BR100 Decreased By (-4.07%)
BR30 Decreased By (-4.95%)
KSE100 Decreased By (-3.56%)
KSE30 Decreased By (-3.72%)
BAFL 56.35 Decreased By ▼ -1.75 (-3.01%)
BIPL 26.60 Decreased By ▼ -1.05 (-3.8%)
BOP 33.05 Decreased By ▼ -2.24 (-6.35%)
CNERGY 9.64 Decreased By ▼ -0.41 (-4.08%)
DFML 18.00 Decreased By ▼ -1.38 (-7.12%)
DGKC 204.00 Decreased By ▼ -13.30 (-6.12%)
FABL 97.20 Decreased By ▼ -2.53 (-2.54%)
FCCL 51.24 Decreased By ▼ -2.98 (-5.5%)
FFL 16.60 Decreased By ▼ -0.68 (-3.94%)
GGL 22.81 Decreased By ▼ -1.87 (-7.58%)
HBL 298.04 Decreased By ▼ -12.89 (-4.15%)
HUBC 216.75 Decreased By ▼ -6.03 (-2.71%)
HUMNL 10.75 Decreased By ▼ -0.25 (-2.27%)
KEL 7.54 Decreased By ▼ -0.39 (-4.92%)
LOTCHEM 30.66 Decreased By ▼ -0.97 (-3.07%)
MLCF 93.51 Decreased By ▼ -7.43 (-7.36%)
OGDC 319.01 Decreased By ▼ -12.58 (-3.79%)
PAEL 40.94 Decreased By ▼ -2.97 (-6.76%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -1.09 (-6.2%)
PIOC 259.98 Decreased By ▼ -9.56 (-3.55%)
PPL 223.00 Decreased By ▼ -9.42 (-4.05%)
PRL 42.03 Decreased By ▼ -0.70 (-1.64%)
SNGP 105.00 Decreased By ▼ -5.77 (-5.21%)
SSGC 28.40 Decreased By ▼ -2.29 (-7.46%)
TELE 8.57 Decreased By ▼ -0.74 (-7.95%)
TPLP 11.00 Decreased By ▼ -0.75 (-6.38%)
TRG 58.25 Decreased By ▼ -5.82 (-9.08%)
UNITY 9.60 Decreased By ▼ -0.45 (-4.48%)
WTL 1.24 Decreased By ▼ -0.04 (-3.13%)
ٹیکنالوجی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اسمارٹ فونز پر ٹیکس کم کرنے اور ٹیلی کام سروسز بہتر بنانے پر زور

  • چیئرمین کمیٹی سید امین الحق کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں وائس اور ڈیٹا سروسز کی مسلسل شکایات پر گہری تشویش کا اظہار
شائع اپ ڈیٹ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے اسمارٹ فونز پر عائد ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ موبائل سروسز کے گرتے ہوئے معیار پر آپریٹرز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

سید امین الحق کی صدارت میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں ناقص وائس اور ڈیٹا سروسز کی مسلسل شکایات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے نیٹ ورک کی کارکردگی کی وضاحت کے لیے اگلے اجلاس میں پیش ہو۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں کا معاملہ بھی اٹھایا، جہاں اراکینِ پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ اسمارٹ فون اب کوئی پرتعیش چیز نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمن نے بتایا کہ اسمارٹ فونز پر ٹیکس اور ڈیوٹیز 60 فیصد تک ہیں، جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اپنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیکس پی ٹی اے نے عائد نہیں کیے، بلکہ اتھارٹی ہر سال وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کام کو موبائل فونز پر ٹیکس کم کرنے کی سفارشات بھیجتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کا کام صرف موبائل فونز کو وائٹ لسٹ (رجسٹر) کرنا ہے اور اتھارٹی کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کس ہینڈ سیٹ پر کتنا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین امین الحق نے اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ فونز تعلیم، کاروبار اور رابطے کا لازمی ذریعہ بن چکے ہیں، اس لیے انہیں پرتعیش اشیاء کی فہرست سے نکالا جائے۔ پی ٹی اے چیئرمین نے مزید بتایا کہ پاکستان میں موبائل فون تیار کرنے کے لیے 37 کمپنیوں کو لائسنس دیے گئے ہیں، جن کے تحت ملک میں اب تک تقریباً 26 ملین (2 کروڑ 60 لاکھ) ہینڈ سیٹس مقامی طور پر اسمبل کیے جا رہے ہیں، جبکہ صرف 8 فیصد موبائل فون باہر سے درآمد کیے جاتے ہیں۔

اس کے بعد کمیٹی نے ٹیلی کام سروسز کے گرتے ہوئے معیار پر توجہ مرکوز کی۔ کمیٹی ارکان نے شکایت کی کہ اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی موبائل سروسز کا معیار مسلسل خراب ہو رہا ہے۔ رکنِ قومی اسمبلی مہیش کمار نے کہا کہ وہ برسوں سے اس کمیٹی کے رکن ہیں اور سروسز کے ناقص معیار پر بحث کرکے تھک چکے ہیں، انہوں نے کراچی میں یوفون کے نیٹ ورک کو انتہائی ناقص قرار دیا۔ ایک اور رکنِ قومی اسمبلی صادق میمن نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں میں موبائل سروسز انتہائی ناقابلِ اعتماد ہو چکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فائیو جی کے نفاذ کی رفتار بہت سست ہے اور اگر یہی رفتار رہی تو ملک بھر میں اس کے پھیلاؤ سے پہلے ہی یہ ٹیکنالوجی پرانی ہو جائے گی۔

کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے خاص طور پر یوفون کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس کی سروس کو بدترین قرار دیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یوفون اور ٹیلی نار کے حالیہ انضمام سے سروس کا معیار مزید گر سکتا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ سروس کے مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والے ٹیلی کام آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں، جرمانے عائد کیے جائیں اور مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ان کے آپریٹنگ لائسنس معطل کر دیے جائیں۔

تنقید کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی اے کے چیئرمین حفیظ الرحمن نے اعتراف کیا کہ سروسز کا معیار توقعات سے کم ہے۔ انہوں نے ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ پی ٹی اے اب آپریٹرز کے ساتھ مل کر مشترکہ سروے کرنے کے بجائے ضلع کی سطح پر آزادانہ جائزے لے رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فائیو جی نیٹ ورک کے پھیلاؤ سے سروس کے معیار میں بتدریج بہتری آئے گی۔ پی ٹی اے سربراہ نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ پاکستان 22 شہروں میں 449 مقامات (سائٹس) پر فائیو جی سروسز کا آغاز کر چکا ہے اور اب انٹرنیٹ کی کارکردگی جانچنے کے لیے اوسط رفتار کے بجائے میڈین رفتار کا پیمانہ استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ صارفین کے تجربے کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ملک میں براڈ بینڈ کا استعمال تیزی سے پھیلا ہے اور اب 97 فیصد پاکستانی براڈ بینڈ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ایک صارف کا اوسط ماہانہ انٹرنیٹ خرچ 285 روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان صرف 274 میگاہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا تھا، لیکن اس سال کے شروع میں مزید 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی گئی ہے، جس سے فائیو جی کے وسیع تر نفاذ کی راہ ہموار ہوگی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل کی جلد منظوری سے رائٹ آف وے کی رکاوٹیں دور کرنے اور انفرااسٹرکچر کے پھیلاؤ میں مدد ملے گی۔

آپریشنل چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ نیٹ ورک کی دستیابی کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور برسوں سے انفرااسٹرکچر میں کم سرمایہ کاری نے ٹیلی کام کے نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ اب موبائل ٹاورز کی بندش پر نظر رکھنے کے لیے آپریٹرز سے ہر 24 گھنٹے بعد ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِ اعظم نے ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔

علاوہ ازیں قائمہ کمیٹی نے کراچی آئی ٹی پارک منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور اس میں تاخیر پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ چیئرمین امین الحق نے کام کی سست رفتار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود کاغذی کارروائی کے علاوہ کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ شزا فاطمہ خواجہ نے یقین دہانی کرائی کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں، منصوبے کا تھرڈ پارٹی ریویو جاری ہے اور اس تشخیصی عمل کی تکمیل کے بعد جلد ہی کنٹریکٹ الاٹ کر دیا جائے گا۔

Comments

200 حروف