BR100 Increased By (0.99%)
BR30 Increased By (1.17%)
KSE100 Increased By (0.81%)
KSE30 Increased By (0.77%)
BAFL 58.23 Increased By ▲ 0.52 (0.9%)
BIPL 25.56 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 33.60 Increased By ▲ 0.35 (1.05%)
CNERGY 8.24 Increased By ▲ 0.19 (2.36%)
DFML 19.54 Increased By ▲ 0.35 (1.82%)
DGKC 195.91 Increased By ▲ 2.26 (1.17%)
FABL 88.81 Increased By ▲ 0.58 (0.66%)
FCCL 52.91 Decreased By ▼ -0.02 (-0.04%)
FFL 17.80 Increased By ▲ 0.19 (1.08%)
GGL 20.70 Increased By ▲ 0.47 (2.32%)
HBL 284.81 Increased By ▲ 4.34 (1.55%)
HUBC 214.95 Increased By ▲ 3.10 (1.46%)
HUMNL 11.24 Increased By ▲ 0.12 (1.08%)
KEL 7.97 Increased By ▲ 0.08 (1.01%)
LOTCHEM 29.19 Increased By ▲ 0.33 (1.14%)
MLCF 86.01 Increased By ▲ 0.66 (0.77%)
OGDC 319.63 Increased By ▲ 1.56 (0.49%)
PAEL 40.21 Increased By ▲ 0.80 (2.03%)
PIBTL 17.32 Increased By ▲ 0.17 (0.99%)
PIOC 268.71 Increased By ▲ 1.24 (0.46%)
PPL 225.30 Increased By ▲ 0.48 (0.21%)
PRL 34.38 Increased By ▲ 0.20 (0.59%)
SNGP 100.96 Increased By ▲ 3.41 (3.5%)
SSGC 26.76 Increased By ▲ 0.45 (1.71%)
TELE 8.96 Increased By ▲ 0.58 (6.92%)
TPLP 11.31 Increased By ▲ 1.03 (10.02%)
TRG 71.67 Increased By ▲ 2.13 (3.06%)
UNITY 11.61 Increased By ▲ 0.30 (2.65%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)

چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے گزشتہ ہفتے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کا اعلان پاکستان کے سب سے کم ٹیکس دینے والے شعبوں میں سے ایک کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانے اور قومی خزانے کے لیے اس سیکٹر سے کم از کم ایک مناسب حصہ حاصل کرنے کی طویل کوششوں کی تازہ ترین کڑی ہے۔

متعدد تاجر تنظیموں کی جانب سے اس اسکیم کو فوری طور پر مسترد کیا جانا جتنا مایوس کن ہے، اتنا ہی متوقع بھی تھا۔ کئی دہائیوں سے اس شعبے میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو بہتر بنانے کی کوششوں کا مقابلہ شدید مزاحمت، شٹر ڈاؤن ہڑتالوں اور سیاسی دباؤ سے کیا جاتا رہا ہے۔

اگرچہ تاجروں کے نمائندوں نے اس اسکیم کو مضحکہ خیز اور ناقابلِ قبول قرار دیا لیکن انہوں نے بڑی سہولت سے اس حقیقت کو نظرانداز کردیا کہ اصل میں مضحکہ خیز اور ناقابلِ قبول بات یہ ہے کہ سالانہ 10 سے 15 ٹریلین (دس سے پندرہ کھرب) روپے کمانے والے لگ بھگ 35 سے 40 لاکھ ریٹیلرز اور تاجرخزانے میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد پر مالی بوجھ غیر متناسب طور پر بڑھ جاتا ہے۔

تاجر برادری بظاہر یہ سبق اچھی طرح سیکھ چکی ہے کہ کھلے عام مخالفت اور احتجاج یا کاروبار بند کرنے کی دھمکیاں اکثر حکومتوں سے رعایتیں دلوا دیتی ہیں، خصوصاً اُن حکومتوں سے جو مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ہوں، کیونکہ یہ جماعت ماضی میں بارہا اُس طبقے کے دباؤ کے سامنے جھکتی رہی ہے جو اس کے سب سے مضبوط انتخابی حمایتی حلقوں میں شمار ہوتا ہے اور اپنی ہنگامہ آرائی کی صلاحیت کے باعث مسلسل اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

اسکیم کی اہم خصوصیات کا جائزہ لیا جائے تو یہ ان ریٹیلرز کو ہدف بناتی ہے جن کا گزشتہ 3 سال کے دوران سالانہ ٹرن اوور 200 ملین روپے تک رہا ہو۔ یہ اسکیم ایک آسان فکسڈ ٹیکس فریم ورک فراہم کرتی ہے جس کے تحت اہل کاروباری ادارے اپنے ظاہر کردہ ٹرن اوور کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے بشرطیکہ ان کی کم از کم سالانہ ٹیکس واجبات کی حد 25,000 روپے ہو۔

