BR100 Increased By (1.4%)
BR30 Increased By (1.58%)
KSE100 Increased By (1.12%)
KSE30 Increased By (1.31%)
BAFL 62.13 Increased By ▲ 0.49 (0.79%)
BIPL 28.42 Decreased By ▼ -0.05 (-0.18%)
BOP 37.13 Increased By ▲ 0.28 (0.76%)
CNERGY 8.50 Increased By ▲ 0.18 (2.16%)
DFML 20.52 Decreased By ▼ -0.07 (-0.34%)
DGKC 233.98 Increased By ▲ 7.08 (3.12%)
FABL 104.18 Increased By ▲ 2.62 (2.58%)
FCCL 58.63 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
FFL 18.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
GGL 26.43 Decreased By ▼ -0.19 (-0.71%)
HBL 318.15 Increased By ▲ 12.24 (4%)
HUBC 235.65 Increased By ▲ 2.04 (0.87%)
HUMNL 11.25 Decreased By ▼ -0.03 (-0.27%)
KEL 8.17 Decreased By ▼ -0.07 (-0.85%)
LOTCHEM 30.56 Increased By ▲ 1.18 (4.02%)
MLCF 109.51 Increased By ▲ 2.34 (2.18%)
OGDC 348.72 Increased By ▲ 3.29 (0.95%)
PAEL 46.72 Increased By ▲ 1.33 (2.93%)
PIBTL 18.86 Decreased By ▼ -0.01 (-0.05%)
PIOC 286.21 Increased By ▲ 1.65 (0.58%)
PPL 252.66 Increased By ▲ 3.95 (1.59%)
PRL 36.45 Increased By ▲ 0.16 (0.44%)
SNGP 120.55 Increased By ▲ 1.78 (1.5%)
SSGC 32.35 Increased By ▲ 0.98 (3.12%)
TELE 9.09 Decreased By ▼ -0.12 (-1.3%)
TPLP 12.54 Increased By ▲ 0.90 (7.73%)
TRG 67.30 Decreased By ▼ -0.32 (-0.47%)
UNITY 10.75 Decreased By ▼ -0.18 (-1.65%)
WTL 1.26 Decreased By ▼ -0.02 (-1.56%)
دنیا

افغانستان کو خواتین سمیت ہر فرد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت، اقوام متحدہ

  • ستمبر 2023 سے اب تک 60 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان اور ایران سے واپس افغانستان جانے پر مجبور ہو چکے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

اقوام متحدہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے پیر کے روز کہا ہے کہ افغانستان کو درپیش سنگین انسانی بحران اور لاکھوں افغانوں کی وطن واپسی جیسے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خواتین اور مرد دونوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا، ”تمام افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ناگزیر ہے، اور اس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔“

انہوں نے یہ بات شمالی افغانستان کے ضلع نہرِ شاہی میں قالین بافی کے ایک مرکز کے دورے کے دوران کہی، جہاں حال ہی میں وطن واپس آنے والی خواتین کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔

ستمبر 2023 سے اب تک 60 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان اور ایران سے واپس افغانستان جانے پر مجبور ہو چکے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک نے اپنی امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔

جنگ سے تباہ حال افغانستان میں اتنی بڑی تعداد میں واپس آنے والے افراد کی آبادکاری، روزگار، رہائش اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔

ڈی کرو نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں تک مناسب رسائی فراہم کریں۔

طالبان حکومت نے خواتین پر متعدد پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن کے تحت انہیں پرائمری سے آگے تعلیم حاصل کرنے، بعض شعبوں میں ملازمت کرنے اور پارکوں میں جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

ستمبر 2025 سے طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کے دفاتر میں خواتین کے کام کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی، جس کی عالمی ادارے نے بارہا مذمت کی ہے۔

افغانستان کے دورے پر موجود اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین برہام صالح نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ”یہ یقیناً افغانستان کے عوام تک ہماری خدمات کی فراہمی کی صلاحیت پر ایک بڑی پابندی ہے۔“

برہام صالح آئندہ چند روز میں کابل میں طالبان حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ انہیں اقوام متحدہ کی خواتین ملازمین پر عائد پابندی ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا، ”افغانستان مدد کا مستحق ہے، لیکن اس کے لیے تعاون اور اشتراک ناگزیر ہے۔“

ان کے بقول، ”ہمیں اس معاشرے کی تمام صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مرد، خواتین، لڑکے اور لڑکیاں سب اپنے ملک کے مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کر سکیں۔“

انہوں نے زور دیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے بغیر افغانستان کی ترقی ممکن نہیں۔

اپریل میں جاری ہونے والی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کی تعلیم اور روزگار پر عائد پابندیوں کے باعث افغانستان کو ہر سال کم از کم 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

Comments

200 حروف