BR100 Increased By (0.47%)
BR30 Increased By (0.74%)
KSE100 Increased By (0.42%)
KSE30 Increased By (0.41%)
BAFL 62.03 Increased By ▲ 0.63 (1.03%)
BIPL 27.60 Increased By ▲ 0.16 (0.58%)
BOP 36.60 Increased By ▲ 0.29 (0.8%)
CNERGY 8.45 Increased By ▲ 0.24 (2.92%)
DFML 20.10 Increased By ▲ 0.14 (0.7%)
DGKC 227.40 Increased By ▲ 0.26 (0.11%)
FABL 101.00 Decreased By ▼ -0.46 (-0.45%)
FCCL 58.94 Decreased By ▼ -0.34 (-0.57%)
FFL 17.85 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 25.05 Increased By ▲ 0.94 (3.9%)
HBL 305.55 Decreased By ▼ -1.90 (-0.62%)
HUBC 233.34 Increased By ▲ 0.20 (0.09%)
HUMNL 11.47 Decreased By ▼ -0.03 (-0.26%)
KEL 8.31 Decreased By ▼ -0.02 (-0.24%)
LOTCHEM 28.51 Increased By ▲ 0.32 (1.14%)
MLCF 108.63 Increased By ▲ 1.20 (1.12%)
OGDC 337.60 Increased By ▲ 2.69 (0.8%)
PAEL 45.44 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
PIBTL 18.91 Increased By ▲ 0.06 (0.32%)
PIOC 282.01 Increased By ▲ 1.55 (0.55%)
PPL 245.48 Increased By ▲ 1.74 (0.71%)
PRL 36.21 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
SNGP 119.13 Decreased By ▼ -0.50 (-0.42%)
SSGC 31.88 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
TELE 9.22 Increased By ▲ 0.20 (2.22%)
TPLP 11.37 Increased By ▲ 0.65 (6.06%)
TRG 65.80 Increased By ▲ 1.49 (2.32%)
UNITY 11.03 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
WTL 1.29 No Change ▼ 0.00 (0%)
Perspectives

تمباکو ٹیکس پالیسی کو معاشی ہم آہنگی کی ضرورت

  • سب سے نمایاں تبدیلی الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والے ای-لیکوئیڈز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 10,000 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 16,500 روپے فی کلوگرام کرنا ہے
شائع July 2, 2026 اپ ڈیٹ July 2, 2026 11:31am

پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 ایک مرتبہ پھر ملک کے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے نظام کو توجہ کا مرکز بنا کر سامنے آیا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت کو محصولات بڑھانے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور غیر قانونی تجارت پر قابو پانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، تمباکو اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے ساتھ اختیار کی گئی ٹیکس پالیسی ایک ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔ بجٹ میں نفاذ پر مبنی بعض اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں اور چند مخصوص مصنوعات پر ٹیکس میں ردوبدل کیا گیا ہے، تاہم سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کے ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات سے گریز کیا گیا ہے۔

سب سے نمایاں تبدیلی الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والے ای-لیکوئیڈز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 10,000 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 16,500 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس ضرورت کو تسلیم کرتی ہے کہ نئی نوعیت کی نکوٹین مصنوعات کو زیادہ مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ تاہم ای-لیکوئیڈز پر فی کلوگرام کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے کا موجودہ طریقہ ایک اہم پالیسی سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ ای-لیکوئیڈز عموماً حجم کی اکائیوں میں پیک، فروخت اور استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے وزن کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنا ان کی قیمت کے تعین، ٹیکس کی تعمیل اور نفاذ کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ٹیکس انتظامیہ کے نقطۂ نظر سے حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا موجودہ ٹیکس یونٹ اس مصنوعات کے لیے موزوں ہے جسے وہ ریگولیٹ اور ٹیکس کرنا چاہتی ہے۔

ایک اور زیادہ اہم پالیسی مسئلہ ایسیٹیٹ ٹَو کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 44,000 روپے فی کلوگرام سے کم کر کے 10,000 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ ایسیٹیٹ ٹَو سگریٹ کے فلٹرز کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک بنیادی خام مال ہے۔ اس پر ڈیوٹی میں کمی سے سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب خود سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس طرح مالیاتی پالیسی میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف حکومت نگرانی اور نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف سگریٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے ایک اہم خام مال پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جا رہا ہے۔

سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ نہ کیے جانے کو حکومت کی اس وسیع تر پالیسی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جس میں اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت، دستاویزی معیشت اور پیداوار کی نگرانی پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ یقیناً اہم مسائل ہیں۔ پاکستان کا ٹیکس نظام طویل عرصے سے محصولات کے ضیاع، کمزور نفاذ اور دستاویزی و غیر دستاویزی معیشت کے درمیان موجود خلا کا شکار رہا ہے۔ نگرانی کے زیادہ مؤثر نظام سے محصولات میں اضافہ اور مارکیٹ میں بگاڑ کو کم کیا جا سکتا ہے، تاہم صرف نفاذ ہی ایک مربوط ایکسائز پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتا، خصوصاً اس وقت جب برائے نام ٹیکس شرحیں طویل عرصے تک تبدیل نہ کی جائیں۔

سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں فروری 2023 سے تبدیل نہیں کی گئیں۔ افراطِ زر کے ماحول میں جب برائے نام ٹیکس شرحیں برقرار رہتی ہیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حقیقی قدر کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بظاہر ٹیکس میں کوئی کمی نہیں کی گئی، لیکن افراطِ زر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی حقیقی قدر کو کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں مؤثر ٹیکس بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے۔ محصولات کی کمی کا سامنا کرنے والی معیشت کے لیے اس کے براہِ راست اثرات ٹیکس بویانسی اور مالیاتی کارکردگی پر پڑتے ہیں۔ اگر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کو افراطِ زر کے مطابق وقتاً فوقتاً ایڈجسٹ یا انڈیکس نہ کیا جائے تو حکومت صرف اس وجہ سے ممکنہ محصولات سے محروم ہو سکتی ہے کہ ٹیکس نظام قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہتا۔

بجٹ سے قبل ہونے والی بحث سے بھی یہ واضح ہوا کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی اب بھی مالیاتی پالیسی کا ایک متنازع شعبہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کے نظام میں تیسرے درجے کو متعارف کرانے کی تجویز زیر غور تھی، تاہم اسے حتمی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ایسا درجہ نسبتاً سستے سگریٹ برانڈز پر مؤثر ٹیکس بوجھ کو کم کر سکتا تھا اور موجودہ ایکسائز ڈھانچے کو کمزور کر دیتا۔ لہٰذا اس تجویز کو بجٹ میں شامل نہ کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حکومت نے سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا، لیکن اس نے ایسی ساختی تبدیلی سے بھی گریز کیا جو ٹیکس کی بنیاد کو مزید کمزور کر سکتی تھی۔

یہ نتیجہ کسی پالیسی خلا میں سامنے نہیں آیا۔ تحقیقی اداروں اور پالیسی سے وابستہ فریقین، جن میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) بھی شامل ہے، نے شواہد پر مبنی تجاویز، گول میز مباحثوں ، رائے پر مبنی مضامین، متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور پالیسی سازوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے بجٹ پر ہونے والی بحث میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کوششوں نے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے معاملے کو محصولات میں اضافے، ٹیکس نفاذ اور عوامی مالیات سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بنائے رکھا۔ ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ پالیسی مباحثے کا رخ غیر قانونی تجارت اور نگرانی کے نظام کی جانب زیادہ ہو گیا، جس کی وجہ سے موجودہ بجٹ میں ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کے بجائے ٹیکس انتظامیہ اور نفاذ سے متعلق اقدامات پر زیادہ زور دیا گیا۔

آئندہ کے لیے پاکستان کو تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی ایک زیادہ مربوط اور جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اول، سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ افراطِ زر خاموشی سے ان کی حقیقی قدر کو کم نہ کر دے۔ دوم، حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ایسیٹیٹ ٹَو جیسے خام مال پر دی جانے والی ٹیکس رعایت کیا اس کی مجموعی محصولات اور ایکسائز پالیسی کے مقاصد سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔ سوم، ای-لیکوئیڈز پر عائد ٹیکس کے نظام کو تکنیکی بنیادوں پر مزید بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ ٹیکس کی اکائی مارکیٹ میں رائج طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہو اور اس پر عمل درآمد زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

تمباکو کے شعبے میں ماحولیاتی ٹیکس عائد کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لینے کی گنجائش موجود ہے۔ تمباکو کی کاشت، اس کی خشکائی ، سگریٹ سازی اور اس سے پیدا ہونے والا فضلہ ماحول پر قابلِ پیمائش اخراجات عائد کرتے ہیں۔ اگر جنگلات کی کٹائی، ایندھن کے استعمال، کاربن اخراج اور فضلے سے متعلق مستند اعداد و شمار دستیاب ہوں تو مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے حصے کے طور پر تمباکو کی مصنوعات پر کاربن لیوی یا ماحولیاتی سرچارج عائد کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27 یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ پاکستان کی مالیاتی پالیسی کا ایک اہم، لیکن تاحال غیر حل شدہ شعبہ ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت نے سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے ایک بڑے خام مال پر ڈیوٹی بھی کم کر دی ہے، جس سے پالیسی کے اندر ہم آہنگی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تمباکو پر ٹیکس زیادہ ہونا چاہیے یا کم۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ٹیکس کا موجودہ نظام معاشی اعتبار سے مربوط، انتظامی لحاظ سے قابلِ نفاذ اور حقیقی معنوں میں حکومتی محصولات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس کا ایک مضبوط اور مؤثر نظام ایسا ہونا چاہیے جو مؤثر نگرانی، افراطِ زر سے ہم آہنگ ایکسائز پالیسی، خام مال کے حوالے سے معقول ٹیکس پالیسی اور ماحولیاتی اخراجات کو مدنظر رکھنے جیسے عناصر کو یکجا کرے۔

Comments

200 حروف