بجلی قوانین، قومی اسمبلی کمیٹی نے بغیر بحث دو بلز کی منظوری دیدی
- بل مقصد فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنا اور بجلی کی خرید و فروخت کے نئے ماڈل (بی ٹو بی مارکیٹ) کو بروقت فعال بنانا ہے۔
قومی اسمبلی کی توانائی سے متعلق قائمہ کمیٹی نے منگل کے روز بغیر بحث کے بجلی کے قوانین میں دو اہم ترامیم کی منظوری دے دی، جن کا مقصد فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنا اور اوپن ایکسیس اور وہیلنگ کے ذریعے کاروباری سطح پر بجلی کی خرید و فروخت کے نئے ماڈل (بی ٹو بی مارکیٹ) کو بروقت فعال بنانا ہے۔
اجلاس کی صدارت ایم این اے شیخ آفتاب احمد نے کی، کیونکہ کمیٹی کے چیئرمین محمد ادریس اپنے آبائی علاقے میں موجود تھے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے دو مجوزہ ترامیم پیش کی گئیں، جن میں ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور (ترمیمی بل) 2026 اور الیکٹرسٹی (ترمیمی بل) 2026 شامل تھے۔
پاور ڈویژن کے مطابق 1997 کے ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کا مقصد پاور سیکٹر کے بدلتے ہوئے ڈھانچے کے مطابق قانونی فریم ورک کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ ان ترامیم کے تحت وفاقی حکومت کے الفاظ کو تبدیل کرکے مجاز اتھارٹیز کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ انتظامی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور فیصلوں میں تیزی لائی جا سکے۔
اوپن ایکسیس اور وہیلنگ کو فروغ دینے کے لیے یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ بڑے بجلی صارفین کے لیے بجلی کی خریداری سے دستبرداری کے نوٹس کی مدت ایک سال سے کم کرکے دو ماہ کر دی جائے، تاکہ مسابقتی بی ٹو بی مارکیٹ جلد شروع ہو سکے۔
پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ قانونی تقاضے مارکیٹ کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور اب انہیں موجودہ زمینی حقائق کے مطابق تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح ڈسٹری بیوشن کمپنی کی اصطلاح کو بھی تبدیل کرکے سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب 1910 کے الیکٹرسٹی ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے اختیارات کو وفاقی حکومت سے متعلقہ اداروں کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ معمول کے انتظامی امور میں تاخیر کم ہو اور فیصلہ سازی تیز ہو سکے۔
اجلاس میں ایم این اے راجہ قمر الاسلام نے رائے دی کہ یہ ترامیم محض طریقہ کار سے متعلق ہیں اور ان پر بحث کی ضرورت نہیں۔ کمیٹی نے اتفاق کرتے ہوئے دونوں بلز کی منظوری بغیر بحث کے دے دی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments