واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک پھٹ گیا، ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی
- ابتدائی طور پر دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ 9 افراد لاپتا قرار دیے گئے تھے
امریکہ کی ریاست واشنگٹن میں ایک کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے، جب امدادی ٹیموں نے لاپتا تمام 9 افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لیں۔ حکام نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے۔
واقعہ منگل کے روز پیش آیا تھا جب جاپانی کمپنی نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ کے صنعتی پلانٹ میں موجود وائٹ لکر سے بھرا ایک بڑا کیمیائی ٹینک اچانک اندر کی جانب دھنس کر پھٹ گیا۔ ابتدائی طور پر دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ 9 افراد لاپتا قرار دیے گئے تھے۔
وائٹ لکر سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ایک کیمیائی محلول ہے، جو کاغذ کے گودے (پیپر پلپ) کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ حادثے کے بعد ریسکیو اور ریکوری ٹیموں نے کئی روز تک ملبے میں تلاش کا عمل جاری رکھا۔ اس دوران عمارت کے اندر موجود متاثرہ حصوں کی چھان بین کی گئی جبکہ ڈرونز کی مدد سے پلانٹ کے اطراف کے علاقے کا بھی جائزہ لیا جاتا رہا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ کے مطابق لاپتا تمام افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن، یعنی 34 لاکھ لیٹر، وائٹ لکر موجود تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کیمیائی مادہ قریبی دریائے کولمبیا میں بھی شامل ہو گیا تھا۔ تاہم ماحولیاتی اور صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کے شواہد نہیں ملے۔
نپون پیپر انڈسٹریز، جو فروخت کے اعتبار سے جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی ہے، نے 2016 میں سیئٹل کی وویر ہاؤزر کمپنی سے لانگ ویو پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا اور بعد ازاں نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ کے نام سے ذیلی ادارہ قائم کیا تھا۔ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔


Comments