تاہم اب رینکنگ میں نچلے نمبروں پر موجود آخری تین کوالیفائر ٹیمیں ایک ابتدائی راؤنڈ میں حصہ لیں گی، جن میں سے صرف ایک ٹیم ہی 12 ٹیموں پر مشتمل اہم گروپ مرحلے (مین راؤنڈ) تک رسائی حاصل کر سکے گی۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت اب چھ چھ ٹیموں کے صرف دو گروپس بنائے جائیں گے، جبکہ سابقہ سپر سکس راؤنڈ روبن مرحلے کی جگہ اب ایک نیا سپر سیون مرحلہ متعارف کرایا گیا ہے۔نمایاں بات یہ ہے کہ اس بار ٹورنامنٹ میں کوئی کوارٹر فائنل نہیں ہوگا، جس کے باعث ایونٹ اس سنسنی اور دلچسپی سے محروم رہے گا جو عام طور پر پلے آف یا ناک آؤٹ میچوں کے اضافی راؤنڈ سے پیدا ہوتی ہے۔تاہم راؤنڈ روبن مرحلے میں ایک اضافی ٹیم کی شمولیت سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اور میچ کھیلے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
برِصغیر میں کرکٹ کے لیے پایا جانے والا جنون، جو بدلے میں آئی سی سی کے لیے نشریاتی حقوق اور تجارتی اسپانسرشپ سے بھاری آمدنی پیدا کرتا ہے، پاک بھارت میچ کو دنیا کا سب سے زیادہ منافع بخش مقابلہ بناتا ہے لیکن اب بھارت اور پاکستان صرف آئی سی سی ایونٹس کے علاوہ ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں آتے، کیونکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث حکومتوں نے ان کے ایک دوسرے کے خلاف کھیلنے پر عملاً پابندی عائد کر رکھی ہے۔ بھارت نے آخری بار 2006 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کھیلی گئی تھی۔ آئی سی سی نے اپنے ایک بیان میں اصرار کیا ہے کہ ورلڈ کپ کے اس نئے ڈھانچے سے ٹورنامنٹ کے دوران زیادہ بہتر تناظر، مسابقت اور اچھے نتائج حاصل ہوں گے۔
ایڈنبرا میں آئی سی سی کے حالیہ بورڈ اجلاس میں منظور کی جانے والی ایک اور تبدیلی کے مطابق 2028 میں ہونے والا اگلا ٹی 20 ورلڈ کپ بدستور 20 ٹیموں کا مقابلہ رہے گا لیکن اب گروپ مرحلے سے آٹھ کے بجائے 10 ٹیمیں اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔اس سپر 10 مرحلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی دو ٹیمیں براہِ راست سیمی فائنل میں جگہ بنالیں گی، جبکہ ان کے مدمقابل آنے والی ٹیموں کا فیصلہ ایک نئے ایلیمینیٹر مرحلے کے ذریعے ہوگا۔


Comments