پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز برقرار رکھتا ہے، دفترِ خارجہ
- دریائے چناب کے پانی کا رخ موڑ کر دریائے بیاس کے نظام میں شامل کرنا سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے، ترجمان طاہر اندرابی
پاکستان نے واضح طور پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیوٹی) کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ اور اہم قومی مفادات کی پاسداری کے لیے تمام ضروری آپشنز برقرار رکھتا ہے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بھارتی حکومت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس میں منتقل کرنے کے منصوبے کے لیے ٹینڈر (بولیوں) کی دعوت سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔
ترجمان نے کہا کہ دریائے چناب کے پانی کا رخ موڑ کر دریائے بیاس کے نظام میں شامل کرنا نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاہدوں کے قوانین خصوصاً ویانا کنونشن اور بین الاقوامی آبی قوانین بشمول 1997 کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن کے اصولوں کو بھی نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں واقع سلال ڈیم کے ریزروائر سے مٹی کی صفائی (سلٹ فلشنگ) کے مج مجوزہ منصوبے کو بھی شدید تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سے پانی پر کنٹرول کی ایسی صلاحیت حاصل ہو جائے گی جس کی اجازت نہ تو سندھ طاس معاہدے میں ہے اور نہ ہی 1978 کے سلال معاہدے میں دی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے ان منصوبوں کے بارے میں نہ تو باضابطہ طور پر کوئی رابطہ کیا ہے نہ کوئی نوٹس شیئر کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی مشاورت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے، جس کے خطرناک اثرات نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی، خوراک اور معاشی تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کے 25 کروڑ عوام کی بقا اور بہبود کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی غیر قانونی اقدام ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے اقدامات جنوبی ایشیا کو مزید عدم استحکام کا شکار کریں گے جس کے پورے خطے کے عوام کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت سے کہیں کہ وہ پانی کو دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرنے سے باز رہے، ایسے منصوبوں کو ترک کرے جن کا مقصد پاکستان کے قانونی پانی کو روکنا، کم کرنا یا اس کا رخ موڑنا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کو بحال کرے۔
سوئس سفیر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی شخصیت کا دورہ جموں و کشمیر کی اس حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا، جس کا حل ایک آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا ابھی باقی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ابراہم ایکارڈز پر پاکستان کا موقف مستقل ہے۔ ہمارا معیار 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار اور جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور اس سلسلے میں ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تازہ بیان پر کہ آنے والے ویک اینڈ پر ایران کے ساتھ مذاکرات کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، ترجمان نے اسے ایک مثبت جذبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے مذاکرات کی دوبارہ ميزبانی کے لیے تیار ہے اور وہ چاہے گا کہ یہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے۔


Comments