مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دائر کردی گئی ہے جس پر نیپرا 30 جون کو سماعت کرے گا۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مئی کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی ہے۔
نیپرا سی پی پی اے کی درخواست پر 30 جون کو سماعت کرے گا جس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافے یا عدم اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
سی پی پی اے-جی نے 8.4315 روپے فی کلو واٹ آور کی ریفرنس فیول لاگت کے مقابلے میں 0.8173 روپے فی یونٹ اضافے کا حساب لگایا ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ نیپرا ایکٹ کی دفعہ 31(7) کے مطابق ٹیرف تعین میں فراہم کردہ ماہانہ ایف سی اے میکانزم کے تحت طلب کی گئی۔
سی پی پی اے-جی کی طرف سے جمع کرائے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مئی 2026 میں کل بجلی کی پیداوار 12,638 گیگا واٹ آور رہی جس کی اوسط ایندھن لاگت 9.0857 روپے فی کلو واٹ آور تھی۔ ٹرانسمیشن نقصانات اور گزشتہ ادوار کی اصلاحات سمیت دیگر ایڈجسٹمنٹس کو مدنظر رکھنے کے بعد ڈسکوز کو فراہم کی گئی خالص بجلی 12,335 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی جس کی لاگت 9.2488 روپے فی کلو واٹ آور تھی۔
اعدادوشمار کے مطابق مئی میں سب سے زیادہ 33 فیصد سے زائد بجلی پانی سے پیدا کی گئی۔ اس کے بعد جوہری توانائی کا حصہ 14.25 فیصد، درآمدی کوئلے کا حصہ 13.54 فیصد آر ایل این جی کا حصہ 11.81 فیصد اور مقامی کوئلے کا حصہ 11.66 فیصد رہا۔ فرنس آئل ، گیس، ونڈ، سولر اور بیگاس سے پیدا ہونے والی بجلی کا مجموعی مکس میں حصہ نسبتاً کم رہا، اگرچہ کچھ ذرائع سے بجلی کی فی یونٹ لاگت نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
وفاقی حکومت کی یکساں ایف سی اے اطلاق سے متعلق پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق، ایکس ڈبلیو ڈسکوز کے لیے طے شدہ ایڈجسٹمنٹ کے-الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوگی۔


Comments