ایران پر تازہ امریکی حملے،ممکنہ معاہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی، عالمی تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد اضافہ
- عالمی بینچ مارک برینٹ 3.78 ڈالر یا 3.9 فیصد بڑھ کر 99.92 ڈالر فی بیرل ہو گیا
امریکی فوج کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے بعد منگل کے روز برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے غیر ملکی جہاز رانی تقریباً مکمل طور پر روک دی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی معیار برینٹ خام تیل 10:50 صبح (ای ٹی) تک 3.78 ڈالر یا 3.9 فیصد اضافے کے ساتھ 99.92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 2.88 ڈالر یا 3.0 فیصد کمی کے ساتھ 93.72 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 20 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بند ہوئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ امن کی توقعات منگل کے روز ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمتوں میں بھی جھلکیں، کیونکہ میموریل ڈے کی تعطیل کے باعث پیر کو اس کا سیٹلمنٹ نہیں ہو سکا تھا۔
منگل کے روز ڈبلیو ٹی آئی بھی 22 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بند ہونے کی سمت میں تھا۔
دوسری جانب ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جب کہ امریکی فوج نے جنوبی ایران میں وہ حملے کیے جنہیں واشنگٹن نے ”دفاعی کارروائیاں“ قرار دیا۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ روکنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدے پر بات چیت میں “کچھ دن لگ سکتے ہیں“۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ہرمزگان صوبے میں امریکی حملے، جہاں ایرانی میڈیا کے مطابق منگل کی صبح دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اس نازک جنگ بندی کی ”واضح خلاف ورزی“ ہیں جو تقریباً سات ہفتوں سے جاری تھی۔
دونوں فریقین نے ایک مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کا اشارہ دیا ہے، جس کے تحت جنگ روکی جا سکتی ہے اور بند آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ بحال ہو سکتی ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت پیچیدہ معاملات پر 60 روز تک مذاکرات جاری رہیں گے۔
یو بی ایس کے جیوانی اسٹانوو کے مطابق ابھی ممکنہ معاہدے سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بدستور محدود ہے۔
امریکی حملوں کے وقت ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور وزیرِ خارجہ دوحہ میں قطر کے وزیرِ اعظم کے ساتھ امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات چیت میں مصروف تھے، جس کا مقصد تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ساکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن کے مطابق اگرچہ فریقین کے درمیان اختلافات کم ہو رہے ہیں، تاہم کسی بھی حتمی امن معاہدے کے نتیجے میں فوری بحالی کے بجائے بتدریج بحالی متوقع ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں موجود تنگی کے اثرات کو معمول پر آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور شپنگ صورتحال
نکیئی کی رپورٹ کے مطابق، ایک مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہوگا، جس کے بعد تمام ممالک کے بحری جہاز آزادانہ اور محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے، جبکہ تہران ٹرانزٹ فیس وصولی بھی ختم کر دے گا۔
جہازوں کی ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ دنوں میں تین ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، جو پاکستان، چین اور بھارت کی جانب جا رہے تھے، جبکہ عراق سے خام تیل لے جانے والا ایک بڑا سپر ٹینکر بھی چین روانہ ہوا جو تقریباً تین ماہ سے وہاں پھنس گیا تھا۔
امریکی مؤقف اور مارکیٹ خدشات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرے تاکہ اسے تلف کیا جا سکے۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سی کیمور کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی واضح یاددہانی ہے کہ ممکنہ معاہدہ آخری لمحات میں بھی ناکام ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی کی پانچ کوششوں میں ہو چکا ہے۔


Comments