BR100 Increased By (1.77%)
BR30 Increased By (1.96%)
KSE100 Increased By (1.59%)
KSE30 Increased By (1.65%)
BAFL 58.99 Increased By ▲ 1.14 (1.97%)
BIPL 25.64 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.61 Increased By ▲ 0.93 (2.76%)
CNERGY 8.08 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 19.08 Increased By ▲ 0.06 (0.32%)
DGKC 206.32 Increased By ▲ 12.22 (6.3%)
FABL 91.07 Increased By ▲ 1.18 (1.31%)
FCCL 54.40 Increased By ▲ 2.26 (4.33%)
FFL 18.05 Increased By ▲ 0.04 (0.22%)
GGL 20.80 Increased By ▲ 0.13 (0.63%)
HBL 288.35 Increased By ▲ 4.43 (1.56%)
HUBC 219.59 Increased By ▲ 7.11 (3.35%)
HUMNL 11.07 Increased By ▲ 0.03 (0.27%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.21 (2.68%)
LOTCHEM 28.77 Decreased By ▼ -0.19 (-0.66%)
MLCF 90.52 Increased By ▲ 4.01 (4.64%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 1.79 (0.57%)
PAEL 41.07 Increased By ▲ 1.11 (2.78%)
PIBTL 17.51 Increased By ▲ 0.24 (1.39%)
PIOC 278.98 Increased By ▲ 11.40 (4.26%)
PPL 225.84 Increased By ▲ 3.17 (1.42%)
PRL 34.63 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 100.42 Increased By ▲ 1.33 (1.34%)
SSGC 26.97 Increased By ▲ 0.30 (1.12%)
TELE 8.93 Increased By ▲ 0.02 (0.22%)
TPLP 10.90 Decreased By ▼ -0.30 (-2.68%)
TRG 69.78 Decreased By ▼ -0.81 (-1.15%)
UNITY 11.52 Increased By ▲ 0.08 (0.7%)
WTL 1.27 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

بیلفاسٹ میں بدامنی کے بعد نسل پرستی کے خلاف ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت

  • مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’نفرت ہی ہماری گلیوں کے لیے واحد خطرہ ہے‘‘ اور ’’بیلفاسٹ نسل پرستی کے خلاف کھڑا ہے‘‘ جیسے نعرے درج تھے
شائع June 13, 2026 اپ ڈیٹ June 13, 2026 08:28pm

شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نسل پرستی کے خلاف ایک ریلی میں شریک ہوئے، جو ایک ہولناک چاقو زنی کے واقعے کے بعد پھوٹنے والی بدامنی کے تناظر میں منعقد کی گئی۔

مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’نفرت ہی ہماری گلیوں کے لیے واحد خطرہ ہے‘‘ اور ’’بیلفاسٹ نسل پرستی کے خلاف کھڑا ہے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔

شہر میں پیر کی شب ہونے والے چاقو حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کے بعد دو راتوں تک بدامنی دیکھی گئی۔ ویڈیو میں ایک شخص کو سڑک پر پڑے دوسرے شخص کے اوپر بیٹھ کر چاقو سے حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

بدھ کے روز ایک سوڈانی شخص پر اسٹیفن اوگلوی کے قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا اور اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اوگلوی تاحال اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

63 سالہ مظاہرہ کرنے والی ہیلری ہنٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اس لیے ریلی میں شریک ہوئیں کیونکہ ’’ہمارے خوبصورت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر مجھے شدید افسوس اور نفرت محسوس ہوتی ہے۔‘‘

انہوں نے نسل پرستی کے خلاف سرگرم تنظیم یونائٹ اگینسٹ ریسزم کی جانب سے منعقدہ ریلی میں کہا، ’’ہم سب یہاں یہ دکھانے کے لیے جمع ہوئے ہیں کہ مسائل پیدا کرنے والے وہ لوگ ہماری نمائندگی نہیں کرتے۔‘‘

شمالی آئرلینڈ کے سیکریٹری ہیلری بین نے جمعرات کو کہا یے کہ حالیہ ہنگامہ آرائی نے خوف کی فضا پیدا کر دی ہے، جہاں بعض افراد کو ’’دھمکایا گیا‘‘ اور ’’نقاب پوش غنڈوں نے ان کی جلد کے رنگ کی بنیاد پر انہیں گھروں سے نکال دیا اور ان کے گھروں کو نذرِ آتش کر دیا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ کام پر جاتے ہوئے لوگوں کو ان کی گاڑیوں میں روک کر ان کی قومیت پوچھی گئی، جسے انہوں نے ’’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا۔

شمالی آئرلینڈ کی اہم قوم پرست جماعت ایس ڈی ایل پی کے مقامی کونسلر شیمس ڈی فاؤئٹے نے کہا کہ لوگ اس لیے سڑکوں پر نکلے تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ وہ ’’نسل پرستانہ تشدد‘‘ پر شدید صدمے اور غم و غصے کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر بھر کی مختلف تنظیمیں ان افراد کو متبادل رہائش فراہم کرنے کے لیے انتھک کوششیں کر رہی ہیں جو اب اپنے گھروں کو واپس جانے سے ’’بہت خوفزدہ‘‘ ہیں۔

برطانیہ اور آئرلینڈ دونوں میں امیگریشن ایک انتہائی حساس اور متنازع مسئلہ بن چکا ہے، اور اسی نے نائجل فراج کی قیادت میں دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے کی مقبولیت میں اضافے کو بھی تقویت دی ہے۔

دونوں ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران امیگریشن مخالف مظاہرے بار بار دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں سے بعض پرتشدد صورت اختیار کر گئے۔

Comments

200 حروف