تمام بندرگاہوں اور بارڈر کسٹمز پر نظرثانی شدہ کارگو ڈیکلریشن آئی جی ایم کا اطلاق 15 اگست سے ہوگا
- ایس آر او 918(I)/2026 کے مطابق درآمد کنندگان کے لیے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) یا فری ٹیکس نمبر (ایف ٹی این) کا اندراج لازمی ہوگا
وفاقی بجٹ 2026-27 کے اعلان سے دو روز قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے درآمد کنندگان کے کارگو ڈیکلریشن-آئی جی ایم (آمدہ کارگو ڈیکلریشن) میں ترمیم کر دی ہے، جو 15 اگست 2026 سے تمام بندرگاہوں اور بارڈر کسٹمز اسٹیشنز پر نافذ العمل ہوگی۔
ایس آر او 918(I)/2026 کے مطابق درآمد کنندگان کے لیے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) یا فری ٹیکس نمبر (ایف ٹی این) کا اندراج لازمی ہوگا، جو متعلقہ قوانین کے تحت حاصل کرنا ضروری ہے۔ جن صورتوں میں درآمد کنندگان کے لیے این ٹی این یا ایف ٹی این حاصل کرنا قانوناً لازم نہیں ہوگا، وہاں ان کے قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) یا پاسپورٹ نمبر کا اندراج کیا جائے گا۔
اس نوٹیفکیشن کے اطلاق کی تاریخ 15 اگست 2026 مقرر کی گئی ہے، جو تمام سمندری بندرگاہوں اور بارڈر کسٹمز اسٹیشنز پر نافذ ہوگی، تاہم یہ حکم نامہ ہوائی اڈوں پر جمع کرائے جانے والے آئی جی ایمز پر لاگو نہیں ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کارگو سے متعلق معلومات، بشمول ضمیمہ-تھری کے تحت دی جانے والی تفصیلات، ویسل انٹیمیشن رپورٹ ( وی آئی آر) موصول ہونے کے بعد یا جہاز کی آمد کے متوقع وقت (ای ٹی اے) سے 18 گھنٹے قبل کسی بھی وقت آن لائن بغیر کسی فیس کے جمع کرائی جائیں گی۔
تاہم نان ویسل آپریٹنگ کامن کیریئر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ وی آئی آر نمبر کے تحت اور متعلقہ بل آف لیڈنگ کے مطابق آنے والے کارگو کا آئی جی ایم جمع کرائیں، جیسا کہ کیریئر یا اس کے ایجنٹ کی جانب سے وی آئی آر میں ظاہر کیا گیا ہو۔
مزید کہا گیا ہے کہ اگر لوڈنگ پورٹ دبئی، جبل علی، خور فکان، صلالہ، فجیرہ، بندر عباس، ممبئی، نہوا شیوا، منڈرا، کنڈلا اور مینا قابوس ہو، تو اس صورت میں کارگو معلومات ای ٹی اے سے 12 گھنٹے قبل بغیر کسی چارج کے جمع کرائی جا سکیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments