خلاف ورزیاں جاری رہیں تو امریکا کے ساتھ معاہدے کا پابند نہیں رہیں گے، ایران کا انتباہ
- امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے سے قبل اپریل میں جنگ بندی طے پائی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان شدید جوابی حملوں کا تبادلہ ہوا ہے
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھتا ہے تو وہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا خود کو مزید پابند نہیں سمجھے گا۔ یہ بات ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز رپورٹ کی۔
پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے جمعہ کے روز نیویارک میں کہا کہ ”اگر امریکا اسلام آباد مفاہمت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے تو ایران بھی خود کو اس مفاہمت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند نہیں سمجھے گا۔“ یہ بیان سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے نشر کیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان اس معاہدے سے قبل اپریل میں جنگ بندی طے پائی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان شدید جوابی حملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے جنگ کے مستقل حل کے لیے معاہدے کے تحت جاری مذاکرات بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
ان حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ”ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے کر کے اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ایران مفاہمتی یادداشت پر دیانت داری سے عمل درآمد کے لیے بدستور پُرعزم ہے، بشرطیکہ امریکا بھی اپنی تمام ذمہ داریوں کو مکمل اور مخلصانہ انداز میں پورا کرے۔“


Comments