BR100 Increased By (0.99%)
BR30 Increased By (0.38%)
KSE100 Increased By (0.9%)
KSE30 Increased By (0.98%)
BAFL 58.92 Increased By ▲ 2.02 (3.55%)
BIPL 27.01 Increased By ▲ 0.19 (0.71%)
BOP 35.15 Increased By ▲ 0.11 (0.31%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.11 (1.36%)
DFML 19.64 Increased By ▲ 0.22 (1.13%)
DGKC 223.70 Increased By ▲ 3.64 (1.65%)
FABL 99.01 Increased By ▲ 1.04 (1.06%)
FCCL 57.50 Increased By ▲ 1.31 (2.33%)
FFL 17.90 Increased By ▲ 0.22 (1.24%)
GGL 23.40 Decreased By ▼ -0.20 (-0.85%)
HBL 297.50 Increased By ▲ 7.31 (2.52%)
HUBC 233.23 Increased By ▲ 5.78 (2.54%)
HUMNL 11.14 Increased By ▲ 0.21 (1.92%)
KEL 8.57 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 28.10 Increased By ▲ 0.56 (2.03%)
MLCF 106.99 Increased By ▲ 0.48 (0.45%)
OGDC 334.20 Decreased By ▼ -1.00 (-0.3%)
PAEL 45.51 Increased By ▲ 0.51 (1.13%)
PIBTL 19.18 Increased By ▲ 0.91 (4.98%)
PIOC 270.80 Increased By ▲ 0.76 (0.28%)
PPL 242.48 Decreased By ▼ -2.01 (-0.82%)
PRL 35.65 Increased By ▲ 0.71 (2.03%)
SNGP 120.66 Increased By ▲ 2.06 (1.74%)
SSGC 32.03 Increased By ▲ 1.20 (3.89%)
TELE 8.87 Increased By ▲ 0.17 (1.95%)
TPLP 10.71 Increased By ▲ 0.45 (4.39%)
TRG 63.63 Increased By ▲ 0.27 (0.43%)
UNITY 10.85 Increased By ▲ 0.19 (1.78%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
بی آر ریسرچ

پٹرولیم قیمتیں، اچانک فیصلوں کے بجائے مالی تحفظ بہتر حکمت عملی

  • خوردہ قیمتوں میں ایک ہفتہ قبل ہی نمایاں کمی کی جا چکی تھی۔ اس کے بعد عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں نے مزید ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش چھوڑی
شائع June 30, 2026 اپ ڈیٹ June 30, 2026 11:00am

حکومت کی جانب سے تازہ ترین ہفتہ وار جائزے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے نے بہت سے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ ناقدین جن میں حکومتی اتحاد کے بعض ارکان بھی شامل تھے، نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ صارفین کے مفادات کے بجائے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ تاہم اعداد و شمار ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔

خوردہ قیمتوں میں ایک ہفتہ قبل ہی نمایاں کمی کی جا چکی تھی۔ اس کے بعد عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں نے مزید ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش چھوڑی۔ اسی دوران بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر عائد پٹرولیم لیوی حکومت کے مطلوبہ ہدف سے اب بھی کم تھی۔ معمولی کمی کا اعلان کرنے اور پھر جلد ہی اس فیصلے کو واپس لینے کے بجائے، حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی بڑھا کر اس فرق کو کم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ تازہ ترین نظرثانی کے بعد بھی پٹرول پر عائد لیوی ماضی کے کئی قیمتوں کے ادوار کے مقابلے میں کم ہے۔

تاہم اصل کہانی آگے کی ہے۔

اب جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے پٹرولیم لیوی کا ہدف عملی طور پر حاصل ہونے کے قریب ہے، توجہ مالی سال 2026-27 پر مرکوز ہو گئی ہے، جہاں ریونیو کا ہدف نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ موجودہ کھپت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور یہ فرض کرتے ہوئے کہ طلب میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئے گی، اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر مجموعی طور پر تقریباً 180 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی درکار ہوگی۔ اس سے اس بات میں بہت کم شبہ رہ جاتا ہے کہ قانونی طور پر مقررہ پٹرولیم لیوی کی بالائی حد میں اضافہ کرنا پڑے گا، اور غالب امکان ہے کہ یہ اضافہ جولائی سے کیا جائے گا۔

اس سے ایک واضح سوال جنم لیتا ہے۔ اگر زیادہ پٹرولیم لیوی ناگزیر تھی تو پھر صرف ایک ہفتہ پہلے خوردہ قیمتوں میں اتنی بڑی کمی کیوں کی گئی؟

حکومت کے پاس اس سے پہلے ہونے والی بڑی کمی کو معتدل رکھنے کی پوری گنجائش موجود تھی، اور اس کے لیے لیوی میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ ایسا کرنے سے بعد میں لیوی کی حد میں اضافے کے اثرات نسبتاً نرم رہتے اور عوام میں مستقل طور پر کم ایندھن قیمتوں کی توقعات پیدا نہ ہوتیں، جنہیں اگلے ہی ہفتے واپس لینا پڑا۔ ہفتہ وار قیمتوں کا نظام پالیسی سازوں کو یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ قیمتوں میں بتدریج اور ہموار انداز میں ردوبدل کریں، نہ کہ ایک ہفتے بڑی کمی اور اگلے ہفتے اچانک توقف جیسی صورتحال پیدا کریں۔

یہ صورتِ حال پاکستان کے ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے نظام کی ایک وسیع تر کمزوری کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہفتہ بہ ہفتہ سوچ کے تحت نہیں ہونا چاہیے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے تو حکومتوں کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ مناسب اور متوازن ٹیکس پالیسی کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کریں، جبکہ خوردہ قیمتوں کو نسبتاً مستحکم رکھیں۔ بعد ازاں یہی مالی گنجائش خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، بجائے اس کے کہ عارضی سبسڈیز یا اچانک ٹیکس ردوبدل کا سہارا لیا جائے۔

بالآخر بہترین حل یہی ہے کہ حکومت خوردہ سطح پر ایندھن کی قیمتوں کے براہِ راست انتظام سے بتدریج دستبردار ہو جائے۔ عالمی منڈی کی قیمتوں کو شفاف انداز میں صارفین تک منتقل ہونے دیا جائے، جبکہ مالیاتی پالیسی کا بنیادی ذریعہ ٹیکس کو بنایا جائے۔ ٹیکس ایک مؤثر پالیسی اشارہ ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب انہیں ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ پیش گوئی کے قابل، مستقل اور حکمتِ عملی کے تحت نافذ کیا جائے۔

Comments

200 حروف