سوئی سدرن: کاروباری رہنماؤں کا کھدائی کا کام جلد مکمل کرنے کا مطالبہ
- سڑکوں کی خستہ حالی نے پورے شہر میں ٹریفک جام کی صورتحال کو نمایاں طور پر سنگین کردیا ہے، کراچی چیمبر
چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی) زبیر موتی والا اور کراچی چیمبر کے صدر محمد ریحان حنیف نے شہر کے مختلف علاقوں میں گیس پائپ لائنز بچھانے، تبدیل کرنے، بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کی جانے والی بڑے پیمانے پر کھدائی کے کاموں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تاجر برادری سروس کی فراہمی کو بہتر بنانے، حفاظتی معیارات کو بڑھانے اور لیکیج کو کم کرنے کے لیے گیس انفرااسٹرکچر کو جدید بنانے کی اہمیت کو بخوبی سمجھتی ہے لیکن جس انداز میں یہ کام کیے جارہے ہیں وہ کراچی کے شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو بھیجے گئے ایک خط میں زبیر موتی والا اور ریحان حنیف نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران شہر کے متعدد تجارتی، صنعتی اور رہائشی علاقوں میں گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے سڑکیں کھودی گئیں، تاہم منصوبوں کی تکمیل کے باوجود بیشتر مقامات پر سڑکوں کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا جس کے باعث شہریوں، ٹرانسپورٹرز، صنعتکاروں، تاجروں اور کاروباری اداروں کو روزانہ شدید مشکلات اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خستہ حالی نے پورے شہر میں ٹریفک جام کی صورتحال کو نمایاں طور پر سنگین کردیا ہے، سفر کے دورانیے اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کیا، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور موٹرسائیکل سواروں، گاڑی چلانے والوں، پیدل چلنے والوں اور اسکول جانے والے بچوں کے لیے شدید حفاظتی خطرات پیدا کردیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال خاص طور پر تجارتی اور صنعتی زونز میں تشویشناک ہے جہاں سامان، ملازمین، صارفین اور سپلائرز کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، چونکہ کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے، اس لیے نقل و حمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست کاروباری پیداواری صلاحیت اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے جو بالآخر مجموعی ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاجر برادری یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ متاثرہ سڑکوں کی فوری تعمیر نو اور بحالی کے لیے کسی جامع اور قابلِ نفاذ انتظام کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر کھدائی کے کام کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔
یہ سمجھنا مشکل ہے کہ عوامی وسائل سے تعمیر کی گئی سڑکوں کو اس طرح بڑے پیمانے پر کھودا جائے اور یوٹیلیٹی کام مکمل ہونے کے بعد مہینوں تک انہیں ایسی ہی حالت میں چھوڑ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال ان منصوبوں کو کنٹرول کرنے والے ریگولیٹری فریم ورک، معاہدے کی ذمہ داریوں اور ادارہ جاتی جوابدہی کے بارے میں جائز تحفظات کو جنم دیتی ہے۔
بی ایم جی کے چیئرمین اور کے سی سی آئی کے صدر نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ ایس ایس جی سی کو کن شرائط و ضوابط کے تحت شہر بھر میں سڑکوں کی کٹائی کی اجازت دی گئی اور کیا ان اجازت ناموں میں ایسی لازمی شقیں شامل ہیں جن کے تحت کمپنی پابند ہو کہ وہ پائپ لائن کا کام مکمل ہوتے ہی سڑکوں کو فوری اصل حالت میں بحال کرے۔
انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر سڑکوں کی بحالی براہِ راست ایس ایس جی سی کی ذمہ داری نہیں ہے تو یہ تعین کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ یہ ذمہ داری کس محکمے کو سونپی گئی ہے اور بحالی کے کاموں پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیا میکانزم موجود ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2022


Comments