BR100 Increased By (0.18%)
BR30 Decreased By (-0.03%)
KSE100 Increased By (0.16%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 57.85 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 25.47 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 33.68 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 8.08 Decreased By ▼ -0.06 (-0.74%)
DFML 19.02 Decreased By ▼ -0.07 (-0.37%)
DGKC 194.10 Increased By ▲ 0.64 (0.33%)
FABL 89.89 Increased By ▲ 1.17 (1.32%)
FCCL 52.14 Decreased By ▼ -0.13 (-0.25%)
FFL 18.01 Increased By ▲ 0.29 (1.64%)
GGL 20.67 Increased By ▲ 0.22 (1.08%)
HBL 283.92 Increased By ▲ 2.35 (0.83%)
HUBC 212.48 Decreased By ▼ -0.98 (-0.46%)
HUMNL 11.04 Decreased By ▼ -0.14 (-1.25%)
KEL 7.84 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
LOTCHEM 28.96 Increased By ▲ 0.19 (0.66%)
MLCF 86.51 Increased By ▲ 0.91 (1.06%)
OGDC 316.20 Decreased By ▼ -0.48 (-0.15%)
PAEL 39.96 Decreased By ▼ -0.31 (-0.77%)
PIBTL 17.27 Increased By ▲ 0.23 (1.35%)
PIOC 267.58 Decreased By ▼ -1.74 (-0.65%)
PPL 222.67 Decreased By ▼ -1.39 (-0.62%)
PRL 34.46 Decreased By ▼ -0.16 (-0.46%)
SNGP 99.09 Decreased By ▼ -0.99 (-0.99%)
SSGC 26.67 Increased By ▲ 0.07 (0.26%)
TELE 8.91 Decreased By ▼ -0.17 (-1.87%)
TPLP 11.20 Decreased By ▼ -0.22 (-1.93%)
TRG 70.59 Decreased By ▼ -0.39 (-0.55%)
UNITY 11.44 Decreased By ▼ -0.15 (-1.29%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)
کاروبار اور معیشت

اکنامک سروے : ملک میں بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہو گئی

  • افرادی قوت کی مارکیٹ میں شمولیت کی شرح میں بھی بہتری دیکھی گئی اور یہ 44.9 فیصد سے بڑھ کر 46.3 فیصد ہو گئی
شائع June 11, 2026 اپ ڈیٹ June 11, 2026 08:27pm

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک کی معیشت میں بحالی اور نمو کے باوجود سال 25-2024 میں پاکستان میں بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہو گئی، جو اس سے پچھلے سال 6.3 فیصد تھی۔

اکنامک سروے 2025-26 میں شامل کیے گئے تازہ ترین لیبر فورس سروے 25-2024 کے اعداد و شمار کے مطابق کام کرنے کی اہل آبادی (ورکنگ ایج پاپولیشن) 159.8 ملین سے بڑھ کر 179.6 ملین ہو گئی ہے، جو پاکستان میں لیبر سپلائی (کیرئیر مارکیٹ میں آنے والے افراد) میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

اس عرصے کے دوران روزگار کے مواقع میں اضافے کی بدولت برسرِروزگار افرادی قوت بھی 67.25 ملین سے بڑھ کر 77.2 ملین ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق دوسری جانب بیروزگار افراد کی تعداد بھی 4.51 ملین سے بڑھ کر 5.9 ملین ہو گئی، جس سے بیروزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ صورتحال اس بات پر زور دیتی ہے کہ افرادی قوت میں اضافے کے تناسب سے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

افرادی قوت کی مارکیٹ میں شمولیت کی شرح میں بھی بہتری دیکھی گئی اور یہ 44.9 فیصد سے بڑھ کر 46.3 فیصد ہو گئی، جو کہ نوجوانوں اور خواتین سمیت آبادی کی لیبر مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔

زراعت، جنگلات اور ماہی گیری روزگار کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ برقرار رہے، تاہم سروسز (خدمات)، تجارت، تعمیرات اور دیگر غیر زرعی سرگرمیوں میں روزگار بڑھنے کی وجہ سے زراعت کا حصہ 37.4 فیصد سے کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رجحان ترقی پذیر اور تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہوئی معیشت کے عین مطابق ہے، تاہم یہ روزگار اور غذائی تحفظ کے لیے زراعت کی مسلسل اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

مزید برآں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں روزگار کی شرح تقریباً برقرار رہی اور اس میں 14.9 فیصد سے 14.8 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صنعتی شعبے میں اتنی تیزی سے توسیع نہیں ہوئی جو زیادہ کارکنوں کو کھپا سکے۔

اس کے برعکس تعمیراتی شعبے (کنسٹرکشن) میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور یہ 9.5 فیصد سے بڑھ کر 9.9 فیصد ہو گیا، جس کی ممکنہ وجہ انفرااسٹرکچر کی ترقی، ہاؤسنگ کی طلب اور سرکاری سرمایہ کاری کے منصوبے ہیں۔

ہول سیل اور ریٹیل کی تجارت کے شعبوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 14.5 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد ہو گیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ یہ اضافہ تجارتی سرگرمیوں میں توسیع، شہر کاری (اربنائزیشن) اور چھوٹے کاروباروں اور مارکیٹوں کی نمو کا عکاس ہے۔

اسی طرح ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور کمیونیکیشن (مواصلات) کے شعبے میں روزگار 6.2 فیصد سے بڑھ کر 6.6 فیصد ہو گیا، جو کہ ایک زیادہ مربوط معیشت میں لاجسٹکس، ڈیلیوری سروسز اور کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔

Comments

200 حروف