جے ایس بینک کی سیکیورٹی انفورسمنٹ کے بعد ٹی آر جی پاکستان میں ضیاء چشتی کے شیئرز 1.2 فیصد رہ گئے
ٹی آر جی پاکستان نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جے ایس بینک کی جانب سے 21 مئی 2026ء کو حاصل کیے گئے شیئرز کمپنی کے شریک بانی اور سابق چیئرمین ضیاء چشتی کے تھے۔
اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں ٹی آر جی پاکستان نے بتایا کہ اسے اپنی ایسوسی ایٹ کمپنی دی ریسورس گروپ انٹرنیشنل لمیٹڈ (ٹی آر جی آئی) نے مطلع کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ میں ضیاء چشتی کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران چشتی نے حلفیہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ بالا شیئرز ان کے اکاؤنٹ سے منتقل ہوئے۔ نوٹس کے مطابق شیئرز کی یہ منتقلی اس کال (ڈیمانڈ) کے نتیجے میں عمل میں آئی جو ان شیئرز پر کی گئی تھی جنہیں ضیاء چشتی نے جے ایس بینک سے لیے گئے قرض کے لیے بطور ضمانت رکھوایا ہوا تھا۔
ٹی آر جی آئی نے مزید کہا کہ وہ 2025ء کے اوائل میں امریکہ میں اپنے حق میں آنے والے ایک ثالثی فیصلے (آربیٹریشن رولنگ) کے پیشِ نظر اس طرح کے کسی بھی شیئرز کی منتقلی کی قانونی حیثیت کے حوالے سے اپنے تمام حقوق محفوظ رکھتی ہے۔
ٹی آر جی پاکستان نے مزید کہا کہ اسے اس ٹرانزیکشن کے حوالے سے ضیاء چشتی کی جانب سے تاحال کوئی ڈسکلوژر موصول نہیں ہوا۔
اس منتقلی کے بعد جے ایس گروپ اور اس کے دیگر ارکان کے پاس ٹی آر جی پاکستان کے 159,980,453 حصص (29.3 فیصد) موجود ہیں جبکہ چشتی کے پاس 6,557,500 حصص (1.2 فیصد) ہیں۔
گزشتہ ہفتے جے ایس بینک نے مطلع کیا تھا کہ اس نے سیکیورٹی نفاذ کے ذریعے 62.92 روپے فی شیئر کے حساب سے ٹی آر جی پاکستان لمیٹڈ کے تقریباً 81.36 ملین شیئرز حاصل کیے ہیں جو کمپنی کے کل حصص کا 14.92 فیصد بنتے ہیں۔
اسٹاک ایکسچینج کو 25 مئی 2026 کو دیے گئے نوٹس میں جے ایس بینک نے کہا کہ یہ ٹرانزیکشن جو اس کے مطابق 21 مئی کو ہوئی، ایکٹ کے سیکشن 109(1)(c) کے تحت حصہ IX کا اطلاق نہیں کرتی۔
اس حصول سے قبل جے ایس بینک لمیٹڈ اور اس کے ساتھ مل کر کام کرنے والے افراد کے پاس کمپنی کے 78,622,164 حصص تھے جو 14.41 فیصد بنتے ہیں۔ انفورسمنٹ آف سیکیورٹی کے ذریعے حصص کے حصول کے بعد کمپنی میں ہماری مجموعی شیئر ہولڈنگ 159,980,453 حصص ہو گئی ہے جو کمپنی کے کل جاری ووٹنگ حصص کا 29.33 فیصد ہے۔
جنوری 2025ء میں جے ایس بینک لمیٹڈ کی جانب سے ٹی آر جی پاکستان کے بانی اور سابق سی ای او ضیاء چشتی کو بھیجی گئی ایک انٹیمیشن میں مالیاتی ادارے نے انہیں نادہندگی (ایونٹ آف ڈیفالٹ) اور 2.59 ارب روپے کی کریڈٹ سہولت حاصل کرنے کے لیے ان کی طرف سے گروی رکھے گئے شیئرز کے بارے میں مطلع کیا تھا۔ اس وقت جے ایس بینک نے خط میں کہا تھا جس کی ایک کاپی بزنس ریکارڈر کے پاس موجود ہے کہ وہ ان شیئرز کے تقریباً دو تہائی حصے تک گروی کو طلب کرنے اور اسے نافذ کرنے کے اپنے حق کا استعمال کررہا ہے جبکہ بقیہ گروی رکھے گئے شیئرز کو اپنے حق میں برقرار رکھ رہا ہے۔
ملک کے واحد سیکیورٹیز ڈپازٹری ادارے سینٹرل ڈپازٹری کمپنی کی دسمبر 2024ء کی ایک دستاویز سے بھی یہ اشارہ ملا تھا کہ ضیاء چشتی کے شیئرز (پوزیشن) تقریباً مکمل طور پر گروی (پلیج) رکھے ہوئے تھے جبکہ باقی ماندہ معمولی سی تعداد کو منجمد (فریز) کردیا گیا تھا۔
ٹی آر جی پاکستان کے حوالے سے یہ وہ تازہ ترین پیشرفت ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے خبروں کی شہ سرخیاں بنی ہوئی ہے۔ ابھی چند روز قبل ٹی آر جی پاکستان لمیٹڈ اور ضیاء چشتی کے مابین طویل عرصے سے جاری عدالتی لڑائی نے اس وقت ایک نیا رخ اختیار کر لیا جب امریکی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ چشتی کی طرف سے اٹھائے گئے بنیادی دعوے پہلے ہی 2022ء میں طے پانے والے ایک دستبرداری معاہدے (ریلیز ایگریمنٹ) کے تحت ختم (ویو) ہوچکے ہیں۔
اس وقت پی ایس ایکس کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں ٹی آر جی پاکستان نے بتایا تھا کہ نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کے لیے امریکی ضلعی عدالت نے فیصلہ برقرار رکھا ہے کہ ضیا چشتی کی جانب سے کمپنی اور اس سے وابستہ اداروں (ایفی لی ایٹس) کے خلاف 10 جنوری 2022ء کے دستبرداری کے معاہدے (ریلیز ایگریمنٹ) کی تاریخ سے پہلے کیے گئے اقدامات سے متعلق تمام دعوے ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکے ہیں اور ان پر اب کسی بھی فورم پر کارروائی یا سماعت نہیں کی جا سکتی۔
ڈس کلیمر: بزنس ریکارڈر سے وابستہ ایک بورڈ رکن، ٹی آر جی کے بورڈ میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم تمام آراء مکمل طور پر آزاد اور غیر جانبدار ہیں۔


Comments