واحد عالمی طاقت کا زوال اور بدلتی دنیا
- بیجنگ نے بغیر لچک دکھائے مذاکرات کیے، جہاں امریکہ بے چین اور چین پرسکون نظر آیا
ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ کی دہلیز پر اسٹریٹجک ریلیف کی امیدیں سجائے پہنچے تو تھے مگر واپسی پر ان کی جھولی میں محض نپے تلے اور ڈرامائی انداز میں سجے ہوئے علامتی مناظر کے سوا کچھ نہ آیا۔ یہ ایک ایسا نتیجہ تھا جسے آنے والے وقتوں میں اس سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے کسی بھی رسمی اعلامیے سے کہیں زیادہ تاریخی، دور رس اور فیصلہ کن موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ان علامتی مناظر ہی کا جیو پولیٹیکل وزن اس قدر غیر معمولی تھا کہ دنیا بدلتی ہوئی حقیقت کو دیکھ سکتی تھی۔ وہ امریکی صدر جس کی انتخابی مہم کا محور ہی ناقابلِ تسخیر امریکی طاقت کی بحالی تھا اب مشرقِ وسطیٰ کی دلدل میں پھنسی ایک مہنگی جنگ، تیل کی بڑھتی قیمتوں، سنگین مالیاتی دباؤ اور کسی بھی نتیجے پر اکیلے اثر انداز ہونے کی واشنگٹن کی دم توڑتی صلاحیت کے باعث شی جن پنگ کے سامنے بالکل بے بس اور کمزور پوزیشن میں مذاکرات کی میز پر بیٹھا نظر آیا۔
دوسری طرف چین نے صبر و تحمل، استحکام اور خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا۔ بیجنگ نے گرمجوشی سے بات چیت کی، تجارت اور توانائی پر بات چیت کی پیشکش کی اور مکالمے کو برقرار رکھنے کی آمادگی کا اشارہ بھی دیا لیکن کسی بھی بامعنی پسپائی یا رعایت سے گریز کیا۔ یہ تضاد اتنا واضح تھا کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ ایک فریق وقتی ریلیف کے لیے بے چین نظر آ رہا تھا جبکہ دوسرا فریق ایک ایسی طاقت کی طرح برتاؤ کر رہا تھا جو تاریخ کے دھارے کے ساتھ آگے بڑھنے پر پوری طرح مطمئن ہو۔
یہ تاثر محض ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) یا تجارتی اشیاء کی خریداری کی تفصیلات تک محدود نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے کی ملاقات نے اس وسیع تر نتیجے کو مزید تقویت دی ہے جو اب دنیا کے ایک بڑے حصے میں جڑ پکڑ رہا ہے: یعنی سوویت یونین کے زوال کے بعد شروع ہونے والا یک قطبی (یونی پولر) دور اب ختم ہو رہا ہے اور عالمی طاقت کی منتقلی کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
تاریخی اعتبار سے ایسے لمحات شاذ و نادر ہی پرامن رہے ہیں۔ غالب طاقتوں کے درمیان منتقلی کا عمل اکثر تنازعات، جبر اور طویل عدم استحکام کے ذریعے ہی طے پایا ہے۔ یورپ میں ہسپانوی بالادستی سے فرانسیسی بالادستی کی طرف منتقلی پورے براعظم میں جنگوں اور حملوں کا باعث بنی۔ فرانس پر برطانیہ کے عروج کا انجام بڑی سامراجی جنگوں کی صورت میں ہوا، جن کے اثرات شمالی امریکہ اور عالمی تجارتی راستوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ اسی طرح ڈچ (ہالینڈ) کی تجارتی بالادستی کا زوال بھی جیو پولیٹیکل کشمکش کے سائے میں ہی ہوا۔ اس پوری تاریخ میں سب سے نمایاں استثنیٰ برطانیہ سے ریاست ہائےمتحدہ امریکہ کو اقتدار کی پرامن منتقلی تھا، جس میں کسی حد تک ثقافتی ہم آہنگی اور دو عالمی جنگوں کے غیر معمولی حالات نے آسانی پیدا کی تھی۔
آج کا اصل خطرہ یہ ہے کہ موجودہ جدید دنیا ماضی کے کسی بھی سامراجی منتقلی کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ آپس میں جڑی ہوئی، مالیاتی طور پر مربوط اور عسکری طور پر تباہ کن ہے۔ اکیسویں صدی میں بڑی طاقتوں کا ٹکراؤ محض میدانِ جنگ یا بحری تجارتی راستوں تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ بیک وقت توانائی کی منڈیوں، سپلائی چینز، مالیاتی نظاموں اور پورے خطوں کو چشم زدن میں عدم استحکام کا شکار کر دے گا۔
