امریکا ایران کشیدگی کے سائے، ین دباؤ کا شکار، ڈالر مضبوط رہا
- سرمایہ کاروں نے امریکا-ایران تنازع میں شدت کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھی گئی
امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ جمعہ کو ین ہفتہ وار خسارے کی جانب گامزن رہا، جس کے باعث سرمایہ کار جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اگرچہ رات گئے سرمایہ کاروں نے امریکا-ایران تنازع میں شدت کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھی گئی، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان نازک جنگ بندی کے مزید کمزور ہونے سے توانائی کی قیمتوں اور عالمی مہنگائی کے بارے میں خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔
میککواری گروپ کے گلوبل ایف ایکس اور ریٹس اسٹریٹجسٹ تھیری وِزمین کے مطابق جنگ کے خدشات بدستور منڈیوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کے دعوے کو مضبوط بنانے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر جنگ کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
ڈالر جمعہ کو معمولی کمزور ہوا، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً مستحکم رہا۔ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی طلب میں اضافے نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات میں کمی کے اثرات کو متوازن رکھا۔
ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین 162.36 کی سطح پر رہا، جو گزشتہ ہفتے ریکارڈ ہونے والی تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ اس طرح ڈالر ہفتہ وار بنیاد پر ین کے مقابلے میں 0.5 فیصد سے زائد مضبوط ہونے کی راہ پر ہے۔
دوسری جانب یورو 1.1433 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3413 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر بھی اس ہفتے شرح سود میں اضافے کے بعد مضبوط رہا۔ نیوزی لینڈ کے مرکزی بینک نے مزید مانیٹری سختی کا عندیہ دیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ آئندہ مہینوں میں مزید شرح سود بڑھنے کی توقع کر رہی ہے۔


Comments