ٹرمپ کے ایران امریکہ مذاکرات آخری مراحل میں کہنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں 4.28 فیصد کمی
- برینٹ کروڈ فیوچرز 4.76 ڈالر یا 4.28 فیصد گر کر 106.52 ڈالر فی بیرل ہو گئے
تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز اس وقت 4 فیصد کمی واقع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’حتمی مراحل‘ میں ہیں، تاہم سرمایہ کار اب بھی امن مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے محتاط ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کی سپلائی میں رکاوٹ جاری ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 4.76 ڈالر یا 4.28 فیصد گر کر 106.52 ڈالر فی بیرل ہو گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) فیوچرز 4.22 ڈالر یا 4.05 فیصد کمی کے ساتھ 99.93 ڈالر پر پہنچ گئے۔ دونوں معاہدے دو ہفتوں میں اپنے فیصدی اور مطلق پیمانے پر سب سے بڑی روزانہ کمی کی جانب جا رہے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ایران معاہدے پر متفق نہیں ہوتا، مزید حملوں کا خطرہ موجود ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کے روز رپورٹرز سے کہا ہے کہ ”ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کے حتمی مراحل میں ہیں۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ یا تو معاہدہ ہو جائے گا یا ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو تھوڑے سخت ہوں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔“
تاہم، کچھ مارکیٹ کے شرکاء اور تجزیہ کار مذاکرات کے نتائج اور عالمی تیل کی سپلائی کی تنگی کے حوالے سے اب بھی محتاط ہیں، جو ممکنہ طور پر تب بھی برقرار رہے گی اگر امریکہ اور ایران معاہدے پر پہنچ جائیں۔
سیٹی کے تجزیہ کاروں نے منگل کو کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ برینٹ کروڈ قریبی مستقبل میں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گا، اور بتایا کہ تیل کی مارکیٹیں طویل مدتی سپلائی میں خلل کے خطرے کو کم پرکھ رہی ہیں۔ اسی طرح ووڈ میکینزی نے اندازہ لگایا کہ اگر ہرمز کے تنگ گزرگاہ (اسٹریٹ آف ہومز) کا زیادہ حصہ سال کے آخر تک بند رہے تو قیمت 200 ڈالر تک جا سکتی ہے۔
اسی طرح، پی وی ایم کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ عالمی تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ پی وی ایم نے کہا کہ ”تاہم، جیسا کہ حال ہی میں دیکھا گیا ہے، مارکیٹ کے کھلاڑی اس تنازع کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے نسبتاً لاپرواہ ہیں۔“
برینٹ کے اگلے مہینے کی ترسیل کے معاہدوں پر چھ ماہ بعد کی ترسیل کے معاہدوں کے مقابلے میں پریمیم، جو موجودہ سپلائی کی سختی کے حوالے سے تاجروں کے خیالات کی نشاندہی کرتا ہے، تقریباً 20 ڈالر فی بیرل ہے، جو پچھلے ماہ 35 ڈالر سے زیادہ کی بلند سطح سے کافی کم ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس (ٹی اے ایس ایس) نے رپورٹ کیا۔روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے بدھ کو کہا کہ کچھ ممالک روسی تیل پر عائد پابندیاں اٹھا رہے ہیں کیونکہ عالمی مارکیٹیں اس کے بغیر کام نہیں کر سکتی، جیسا کہ سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹی اے ایس ایس نے رپورٹ کیا۔
بدھ کو تین سپرٹینکر ہرمز کے تنگ گزرگاہ سے گزر رہے تھے، جو ایشیائی مارکیٹوں کے لیے تیل لے جا رہے تھے، جبکہ دو ماہ سے خلیج میں انتظار کر رہے تھے اور ان میں 6 ملین بیرل مشرق وسطیٰ کا تیل موجود تھا۔ تنگ گزرگاہ سے گذرنے والے جہازوں کی تعداد ابھی بھی جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 130 جہازوں سے بہت کم ہے۔
یو اے ای کے ایڈنوک کے چیف ایگزیکٹو سلطان الجابر نے بدھ کو کہا کہ تنازع سے پہلے کے بہاؤ کے 80 فیصد تک پہنچنے میں کم از کم چار ماہ لگیں گے۔
سپلائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ممالک تجارتی اور اسٹریٹجک ذخائر پر انحصار کر رہے ہیں۔
امریکی خام تیل کے ذخائر گزشتہ ہفتے کم ہو گئے کیونکہ طلب زیادہ رہی، جیسا کہ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن ( ای آئی اے ) نے بدھ کو بتایا۔ ای آئی اے کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں 7.9 ملین بیرل کی کمی ہوئی اور یہ 445 ملین بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ رائٹرز کے ایک پول میں تجزیہ کاروں کی توقع تھی کہ ذخائر میں صرف 2.9 ملین بیرل کی کمی ہوگی۔


Comments