پیٹرولیم لیوی کے سیاسی اور معاشی اثرات
- لیاری کا مزدور ہو یا کلفٹن کا سیٹھ، پیٹرولیم لیوی سب کے لیے برابر، بوجھ صرف غریب پر
جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں ایک ہفتے میں 10 فیصد تک گریں تو اسلام آباد نے پیٹرولیم لیوی میں 13.5 فیصد اضافہ کر دیا۔
گزشتہ 70 دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں 55.8 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ عالمی مارکیٹ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے۔ وہ آلہ جو صارفین کے لیے ڈھال کے طور پر شروع کیا گیا تھا اب وفاقی آمدنی کا ایک ایسا ذریعہ بن چکا ہے جو صوبوں کے ساتھ حصہ داری (این ایف سی) سے بچتا ہے، مہنگائی کو ہوا دیتا ہے اور معیشت کو ایک نقصان دہ پالیسی تضاد کی طرف دھکیل رہا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم لیوی کا تصور ایک مالیاتی جھٹکا جذب کرنے والے کے طور پر کیا گیا تھا، تاکہ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں تو اسے کم کر کے صارفین کو ریلیف دیا جائے اور جب قیمتیں گریں تو اسے بڑھا کر حکومتی آمدنی کو مستحکم کیا جائے۔
عملی طور پر یہ طریقہ کار صرف ایک ہی سمت میں کام کرتا ہے۔ یکم مئی سے 9 مئی کے درمیان برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 10 فیصد گر کر 105 ڈالر سے 95 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ صارفین کو کوئی ریلیف منتقل کرنے کے بجائے حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں 13.91 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، یعنی 103.50 روپے سے بڑھا کر 117.41 روپے کر دی جس سے ریٹیل قیمت 414.78 روپے تک پہنچ گئی۔
وسیع تر رجحان اس سے بھی زیادہ چشم کشا ہے۔ یکم مارچ سے اب تک پیٹرول کی قیمت 266.17 روپے فی لیٹر (جس میں 84.40 روپے لیوی تھی) سے بڑھ کر 414.78 روپے (جس میں 117.41 روپے لیوی ہے) ہو چکی ہے۔ یہ قیمتوں میں 55.8 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جس میں صرف 70 دنوں کے اندر لیوی کے جزو میں 39.1 فیصد اضافہ شامل ہے۔
جو چیز استحکام کے آلے کے طور پر بنائی گئی تھی وہ خاموشی سے ایک طاقتور ریونیو مشین میں تبدیل ہو چکی ہے جو صوبائی حصہ داری کو نظر انداز کرتی ہے، مہنگائی بڑھاتی اور فیول اسٹیشن سے کہیں زیادہ معاشی لاگت مسلط کرتی ہے۔
پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کا پسندیدہ ہتھیار کیوں بن گئی ہے؟ اس کی کشش پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں چھپی ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے برعکس جو ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے ساتھ بانٹا جاتا ہے، پیٹرولیم لیوی کو نان ٹیکس ریونیو کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے اور یہ مکمل طور پر وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے۔ جمع ہونے والا ہر روپیہ ڈیویزیبل پول سے باہر براہِ راست اسلام آباد کے پاس جاتا ہے۔
اس کی معاشی لاگت اب مہنگائی کی صورت میں واضح ہے۔ اپریل 2026 میں پاکستان میں افراطِ زر (سی پی آئی) سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گیا، جو جولائی 2024 (11.1 فیصد) کے بعد پہلی بار دوبارہ دہرے ہندسے میں داخل ہوا ہے اور اس کی بڑی وجہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔ سی پی آئی باسکٹ میں رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن (جس کا وزن 23.63 فیصد ہے) نے 3.52 فیصد پوائنٹس، جبکہ ٹرانسپورٹ (جس کا وزن 5.91 فیصد ہے) نے مزید 2.06 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا۔اپریل کی مہنگائی میں نصف سے زائد حصہ صرف ایندھن اور اس سے وابستہ شعبوں کا رہا۔ یہ تو صرف براہِ راست اثرات ہیں۔
ایندھن زراعت، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور خوراک کی تقسیم میں بنیادی لاگت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ جب ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی پوری معیشت میں پھیل جاتی ہے۔
اس کا بوجھ بھی انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ فی لیٹر ایک مقررہ چارج کے طور پر یہ لیوی لیاری کے ایک دیہاڑی دار مزدور سے بھی وہی 117.41 روپے نکالتی ہے جو کلفٹن کے ایک کارپوریٹ ایگزیکٹو سے۔ ظاہری بوجھ برابر ہے لیکن آمدنی کے تناسب سے یہ بوجھ شدید غیر مساوی ہے۔ ایندھن کی بلند قیمتیں قوتِ خرید کو ختم کرتی ہیں، پیداواری لاگت بڑھاتی ہیں اور مہنگائی کو غذا فراہم کرتی ہیں۔
پھر بلند پالیسی ریٹس قرض لینے کی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، کریڈٹ گروتھ کو دباتے اور معاشی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں۔ گھرانوں کو جینے کے لیے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور کاروبار چلانے کے لیے زیادہ رقم درکار ہوتی ہے۔
شاید سب سے پریشان کن تضاد خود میکرو اکنامک پالیسی میں ہے۔ پیٹرولیم لیوی بڑھا کر حکومت براہِ راست معیشت میں کاسٹ پش (پیداواری لاگت سے پیدا ہونے والی) مہنگائی داخل کرتی ہے۔ پھر اسی مہنگائی کو سخت مانیٹری پالیسی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پالیسی ریٹ پہلے ہی بڑھ کر 11.5 فیصد ہو چکا ہے اور مارکیٹیں مہنگائی برقرار رہنے کی صورت میں مزید سختی کی توقع کر رہی ہیں۔ پاکستان خود ساختہ پالیسی سائیکل کے جال میں پھنس گیا ہے، جہاں ریاست کا ایک ہاتھ ایندھن پر ٹیکس لگا کر مہنگائی پیدا کر رہا ہے جبکہ دوسرا ہاتھ شرحِ سود بڑھا کر اسے دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ اضافہ تیل کی معاشیات سے زیادہ مالیاتی اہداف کی وجہ سے ہے۔ پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں مرجلہ وار مزید 53 روپے فی لیٹر اضافے کا اختیار دیا گیا تھا، 9 مئی کی نظرثانی اسی کی پہلی قسط ہے۔ جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران لیوی کی وصولیاں پہلے ہی 1.3 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ سالانہ ہدف 1.468 ٹریلین روپے ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں جتنی زیادہ گرتی ہیں لیوی کو مزید بڑھانے کا مالیاتی لالچ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔


Comments