یہی وجہ ہے کہ حالیہ سربراہی اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ٹرمپ کے اس دورے نے درحقیقت ان حقائق کو تسلیم کر لیا ہے جن کی واشنگٹن برسوں سے مزاحمت کر رہا تھا۔ چین اب محض ایک ابھرتی ہوئی طاقت نہیں رہا، بلکہ وہ عالمی معیشت کے پہیے کو چلانے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے اور سفارت کاری، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور تجارت میں اس کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بیجنگ کو تنہا کرنے یا اقتصادی طور پر محصور کرنے کی کوششوں کے نتائج انتہائی محدود رہے ہیں، جبکہ خود عالمی نظام پر اس کی لاگت اور نقصانات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ کے پاس اب بھی بے پناہ اسٹریٹیجک اور بنیادی طاقت موجود ہے۔ اس کی مالیاتی منڈیاں اب بھی حاوی ہیں، ڈالر بدستورعالمی ریزرو کرنسی کے طور پر کام کر رہا ہے اور امریکہ کی جدت طرازی (اننوویشن) کی صلاحیت اب بھی لاجواب ہےمگربڑی طاقتیں محض بیرونی مقابلے کی وجہ سے زوال پذیر نہیں ہوتیں۔ اس کے برعکس وہ اکثر اسٹریٹجک حد سے تجاوز (اوور ریچ)، اندرونی پولرائزیشن (شدید نظریاتی تقسیم) اور بار بار کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں اندر سے کمزور ہوتی ہیں۔
ایران جنگ نے ان دباؤز کو کافی حد تک بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ کے ایک اور تصادم میں یہ سوچ کر کودا تھا کہ اسے فوری طور پر جابرانہ کامیابی مل جائے گی۔تاہم اس کے برعکس اس تنازع نے بحری جہاز رانی کے راستوں کو درہم برہم کر دیا، تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا اور عالمی توانائی کی منڈیوں کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا۔ اس کے بعد تجارتی اور علاقائی تناؤ کو مستحکم کرنے کے لیے چینی تعاون کے لیے ٹرمپ کی ضرورت نے اس تاثر کو مزید گہرا کر دیا کہ امریکی دباؤ اب اتنا فیصلہ کن نہیں رہا جتنا کہ کبھی ہوا کرتا تھا۔
یہی وہ موڑ ہے جہاں صبر و تحمل اور خود پر قابو پانا انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ زوال پذیر طاقتیں اکثر اس وقت جارحانہ ردعمل ظاہر کرتی ہیں جب انہیں اپنی بالادستی کے نسبتی نقصان کا سامنا ہوتا ہے۔ معاشی دباؤ، پراکسی جنگیں اور عسکری تناؤ ان کے لیے سٹریٹجک ایڈجسٹمنٹ (حکمتِ عملی کی تبدیلی) کو مؤخر کرنے کے اوزار بن جاتے ہیں۔ لیکن نیوکلیئر ہتھیاروں، گلوبلائزڈ فنانس اور آپس میں جڑی ہوئی سپلائی چینز کے اس دور میں، ایسے ردعمل کے خطرات خود ان بڑی طاقتوں کی حدود سے کہیں آگے تک پھیل جاتے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک ان خطرات کو بخوبی اور شدت سے سمجھتے ہیں۔ عالمی معیشت واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ہونے والی ہر کشیدگی کے سامنے انتہائی کمزور ہے، چاہے وہ تجارتی جنگوں کی صورت میں ہو، مالیاتی تقسیم کی شکل میں یا پھر عسکری تصادم کے روپ میں دکھائی دیتی ہو۔ تیل درآمد کرنے والے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ممالک اکثر دوسری جگہوں پر پیدا ہونے والے جیو پولیٹیکل عدم استحکام کا سب سے پہلا شکار بنتے ہیں۔
اس لیے امریکہ کے لیے اصل چیلنج جتنا اسٹریٹجک ہے اتنا ہی نفسیاتی بھی ہے۔ ایک یونی پولر دنیا کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اثر و رسوخ چھوڑ دیا جائے یا مقابلے سے دستبردار ہو جایا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ تسلیم کرنا ہے کہ عالمی استحکام کو برقرار رکھنا اب مطلق بالادستی کو برقرار رکھنے سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔
دوسرا راستہ تاریخ کی اپنی رفتار کے خلاف ایک طویل اور تیزی سے خطرناک ہوتی ہوئی جنگ ہے اور تاریخ میں ایسی بہت ہی کم مثالیں ملتی ہیں جہاں اس طرح کی ضد یا مزاحمت کا انجام زوال پذیر طاقت یا اس کے آس پاس کی وسیع تر دنیا کے لیے اچھا ہوا ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026


Comments