اس اسکیم میں شمولیت رضاکارانہ رکھی گئی ہے جس کے تحت کاروباری افراد چاہیں تو اس میں شامل ہو سکتے ہیں یا پھر معمول کے مطابق انکم ٹیکس گوشوارے جمع کراتے رہیں۔ اس اسکیم میں شامل ہونے والوں کو ایف بی آر کے آئی رس نظام کے ذریعے رجسٹر کیا جائے گا، انہیں ان کے این ٹی این اور کیو آر کوڈ پر مشتمل ایک تختی جاری کی جائے گی جبکہ انہیں ایک صفحے پر مشتمل آسان گوشوارے کی بنیاد پر سادہ ٹیکس نظام کے دائرے میں لایا جائے گا۔ اس اسکیم کو واضح طور پر غیر جابرانہ انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔

اسکیم میں شامل ہونے والے تاجر ٹیکس انسپکٹروں کے معمول کے دوروں اور لازمی پوائنٹ آف سیل مشین کی تنصیب سے مستثنیٰ رہیں گے جبکہ ان کا آڈٹ کیے جانے کا امکان بھی انتہائی محدود ہوگا اور اسے زیادہ تر خطرے پر مبنی انتخاب یا پوشیدہ آمدنی کے ٹھوس شواہد تک ہی محدود رکھا جائے گا۔

یہ اسکیم اپنی بعض محدودیتوں سے خالی نہیں۔ اگر یہ مکمل طور پر کامیاب بھی ہو جائے تو اس کے تحت 50 ارب روپے کے محصولات کا ہدف مالیاتی اعتبار سے اب بھی محدود ہی تصور کیا جائے گا۔

جیسا کہ اس اخبار میں دیگر مقامات پر بھی ذکر کیا گیا ہے، اس اسکیم کی اصل اہمیت فوری طور پر ریونیو پیدا کرنے میں نہیں بلکہ اس دستاویزی انفراسٹرکچر میں ہے جسے یہ قائم کرنا شروع کرتی ہے، جس کا مقصد ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہے جس کے ذریعے لاکھوں غیر دستاویزی ریٹیلرز کو بتدریج نظام کے دائرے میں لایا جا سکے۔ تاہم یہ ہدف ایک عملی تشویش کو جنم دیتا ہے: یہ کیسے تصدیق کی جائے گی کہ اسکیم میں شامل ہونے والے کاروباری ادارے 200 ملین روپے کے ٹرن اوور کی حد کے اندر ہی رہ رہے ہیں۔ اسکیم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد مانیٹرنگ سسٹم کی ضرورت ہوگی جو کہ اس کے نفاذ کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

زیادہ تر نظاموں میں اس طرح کی نگرانی کا انحصار لازمی پوائنٹ آف سیل انٹیگریشن پر ہوتا ہے۔ تاہم یہ اسکیم واضح طور پر شرکاء کو پی او ایس کی شرائط سے مستثنیٰ کرتی ہے جس کی بنیادی وجہ لاگت اور تعمیلی بوجھ پر ریٹیلرز کے دیرینہ اعتراضات ہیں۔ لیکن اگر لاگت ہی اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو منطقی طور پر حکومت کو پی او ایس کی تنصیب کے لیے سبسڈی دینی چاہیے اور اسے ایک اخراجات کے بجائے دستاویزی نظام (ڈاکیومنٹیشن) میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

اگرچہ ابتدائی طور پر اس کا مالی بوجھ کافی زیادہ ہو سکتا ہے لیکن خوردہ فروشی کو باقاعدہ دستاویزی شکل دینے سے حاصل ہونے والے طویل مدتی فوائد بے پناہ ہو سکتے ہیں۔

بہرصورت کسی بھی قسم کا استثنیٰ (رعایت) بنیادی نگرانی سے دستبرداری کے مترادف نہیں ہونا چاہیے۔

چنانچہ اس اسکیم کے نفاذ سے پہلے اس کے ڈیزائن میں موجود خامیوں کو دور کرنا ضروری ہے، بالخصوص نگرانی (مانیٹرنگ)، تعمیلی تصدیق (کمپلائنس ویریفیکیشن) اور حد کے نفاذ (تھریش ہولڈ انفورسمنٹ) کے حوالے سے۔ لیکن ایک بار جب ان مسائل کو حل کرلیا جائے تو اصل امتحان سیاسی عزم کا ہوگا۔

حکومت کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ تاجروں کی جانب سے مزاحمت کی پہلی علامت دیکھتے ہی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

مسلم لیگ (ن) کو اب اپنی اس دیرینہ شہرت کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ وہ مالیاتی ڈسپلن اور اقتصادی استحکام کی قیمت پر تاجروں کے احتجاج کے سامنے بہت جلد گھٹنے ٹیک دیتی ہے کیونکہ پاکستان اب اس طرح کی سیاسی مصلحت پسندی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کسی بھی کوشش کو مستقل مزاجی اور سختی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا، تب ہی اس کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف