بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6.5 فیصد کا شاندار اضافہ
- تعمیراتی شعبے میں 5.73 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی
اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق مینوفیکچرنگ شعبے نے اس سال مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا کیونکہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) سیکٹر میں 6.5 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کی منفی 0.69 فیصد کمی کے مقابلے میں ایک نمایاں اور تیز رفتار بہتری ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق خوراک (9.77 فیصد)، تمباکو (11.70 فیصد)، پیٹرولیم مصنوعات (10.92 فیصد)، ربڑ مصنوعات (14.26 فیصد)، برقی آلات (11.87 فیصد)، آٹوموبائل (61.66 فیصد)، ٹرانسپورٹ آلات (39.93 فیصد)، فرنیچر (20.45 فیصد) اور دیگر مینوفیکچرنگ (بشمول فٹبال، 23.06 فیصد) میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم فارماسیوٹیکل/ادویات سازی (منفی 5.14 فیصد) اور مشینری و آلات (منفی 8.72 فیصد) کے شعبوں میں منفی نمو (گراوٹ) ریکارڈ کی گئی۔
بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 10.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو سبسڈیز میں 24.9 فیصد کمی (1,190 ارب روپے سے کم ہو کر 893 ارب روپے) کے باعث ہوئی۔ اس کے علاوہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی پیداوار میں سست روی اور بجلی کے ڈیفلیٹر میں 2.7 فیصد اضافے نے بھی اس کمی میں کردار ادا کیا۔
تعمیراتی شعبے میں 5.73 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے 8.77 فیصد کے مقابلے میں کم ہے۔ یہ اضافہ نجی، سرکاری اور عمومی حکومتی شعبوں میں تعمیرات سے متعلق اخراجات میں اضافے کے باعث ہوا۔
بڑی صنعتوں کی اس بحالی کو بنیادی طور پر مانیٹری پالیسی میں نسبتاً نرمی سے سہارا ملا کیونکہ پالیسی ریٹ مالی سال 2024 کے 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے نمایاں طور پر کم ہو کر دسمبر 2025 تک 10.5 فیصد پر آ گیا جس سے کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کی لاگت کم ہوئی اور لیکویڈٹی کے حالات بہتر ہوئے۔
اگرچہ ابھرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات کے جواب میں اپریل 2026 کے آخر میں پالیسی ریٹ کو دوبارہ بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا گیا تھا تاہم مالی سال 2026 کے بیشتر حصے میں لیکویڈٹی کے حالات نسبتاً سازگار رہے۔
توقع ہے کہ مانیٹری پالیسی میں پہلے کی جانے والی نرمی آنے والے مہینوں میں بھی صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دیتی رہے گی۔ مالیاتی حالات میں یہ بہتری صنعتوں کو ملنے والے قرضوں کے بہاؤ سے بھی ظاہر ہوئی جہاں مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ کے دوران زیادہ اہمیت (وزن) رکھنے والے مینوفیکچرنگ شعبوں کے لیے قرضوں میں اضافہ دیکھا گیا جس میں ورکنگ کیپیٹل اور فکسڈ انویسٹمنٹ دونوں کی فنانسنگ میں اوپر کا رجحان ظاہر ہوا۔
ورکنگ کیپٹل فنانسنگ میں اضافے نے بہتر لیکویڈیٹی کے ماحول میں قلیل مدتی پیداواری ضروریات کو سہارا دیا جبکہ فکسڈ انویسٹمنٹ لوننگ میں اضافہ استعدادِ کار میں توسیع کے تدریجی بحالی کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کریڈٹ کی نمو وسیع بنیادوں پر رہی جس میں خوراک کی مصنوعات، ٹیکسٹائل، ملبوسات، غیر دھاتی معدنی مصنوعات اور موٹر گاڑیوں کے شعبوں کا نمایاں حصہ رہا۔
مزید برآں نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت متعارف کرائے گئے ٹیرف ریشنلائزیشن اقدامات نے صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دیا کیونکہ ان کے ذریعے خام مال، درمیانی مصنوعات اور صنعتی مشینری تک نسبتاً کم لاگت پر آسان رسائی ممکن ہوئی، جس سے مسابقتی صلاحیت اور پیداواری کارکردگی میں بہتری آئی۔
کارکردگی میں یہ بہتری مہنگائی کے دباؤ میں کمی، مستحکم شرح مبادلہ، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی بہتر دستیابی اور مقامی طلب میں بتدریج بحالی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
درآمدی ان پٹس کی بہتر دستیابی اور سپلائی چین کی رکاوٹوں میں کمی نے صنعتوں کو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ پیداواری صلاحیت پر کام کرنے کے قابل بنایا۔
سالانہ بنیادوں پر مارچ 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں 2.4 فیصد کا سکڑاؤ دیکھا گیا تھا۔
دوسری جانب ماہانہ بنیادوں پر مارچ 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.2 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ فروری 2026 میں یہ کمی 8.8 فیصد تھی۔
22 صنعتی گروہوں میں سے 16 نے مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ مثبت نمو ریکارڈ کی جس میں بڑا حصہ خوراک، تیار ملبوسات، آٹوموبائل، اور کوک و پٹرولیم مصنوعات کا رہا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments