BR100 Increased By (0.99%)
BR30 Increased By (0.38%)
KSE100 Increased By (1.06%)
KSE30 Increased By (1.14%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.23 (-0.4%)
BIPL 27.01 Increased By ▲ 0.19 (0.71%)
BOP 35.09 Increased By ▲ 0.05 (0.14%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 19.67 Increased By ▲ 0.25 (1.29%)
DGKC 223.27 Increased By ▲ 3.21 (1.46%)
FABL 99.24 Increased By ▲ 1.27 (1.3%)
FCCL 57.55 Increased By ▲ 1.36 (2.42%)
FFL 17.88 Increased By ▲ 0.20 (1.13%)
GGL 23.37 Decreased By ▼ -0.23 (-0.97%)
HBL 292.21 Increased By ▲ 2.02 (0.7%)
HUBC 233.45 Increased By ▲ 6.00 (2.64%)
HUMNL 11.17 Increased By ▲ 0.24 (2.2%)
KEL 8.54 Decreased By ▼ -0.03 (-0.35%)
LOTCHEM 28.07 Increased By ▲ 0.53 (1.92%)
MLCF 106.91 Increased By ▲ 0.40 (0.38%)
OGDC 334.87 Decreased By ▼ -0.33 (-0.1%)
PAEL 45.45 Increased By ▲ 0.45 (1%)
PIBTL 19.08 Increased By ▲ 0.81 (4.43%)
PIOC 283.37 Increased By ▲ 13.33 (4.94%)
PPL 242.62 Decreased By ▼ -1.87 (-0.76%)
PRL 35.67 Increased By ▲ 0.73 (2.09%)
SNGP 120.93 Increased By ▲ 2.33 (1.96%)
SSGC 32.08 Increased By ▲ 1.25 (4.05%)
TELE 8.87 Increased By ▲ 0.17 (1.95%)
TPLP 10.73 Increased By ▲ 0.47 (4.58%)
TRG 63.67 Increased By ▲ 0.31 (0.49%)
UNITY 10.82 Increased By ▲ 0.16 (1.5%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
پاکستان

سوئی سدرن: کاروباری رہنماؤں کا کھدائی کا کام جلد مکمل کرنے کا مطالبہ

  • سڑکوں کی خستہ حالی نے پورے شہر میں ٹریفک جام کی صورتحال کو نمایاں طور پر سنگین کردیا ہے، کراچی چیمبر
شائع June 30, 2026 اپ ڈیٹ June 30, 2026 03:00pm

چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی) زبیر موتی والا اور کراچی چیمبر کے صدر محمد ریحان حنیف نے شہر کے مختلف علاقوں میں گیس پائپ لائنز بچھانے، تبدیل کرنے، بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کی جانے والی بڑے پیمانے پر کھدائی کے کاموں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تاجر برادری سروس کی فراہمی کو بہتر بنانے، حفاظتی معیارات کو بڑھانے اور لیکیج کو کم کرنے کے لیے گیس انفرااسٹرکچر کو جدید بنانے کی اہمیت کو بخوبی سمجھتی ہے لیکن جس انداز میں یہ کام کیے جارہے ہیں وہ کراچی کے شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو بھیجے گئے ایک خط میں زبیر موتی والا اور ریحان حنیف نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران شہر کے متعدد تجارتی، صنعتی اور رہائشی علاقوں میں گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے سڑکیں کھودی گئیں، تاہم منصوبوں کی تکمیل کے باوجود بیشتر مقامات پر سڑکوں کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا جس کے باعث شہریوں، ٹرانسپورٹرز، صنعتکاروں، تاجروں اور کاروباری اداروں کو روزانہ شدید مشکلات اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خستہ حالی نے پورے شہر میں ٹریفک جام کی صورتحال کو نمایاں طور پر سنگین کردیا ہے، سفر کے دورانیے اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کیا، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور موٹرسائیکل سواروں، گاڑی چلانے والوں، پیدل چلنے والوں اور اسکول جانے والے بچوں کے لیے شدید حفاظتی خطرات پیدا کردیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال خاص طور پر تجارتی اور صنعتی زونز میں تشویشناک ہے جہاں سامان، ملازمین، صارفین اور سپلائرز کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، چونکہ کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے، اس لیے نقل و حمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست کاروباری پیداواری صلاحیت اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے جو بالآخر مجموعی ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاجر برادری یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ متاثرہ سڑکوں کی فوری تعمیر نو اور بحالی کے لیے کسی جامع اور قابلِ نفاذ انتظام کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر کھدائی کے کام کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔

یہ سمجھنا مشکل ہے کہ عوامی وسائل سے تعمیر کی گئی سڑکوں کو اس طرح بڑے پیمانے پر کھودا جائے اور یوٹیلیٹی کام مکمل ہونے کے بعد مہینوں تک انہیں ایسی ہی حالت میں چھوڑ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال ان منصوبوں کو کنٹرول کرنے والے ریگولیٹری فریم ورک، معاہدے کی ذمہ داریوں اور ادارہ جاتی جوابدہی کے بارے میں جائز تحفظات کو جنم دیتی ہے۔

بی ایم جی کے چیئرمین اور کے سی سی آئی کے صدر نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ ایس ایس جی سی کو کن شرائط و ضوابط کے تحت شہر بھر میں سڑکوں کی کٹائی کی اجازت دی گئی اور کیا ان اجازت ناموں میں ایسی لازمی شقیں شامل ہیں جن کے تحت کمپنی پابند ہو کہ وہ پائپ لائن کا کام مکمل ہوتے ہی سڑکوں کو فوری اصل حالت میں بحال کرے۔

انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر سڑکوں کی بحالی براہِ راست ایس ایس جی سی کی ذمہ داری نہیں ہے تو یہ تعین کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ یہ ذمہ داری کس محکمے کو سونپی گئی ہے اور بحالی کے کاموں پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیا میکانزم موجود ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2022

Comments

200 حروف