کام بند کرنے کی دھمکی کے بعد حکومت کا چینی تعاون سے چلنے والے تانبے اور سونے کے منصوبے کو مزید سیکیورٹی دینے کا عزم
- پاکستان میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی کمپنیوں کے منصوبوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، طلال چوہدری
ایک سینئر وزیر نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ پاکستان نے چین کے زیرِ نگرانی چلنے والے تانبے اور سونے کے اپنے سب سے بڑے فعال منصوبے کے لیے اضافی سیکیورٹی فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ اقدام آپریٹر کی جانب سے دی گئی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اسے ایک ماہ کے اندر پیداوار روکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔صوبہ بلوچستان میں سیندک منصوبے کے پیچھے کام کرنے والے مشترکہ مائننگ وینچر سیندک میٹلز لمیٹڈ کی جانب سے دی گئی یہ وارننگ پاکستان کے معدنیات سے مالا مال جنوب مغربی خطے میں چینی سرمایہ کاری کو درپیش بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں حالیہ عرصے میں دہشت گردانہ حملوں میں شدت آئی ہے۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے رائٹرز کو بتایا کہ ہم نے صوبائی حکام اور تمام متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ چینی منصوبے کی تمام تنصیبات، عملے، لاجسٹک اور نقل و حمل (ٹرانسپورٹیشن) کے لیے سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کو مزید سخت کریں۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ کو جولائی کے اوائل میں مائن آپریٹر کے خدشات موصول ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی کمپنیوں کے منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ منصوبے کی جگہ پر بھیجے جانے والے لاجسٹک اور کارگو کے سامان کو اضافی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
ایران اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل صوبہ بلوچستان میں چین کے تعاون سے چلنے والے متعدد بڑے منصوبے موجود ہیں، جن میں گوادر کی گہرے پانیوں کی بندرگاہ بھی شامل ہے۔اس سے قبل بدھ کو فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ سیندک کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی وزارتِ توانائی کو متنبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے سپلائی کے راستے متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث ایک ماہ کے اندر آپریشنز کا جاری رہنا ناممکن ہو سکتا ہے۔سیندک مائن کو چین کی سرکاری کمپنی میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا (ایم سی سی ) ایک معاہدے کے تحت چلاتی ہے، جس کی مدت میں 2022 میں توسیع کی گئی تھی اور اس منصوبے کی زیادہ تر پیداوار چین کو برآمد کی جاتی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اس مخصوص صورتحال سے لاعلم ہیں ،تاہم انہوں نے اسلام آباد کے ساتھ بیجنگ کے قریبی تعلقات کا اعادہ کیا۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین اور پاکستان سچے دوست اور ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔بلوچستان میں پھیلی بدامنی نے سیندک سے محض 50 کلومیٹر (31 میل) دور واقع بیرک گولڈ کے 9 ارب ڈالر مالیت کے ریکوڈک سونے اور تانبے کے منصوبے کے مستقبل کو بھی دھندلا دیا ہے۔
واضح رہے کہ 9 جولائی کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ بلوچستان میں چار روز کے دوران دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جس کے بعد زیارت، خاران اور دالبندین میں سیکیورٹی آپریشنز کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں 5 جولائی سے اب تک 42 عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔


Comments