اسرائیل نے غزہ میں بچوں کو نشانہ بناتے ہوئے نسل کشی کی ہے، اقوام متحدہ
- رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ میں شہید ہونے والوں میں تقریباً 30 فیصد بچے تھے
اقوام متحدہ کی ایک آزاد تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم سرزد ہوئے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی جنگی جرائم کیے گئے ہیں۔
یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی بیت المقدش، اور اسرائیل نے تیار کی ہے، جس میں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی بچوں کے خلاف ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا پے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں شہید ہونے والوں میں تقریباً 30 فیصد بچے تھے۔
اس سے قبل ستمبر میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھی کمیشن نے کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے اور اعلیٰ اسرائیلی حکام، بشمول وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، نے ان اقدامات پر اکسانے کا کردار ادا کیا، تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو ”سنگین اور بے بنیاد“ قرار دیا تھا۔
جنیوا میں اسرائیل کے مشن نے اس نئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے کمیشن کی ”دوسری ہتک آمیز اور جانبدارانہ رپورٹ“ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی مشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اسرائیل اس جھوٹے اور بے بنیاد الزام کو مسترد کرتا ہے“، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”ہر بچے کو تحفظ کا حق حاصل ہے“، جبکہ رپورٹ میں حماس کے ”وحشیانہ طریقوں“ کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے کمیشن نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران فلسطینی بچوں کو نہ صرف دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا بلکہ 2025 میں جنگ بندی کے بعد بھی ہلاکتیں جاری رہیں۔ کمیشن کے مطابق یہ طرزِ عمل اس بات کے اہم شواہد فراہم کرتا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے فلسطینی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے کارروائیاں کیں۔
کمیشن کے چیئرمین سری نواسن مورالی دھر نے رپورٹ کے ساتھ جاری بیان میں کہا ہے کہ ”شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دانستہ طور پر نشانہ بنایا اور قتل کیا ہے۔“
رپورٹ کے مطابق بچوں کی شہادتوں کا تناسب ماضی کے تنازعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 20,179 بچے شہید ہوئے، جو مجموعی اموات کا تقریباً 30 فیصد بنتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں 2008-09 اور 2014 کی غزہ جنگوں میں بچوں کی شہادت کی شرح تقریباً 24 فیصد تھی۔
کمیشن نے مزید کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے گنجان آباد شہری علاقوں میں مسلسل بھاری ہتھیاروں اور وسیع اثر رکھنے والے بموں کا استعمال جاری رکھا، باوجود اس کے کہ بچوں کی شہادتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایسے حملے، جن میں بڑی تعداد میں بچے شہید ہوئے، دانستہ نوعیت کے تھے۔ کمیشن کے مطابق بچوں کو اجتماعی طور پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز شہری آبادی کو مجموعی طور پر حماس اور دیگر مسلح گروہوں سے وابستہ سمجھتی تھیں۔
جنیوا میں اسرائیل کے مشن کی جانب سے جاری کیے گئے جواب میں کہا گیا کہ اسرائیل “مسلسل کوشش کرتا ہے کہ تنازع کے دوران بھی بچوں کو کم سے کم نقصان پہنچے” اور اس نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا کہ وہ جان بوجھ کر بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔
کمیشن کے رکن سری نواسن مورالی دھر نے کہا کہ بچوں کو نشانہ بنانے کے ذریعے اسرائیل فلسطینی عوام کی اس صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے کہ وہ بطور قوم موجود رہ سکیں اور اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں عائد کی گئی پابندیاں، وسیع پیمانے پر حملے، بار بار جبری نقل مکانی، اور امداد، خوراک و ادویات کی ناکہ بندی کے باعث پیدا ہونے والی بھوک و افلاس نے بچوں کی صحت اور نشوونما کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں قابلِ تدارک اموات اور گہرے نفسیاتی صدمات سامنے آئے۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ صحت کے نظام اور تولیدی مراکز پر حملوں نے نومولود بچوں کی بقا کو متاثر کیا، اسقاطِ حمل کے واقعات میں اضافہ ہوا، اور غزہ کے تقریباً تمام بچوں کو نفسیاتی مدد کی ضرورت لاحق ہو گئی۔
اسرائیلی جواب میں کہا گیا کہ رپورٹ میں ان اقدامات کو نظرانداز کیا گیا ہے جن کے تحت اسرائیل نے ویکسینیشن مہمات میں سہولت فراہم کی، طبی عملے کے داخلے کی اجازت دی، اور فیلڈ ہسپتال قائم کیے۔ اسرائیل نے حماس پر الزام عائد کیا کہ وہ انسانی امداد اور اسپتالوں کے لیے فراہم کردہ ایندھن کو منظم طریقے سے ہڑپ کرتی ہے، تاہم حماس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
مغربی کنارے کی صورتحال
مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس( یروشلم) کے حوالے سے کمیشن نے فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا ہے۔ رپورٹ میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور حراست کے دوران تشدد، جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد سمیت سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد بھی دستاویزی شکل میں پیش کیے گئے ہیں۔
کمیشن کے مطابق فلسطینی بچوں، خصوصاً لڑکوں کو حراست کے دوران منظم بدسلوکی کا سامنا رہا، جس میں کپڑے اتروانا، مارپیٹ اور خوراک سے محرومی شامل ہے۔
تحقیقاتی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ طرزِ عمل انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے، جن میں تشدد اور ایسے غیر انسانی افعال شامل ہیں جو شدید اذیت اور سنگین جسمانی و ذہنی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
اسرائیل کے جواب میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے سے متعلق رپورٹ کے نتائج میں ”مسلسل دہشت گردی کے خطرے“ کے اس تناظر کو شامل نہیں کیا گیا جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز اسی کا سامنا کرتے ہوئے کارروائیاں کرتی ہیں۔


Comments