BR100 Increased By (1.47%)
BR30 Increased By (1.75%)
KSE100 Increased By (1.71%)
KSE30 Increased By (1.73%)
BAFL 60.99 Increased By ▲ 0.85 (1.41%)
BIPL 27.80 Increased By ▲ 1.12 (4.2%)
BOP 36.48 Increased By ▲ 0.75 (2.1%)
CNERGY 8.38 Increased By ▲ 0.10 (1.21%)
DFML 19.87 Increased By ▲ 0.34 (1.74%)
DGKC 219.00 Decreased By ▼ -2.05 (-0.93%)
FABL 97.30 Increased By ▲ 2.71 (2.86%)
FCCL 57.94 Increased By ▲ 0.55 (0.96%)
FFL 18.12 Increased By ▲ 0.09 (0.5%)
GGL 21.04 Increased By ▲ 0.01 (0.05%)
HBL 300.00 Increased By ▲ 4.02 (1.36%)
HUBC 231.56 Increased By ▲ 2.80 (1.22%)
HUMNL 11.75 Increased By ▲ 0.09 (0.77%)
KEL 8.26 Increased By ▲ 0.19 (2.35%)
LOTCHEM 28.08 Decreased By ▼ -0.61 (-2.13%)
MLCF 98.75 Increased By ▲ 0.62 (0.63%)
OGDC 328.98 Increased By ▲ 4.35 (1.34%)
PAEL 43.95 Increased By ▲ 0.86 (2%)
PIBTL 18.16 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
PIOC 291.00 Decreased By ▼ -1.30 (-0.44%)
PPL 238.55 Increased By ▲ 5.77 (2.48%)
PRL 36.32 Increased By ▲ 0.63 (1.77%)
SNGP 112.94 Increased By ▲ 10.27 (10%)
SSGC 30.43 Increased By ▲ 2.77 (10.01%)
TELE 9.37 Increased By ▲ 0.18 (1.96%)
TPLP 11.87 Increased By ▲ 0.50 (4.4%)
TRG 69.42 Increased By ▲ 0.57 (0.83%)
UNITY 11.61 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

امریکا ایران امن معاہدے پر تشویش، خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں

  • برینٹ خام تیل کے فیوچرز 26 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 83.42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
شائع June 16, 2026 اپ ڈیٹ June 16, 2026 09:11am

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں منگل کو دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ سرمایہ کار معاہدے کی تفصیلات کے فقدان اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے میں ممکنہ تاخیر پر تشویش کا شکار ہیں۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز 26 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 83.42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 46 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 81.12 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پیر کو تیل کی قیمتیں تقریباً 5 فیصد گر کر 4 مارچ کے بعد کم ترین سطح پر بند ہوئی تھیں۔ اس کمی کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان تھا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران نے جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جو عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل کی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ اس تنازع کے باعث یومیہ تقریباً 14 ملین بیرل تیل کی پیداوار بھی متاثر ہوئی تھی۔

اگرچہ معاہدے کے اعلان نے مارکیٹ میں امید پیدا کی ہے، تاہم اس کی مکمل تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئیں اور مستقل جنگ بندی پر بھی حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کی راہ ہموار کرے گا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات پر مذاکرات جاری رہ سکیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے کو لڑائی روکنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کے لیے حتمی معاہدہ ابھی تشکیل نہیں پا سکا۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کشیدگی میں کمی آئی ہے، لیکن بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری انشورنس کی بحالی، جہاز رانی کی سرگرمیوں کی بحفاظت واپسی اور متاثرہ توانائی انفراسٹرکچر کی مرمت میں وقت لگے گا، جس کے باعث تیل کی سپلائی مکمل طور پر معمول پر آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

Comments

200 حروف