کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کا قبضہ فوری واپس دلایا جائے، ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ
- بلڈنگ میں سرگرمیوں کی طویل بندش نے کپاس کی معیشت سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بری طرح متاثر کیا ہے، ثاقب فیاض مگوں
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے پیر کو تاریخی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں طویل عرصے سے سرگرمیاں بند رہنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
فیڈریشن نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) اور اس کے قانونی کرایہ داروں کو کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کا قبضہ واپس دلانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ایک بیان میں ایف پی سی سی آئی کے صدر عاتف اکرام شیخ نے کہا کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن اپنے قیام 1933 سے پاکستان میں کپاس کی تجارت کے ایک ممتاز ادارے کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہے اور اس نے مارکیٹ میں سہولت کاری، شفافیت، قیمتوں کے تعین اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے ملک کی کپاس کی تجارت اور صنعت کے فروغ میں انتہائی فعال کردار ادا کیا ہے۔
مزید برآں ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کاٹن ایکسچینج بلڈنگ تاریخی طور پر پاکستان کی کاٹن اکانومی کا مرکز رہی ہے اور اس میں کپاس کے تاجر، برآمد کنندگان، سروس پرووائیڈرز، کاٹن بروکرز اور کپاس و ٹیکسٹائل کی ویلیو چین سے وابستہ مختلف کاروباری ادارے موجود رہے ہیں۔
ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کا ماننا ہے کہ کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں سرگرمیوں کی طویل بندش نے کپاس کی معیشت سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کا قبضہ فوری طور پر کراچی کاٹن ایسوسی ایشن اور اس کے قانونی کرایہ داروں کے حوالے کیا جائے۔


Comments